کوئٹہ: فضائی آلودگی میں اضافہ جانچنے کے لیے تحقیق شروع کرنے کا فیصلہ

محکمہ ماحولیات کے مطابق شہر میں واقعے کرش پلانٹس کو باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ بھٹوں کو بھی جدید نظام پر لایا جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق کوئٹہ میں 30 کے قریب کرش پلانٹ کام کر رہے ہیں (بشکریہ محکمہ ماحولیات بلوچستان)

جہاں ہر سال کی طرح اس سال بھی پنجاب کے بڑے شہر سموگ کی لپیٹ میں ہیں وہیں جنوبی صوبے بلوچستان میں بھی فضائی آلودگی میں اضافے پر محکمہ ماحولیات کے ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کو چانچنے کے لیے تحقیق شروع کر دی ہے۔

ماہرین کے مطابق آلودگی کے انسانی جسم پر مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں اور صوبے کے دارالحکومت کوئٹہ میں بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ شہری گرد وغبار، شور، پرانی گاڑیوں کے دھویں سے بھی متاثر ہیں۔

محکمہ ماحولیات بلوچستان نے کوئٹہ میں کرش پلانٹ کی بڑی تعداد کو فضائی آلودگی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے اور انہیں شہر سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی بلوچستان (ای پی اے) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فتخ خان خجک نے کہا کہ ادارے نے شہر میں آلودگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

فتخ خان خجک کے بقول: ’ہماری تحقیقات کے مطابق شہر میں آلودگی کی شرح میں بڑی حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ ماہرین نے کرش پلانٹس کو بھی اس کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہ کہ اسی سلسلے میں محکمے نے کارروائی کرتے ہوئے شہر کے مشرقی اور مغربی بائی پاس پر واقع این او سی نہ رکھنے والے کرش پلانٹس کو بند کرکے مشینری ضبط کرلی ہے۔

ان کے مطابق محکمہ ماحولیات کے سیکرٹری عبدالصبور کی صدارت میں اجلاس میں کرش پلانٹس کو شہر سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کرش پلانٹس کو این او سی جاری کرنے کی ذمہ داری اب محکمہ مائنز کی بجائے محمکہ ماحولیات کے سپرد کر دی گئی ہے۔

فتخ خان خجک نے بتایا کہ محکمہ ماحولیات نے تمام انڈسٹریز کو بھی ماحولیاتی آلودگی سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

فتخ خان خجک کے مطابق: ’فضائی آلودگی میں صرف کرش پلانٹ ہی نہیں بلکہ اس میں شہر کی سڑکوں کی توڑ پھوڑ، تعمیراتی کام کی بھرمار اور اینٹوں کے بھٹے بھی شامل ہیں۔‘

ایک اندازے کے مطابق کوئٹہ میں 30 کے قریب کرش پلانٹ کام کر رہے ہیں، جبکہ کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک، ڈھاڈر اور دیگر علاقوں میں بھی ایسے پلانٹس ہیں۔

بھٹوں سے آلودگی

فتح خان خجک نے بتایا کہ نہ صرف کرش پلانٹس کو شہر سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے بلکہ اینٹوں کے بھٹوں کو بھی جدید خطوط پر استوار کرانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ’ہم بھٹہ مالکان کو زگ زیگ طریقے پر منتقل کرنے کے لیے قائل کررہے ہیں، کیوں کہ پرانے طریقے سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بھٹوں کو زگ زیگ طریقے پر لانے سے نہ صرف دھواں کم ہوگا بلکہ اینٹوں کو بھی مطلوبہ گرمائش مل سکے گی، جس سے کاربن خارج ہونے کی شرح ستر سے نوے فیصد تک کم ہو جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ بھٹوں میں یہ ماحول دوست جدید سسٹم نہ صرف پنجاب بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی استعمال ہورہا ہے۔

تاہم بھٹہ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت گذشتہ پانچ سال سے بھٹوں کو نئے سسٹم میں تبدیل کرنے کا کہہ رہی ہے اور نوٹس بھی جاری کر چکی ہے، لیکن عملی کام ابھی تک نہیں ہوا۔

بھٹہ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری حفیظ اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ زگ زیگ طریقہ کار کے لیے سب سے پہلے موسم کو میچ کرنے کا عمل کیا جاتا ہے، پھر اس کا ماڈل تیار ہوتا ہے اور اس سب کے بعد عملے کو تربیت دی جاتی ہے۔

حفیظ اللہ کے بقول: ’بلوچستان حکومت کہہ تو رہی ہے کہ ہم اس کو جدید سسٹم پر منتقل کریں گے اور بھٹہ مالکان اس کے لیے تیار ہیں، لیکن ابھی تک کوئی کام شروع بھی نہیں ہوا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں حکومت بھٹوں کو جدید سسٹم کر منتقل کرنا چاہتی ہے وہیں یہ صنعت پانی، بجلی اور ہموار راستے نہ ہونے کے مسائل کا شکار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ کے نواحی علاقہ تیرہ میل میں قائم بھٹوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے حکومت نے کوئی سہولت نہیں دی، وہاں سب سے بڑا مسئلہ راستے کا ہے جس کو پہلے حل ہونا چاہیے۔

حفیظ اللہ نے بتایا: ’ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاں اینٹ بنانے کے بھٹے قائم ہیں وہاں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے ہسپتال، سکول، بجلی اور پانی کی سہولت مہیا کی جائے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میں نے خود پنجاب میں بھٹوں میں زگ زیگ کا معائنہ کیا ہے جس میں سب اہم چیز بجلی کی  فراہمی ہے جو ہمیں یہاں صرف چند گھنٹے ہی ملتی ہے۔‘

گرین فورس

کرش پلانٹس کو نواحی علاقوں میں منتقل کرنے اور بھٹوں میں نئی ٹیکانلوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے علاوہ صوبائی حکومت ’گرین فورس‘ کی تشکیل کے حوالے سے بھی اقدامات لے رہی ہے۔

ای پی اے کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر فتح خان خجک کے مطابق گرین فورس  کی مدد کے لیے ٹریفک پولیس، آر ٹی اے، محکمہ ایکسائز کے اہلکار بھی ہمراہ ہوں گے جو شہر میں آلودگی روکنے کے لیے شہریوں کو آگاہی دیں گے۔

اس سے قبل کوئٹہ میں باقاعدہ طور پر فضائی آلودگی جانچنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے، لیکن محکمہ ماحولیات نے اب اس پر جامع تحقیق کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

فتخ خان خجک کے مطابق محکمہ ماحولیات نے اس سلسلے میں یونیورسٹیز کی سطح پر ماہرین کی خدمات حاصل کرکے فضائی آلودگی کو جانچنے کے لیے تحقیق کرانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں اور ماہرین سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔

محکمہ ماحولیات کے آفس میں فضائی آلودگی کے عوامل کا تجزیہ کرنے کے لیے لیبارٹری بھی قائم کی گئی ہے جہاں مختلف علاقوں میں مانیٹرنگ کے بعد لیبارٹری ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں۔

لیبارٹری کے انچارج محمد خان نے بتایا کہ ’ہم نے فضائی آلودگی کو باقائدگی سے جانچنے کا کام شروع کردیا ہے، جس کے لیے ہم شہر کے مختلف مقامات پر مشینری لگا کر جائزہ لیتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل کوئٹہ شہر میں آلودگی پر کوئی وسیع پیمانے پر تحقیقی کام نہیں ہوا اور اب ہم اس پر ماہرین کے ساتھ مل کر تحقیق کرانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

آلودگی سے صحت پر اثر

کوئٹہ میں فضائی آلودگی کے باعث دمے اور سینے کے امراض کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہر کے فاطمہ جناح ٹی بی اینڈ چیسٹ ہسپتال کی او پی ڈی میں اکثر مریض سینے کے امراض کی تکلیف لے کر آتے ہیں۔

ہسپتال کے شعبہ امراض سینہ کے سربراہ ڈاکٹر شیرین خان نے بتایا کہ کوئٹہ شہر میں سینے کے امراض کی ایک بڑی وجہ ڈسٹ یا غرد و غبار ہے، جس کے باعث اکثر مریضوں کو سانس میں تکلیف کی شکایت رہتی ہے۔

ڈاکٹر شیرین کے بقول: ’شہر میں گرد و غبار کے باعث اب ہمارے پاس نوجوان بھی آرہے ہیں، جن کو سانس لینے میں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ہم مریضوں کو ماسک پہننے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ وہ محفوظ رہ سکیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات