ڈسپوزیبل ماسک گلنے کے لیے 450 سال درکار

جدید تحقیق کے مطابق ڈسپوزیبل فیس ماسک کو تحلیل ہونے کے لیے 450 سال کا عرصہ درکار ہے نیز بہتر یہ ہے کہ ان ماسکس کو پھینکنے سے پہلے ان کی ڈوریاں کاٹ دی جائیں۔

اوشنز ایشیا کے سربراہ گیری سٹوکس ہانگ کانگ کے ایک ساحل سے جمع کیے گیے  پھینکے گئے ماسک دیکھا رہے ہیں (اے ایف پی فائل)

اپنی رہائش گاہ کی بالائی کھڑی سے باہر گلی میں جھانکتے ہوئے میں ان لوگوں کو دیکھ کر حیران ہو رہی ہوں جنہوں نے ابھی بھی روزانہ کی بنیاد پر ڈسپوزیبل فیس ماسک پہن رکھے ہیں۔ نوجوان، ادھیڑ عمر، امیر اور غریب، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایک بار استعمال ہونے والا ماسک تمام سماجی طبقات کی ایک جیسی ہی ترجیح ہے۔

لیکن جب ہمارے پاس ایک نعمت اور چہرہ ڈھکنے کے لیے دوبارہ استعمال ہونے والا سستا ذریعہ موجود ہے تو لوگوں کو ڈسپوزیبل ماسک پہنے دیکھنا ایک ناقابل فہم عمل ہے۔

مجھے غلط مت سمجھیں، جب برطانیہ بھر میں کرونا انفیکشن کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، لوگوں کو چہرہ ڈھانپے ہوئے دیکھنا ایک امید افزا بات ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور سائنس دانوں میں اس بارے میں عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ فیس ماسک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا موثر طریقہ ہیں، لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہے جب ان کو درست انداز سے پہنا جائے اور باقاعدگی سے تبدیل کیا جائے۔ برطانوی حکومت نے اب پبلک ٹرانسپورٹ اور بند مقامات پر اس کو قانونی طور پر ضروری قرار دیا ہے۔

تو یہ یقینی ہے کہ میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ کسی بھی قسم کا ماسک پہننا، ماسک نہ پہننے سے بہتر ہے۔

لیکن لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کا ایک بار قابل استعمال ماسک کو بار بار قابل استعمال ماسک پر ترجیح دینے سے میں اس کے ہمارے ماحول پر ہونے والے اثرات کے بارے میں تشویش کا شکار ہوں۔

انوائیرمینٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کرونا کی وبا کے باعث دنیا بھر میں ہر مہینے 19 کروڑ 40 لاکھ ڈسپوزیبل ماسک استعمال کیے جا رہے ہیں۔

فرنٹ لائنز پر مصروف طبی عملے کے لیے ایک بار استعمال کے قابل ماسک کو پہننا قابل فہم ہے تاکہ ان کے لیے کام کے ماحول کے دوران صفائی کی اعلیٰ سطح کو یقینی بنایا جا سکے لیکن ہمیں باقی آبادی کو یہ سکھانا ہو گا کہ سنگل یوز ماسک پولی پروپلین اور وینل ون جیسی پلاسٹک سے بنا ہوتا ہے جسے تحلیل ہونے کے لیے 450 سال کا عرصہ درکار ہے۔ اس وقت کے دوران فیس ماسک مائیکروپلاسٹکس میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور سمندری حیات انہیں نگل لیتی ہے۔

میرین کنزویٹو چیریٹی، سرفرز اگینسٹ سیویج،  کا کہنا ہے کہ انہوں نے استعمال شدہ فیس ماسکس اور پلاسٹک کا ایک ’دھماکہ‘ دیکھا ہے جو ساحل سمندر اور دریاوں میں اس وبا کے آغاز سے پھیل چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کورنول سے تعلق رکھنے والے سرفرز اگینسٹ سیویج کے جیک مڈلیٹن کا کہنا ہے: ’جب سے لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا ہے ہم نے پلاسٹک کے کچرے کی ایک نئی لہر کا مشاہدہ کیا ہے جو ہمارے ساحلوں پر ڈسپوزیبل ماسکس اور دستانوں کی صورت میں موجود ہے۔ ایک جانب جب پی پی ای نے گذشتہ کئی ماہ میں انسانی زندگیاں بچانے میں مدد دی ہے اب ہمیں اس کے درست انداز میں ٹھکانے لگانے کا بھی سوچنا ہو گا تاکہ یہ ہمارے دریاؤں اور سمندروں میں بہتے ہوئے انہیں برباد نہ کر سکے۔‘

سمندری حیات جیسے کہ کچھوے جو اکثر پلاسٹک کو جیلی فش سمجھ کر نگلنے کے بعد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ جیلی فش ان کی خوراک کا اہم حصہ ہے اسے بھی اس قسم کے پلاسٹک کے نتیجے میں درر ناک موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فرانس میں اس حوالے سے مہم چلانے والے افراد نے انتباہ کیا ہے کہ اگر سنگل یوز پلاسٹک کا استعمال موجودہ شرح سے ہھی جاری رہا تو بحیرہ روم میں جیلی فش کے مقابلے میں جلد ہی ماسکس کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔

اور یہ صرف سمندری حیات تک محدود نہیں ہے۔ ستمبر میں آر ایس سی پی اے نے عوام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ڈسپوزیبل ماسکس کی ’ڈوری کو کاٹ دالیں۔‘ یہ مطالبہ جانوروں کے ان ڈوریوں میں پھنسنے کی اطلاعات میں اضافے کے بعد سامنے آیا تھا۔

چیریٹی کے چیف ایگزیکٹو کرس شرووڈ کا کہنا ہے: ’اب جب کہ فیس ماسک عام ہو چکے ہیں اور یہ آنے والے کچھ وقت کے لیے رہیں گے یہ پیغام بہت اہم ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ایسے ہزاروں ماسک پھینکے جا رہے ہیں۔ ہمارے آر ایس پی سی اے اہلکاروں نے فیس ماسک میں الجھے جانوروں کو بچایا ہے اور ہم سمجھتے ہیں آنے والے وقت میں یہ واقعات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ تو سب سے آسان چیز یہ ہے کہ ان ماسکس کو پھینکنے سے پہلے ان کی ڈوریاں کاٹ دی جائیں۔‘

اگر ان کو درست انداز میں بھی تلف کیا جائے تو فیس ماسکس کو طبی فضلے میں شمار کیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ انہیں دوبارہ استعمال کے قابل نہیں بنایا جا سکتا اور یہ کچرے میں شامل ہو جاتے ہیں یا اگر انہیں جلا دیا جائے تو یہ زہریلا دھواں پیدا کر سکتے ہیں۔

برطانیہ کی گلیوں میں پی پی ای کے کچرے کے ڈھیر ایک عام بات ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ اس رجحان کو بڑے پیمانے پر بدلا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر بھی ایسا کیا جائے۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے ماسک پہننے کی عادت کو یاد رکھا جائے جو اکثر افراد بھول جاتے ہیں جس کے باعث وہ سنگل یوز ماسک خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ 

باقی افراد ڈسپوزیبل ماسکس کے ماحول، جنگلی حیات اور مستقبل پر مرتب کردہ نقصان دہ اثرات سے لاعلم ہیں۔ ان کو ان حقائق سے آگاہ کرنا ایک اچھا آغاز ہو سکتا ہے۔

وبا کے آغاز پر لوگوں نے شاید مختصر مدت کے حل کے لیے ایک بار استعمال ہونے والے ماسکس کو منتخب کیا ہو گا لیکن اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ہم مستقبل قریب تک ماسک پہنیں گے۔ ایسی صورت میں دوبارہ استعمال ہو سکنے والے ماسک ایک موثر اور ماحول دوست طریقہ ہو سکتے ہیں۔

اس کرسمس میں اپنے حصے کا کام کرتے ہوئے اپنے اہل خانہ اور دوستوں کو دوبارہ استعمال ہونے ماسک کا تحفہ دوں گی۔ دی انڈپینڈنٹ نے اس حوالے سے مارکیٹ میں دوبارہ استعمال ہونے والے ماسکس کے بارے میں اہم وسائل پر کافی مواد شائع کیا ہے۔ جن میں کپڑا، چہرے کے بال اور فیشن سب کا خیال رکھا گیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ آپ بھی ایسا ہی کریں۔ ہمارا سیارہ اس بات پر آپ کا شکریہ ادا کرے گا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر