تحریک لبیک پاکستان کا فیض آباد پر دھرنا

فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے راولپنڈی سے ایک احتجاجی ریلی نکالی جو اس وقت فیض آباد کے مقام پر دھرنے کی صورت میں موجود ہے۔

ریلی میں شریک تحریک  لبیک پاکستان کے کارکنان (تصویر: طارق انصاری ٹوئٹر اکاؤنٹ)

فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے اتوار کو راولپنڈی سے ایک احتجاجی ریلی نکالی جو اب دھرنے کی شکل اختار کر گئی ہے۔

ریلی کے شرکا اس وقت فیض آباد کے مقام پر موجود ہیں جبکہ اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے یہ ریلی اتوار کو راولپنڈی کے لیاقت باغ سے نکالی گئی جو مری روڈ سے ہوتی ہوئی رات کے وقت فیض آباد پر پہنچی۔ اس دوران اطلاعات کے مطابق ریلی کے شرکا اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور پولیس کی جانب سے ٹی ایل پی کے کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔

اس دوران راوالپنڈی اور اسلام آباد کی مرکزی شاہرائیں بند رہیں اور شہریوں کو موبائل سگنلز کی بندش کا سامنا بھی رہا جو کہ تاحال پوری طرح سے بحال نہیں کیے گئے ہیں۔

دارالحکومت اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستے جزوی طور پر بند ہیں، موبائل سگنلز کی انکھ مچولی جاری ہے اور انتظامیہ نے شہریوں سے غیرضروری سفر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر ٹریفک ڈائیورشنز لگائی گئی ہیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ کسی بھی دقت سے بچنے کے لیے غیر ضروری طور پر سفر کرنے سے اجتناب کریں۔‘

خیال رہے کہ تحریک لبیک پاکستان نے فرانس کے سفارت خانے کو بند کرکے سفیر کی بے دخلی کا مطالبہ کر رکھا ہے اور ریلی کے شرکا کا کہنا ہے کہ جب تک ان کا یہ مطالبہ پورا نہیں کیا جاتا تب تک وہ دارالحکومت اسلام آباد میں ہی رہیں گے۔

پولیس اور ریلی کے شرکا کے درمیان جھڑپوں کے حوالے سے ٹی ایل پی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے لیاقت باغ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے فیض آباد پُل تک مارچ کرنا تھا، تاہم پولیس نے مری روڈ کے کئی مقامات پر کنٹینر رکھ کر مظاہرین کو اسلام آباد کے داخلی راستے کی جانب جانے سے روک دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحریک لبیک کے مطابق پولیس نے مختلف مقامات سے درجنوں کارکنوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔

دوسری جانب پولیس کا موقف ہے کہ تحریک لبیک کے کارکنوں نے لیاقت روڈ پر کچھ دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔

پولیس کی طرف سے آنسو گیس کے استعمال کی وجہ سے لیاقت باغ کے قریبی آریہ محلے کے مکین بری طرح متاثر ہوئے۔

شہر کے حساس مقامات پر پولیس کے ساتھ رینجرز کو بھی تعینات کیا گیا تھا جبکہ اسلام آباد میں ریڈزون اور ڈپلومیٹک انکلیو کی طرف جانے والے راستے مکمل طور پر بند کرکے پولیس اور رینجرز کے دستے تعینات کیے گئے تھے۔

سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے ایکسپریس وے اور کشمیر ہائی وے پر ٹریفک کا دباؤ رہا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں بنی رہیں۔  دوسری جانب میٹرو بس سروس اور موبائل سروس بھی بند رہی۔

گذشتہ روز چودہ گھنٹے موبائل فون سروس کی معطلی اور راستوں کی بندش نے عوام کو ذہنی اذیت سے دو چار کیا۔ پیر کو ورکنگ ڈے ہونے کی وجہ سے راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے کئی سرکاری و نجی ملازمین کو شدید سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سوشل میڈیا پر موبائل اور انٹرنیٹ سگنل بند کرنے پر ایک صارف نے لکھا کہ دھرنا لبیک والے دیں اور موبائل سروس ہماری بند ہے۔

رات بھر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ 

مقامی صحافیوں کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں مشتعل مظاہرین اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے جبکہ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے شیلنگ کی۔

فیض آباد کے اطراف رہنے والی آبادی رات گئے ہونے والی شیلنگ کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی۔ رہائشی محمد رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کی نمائندہ مونا خان کو بتایا کہ آنسو گیس شیلنگ اتنی زیادہ تھی کہ گھر کے اندر سانس لینے میں دشواری رہی۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان