پشاور: کیفے جہاں پراٹھے بھی ہیں اور کتابیں بھی

حسن نے بتایا کہ یہاں صرف چائے ہی نہیں بلکہ ساتھ لاہور کی مشہور نان ختائی اور پتیسہ، مردان کے پیڑے، چارسدہ کے رجڑ مٹھائی، ڈی آئی خان کا حلوہ اور ساتھ میں گرما گرم پراٹھے میں مل سکتے ہیں۔

’یہاں نوجوانوں میں ٹیلنٹ موجود ہے اور وہ مختلف آئیڈیاز پر کام بھی کرتے ہیں لیکن ان کو ایک باقاعدہ کام کا ماحول میسر نہیں ہوتا۔ ہم نے یہ کیفے کھولا ہے جو لائبریری بھی ہے اور لوگ یہاں آکر چائے بھی پی سکتے ہیں اور گرما گرم پراٹھے کا مزہ بھی لے سکتے ہیں۔‘

یہ کہنا تھا نوجوان طالب علم حسن بشیر کا جو خود ای کامرس کے پیشے سے وابستہ ہیں اور پشاور میں پہلی مرتبہ اس قسم کی ایک سوچ لے کر سامنے آئے ہیں۔

حسن بشیر کا تعلق چارسدہ سے ہے اور پشاور میں رہائش پذیر ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پشاور میں ایسی جگہیں بہت کم ہیں جہاں لوگ آکر آرام کے ساتھ بیٹھ کر اپنا کام بھی کر سکیں، کتابیں بھی پڑھ سکیں اور چائے بھی پی سکیں۔

’میں نے دوستوں کے مشورے سے یہ جگہ وقف کی ہے جو لائبریری بھی ہے اور چائے کیفے بھی ہے۔‘

حسن نے بتایا کہ یہاں صرف چائے ہی نہیں بلکہ ساتھ لاہور کی مشہور نان ختائی اور پتیسہ، مردان کے پیڑے، چارسدہ کے رجڑ مٹھائی، ڈی آئی خان کا حلوہ اور ساتھ میں گرما گرم پراٹھے میں مل سکتے ہیں۔

’اس جگہ کو کھولنے کا ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جن کو گھر میں دفتر جیسا ماحول میسر نہ ہو وہ یہاں آکر دفتر جیسا کام کر سکیں۔‘

اس کی فیس کیا ہے؟

اس کیفے میں مخصوص نشستوں کو لینے کے لیے آپ کو ماہانہ فیس دینا پڑے گی۔

حسن نے بتایا کہ یہاں کوئی بھی بندہ آکر مفت میں کتابیں پڑھ سکتا ہے تاہم دس نشستیں ایسی ہیں جن کی فیس مقرر کی گئی ہے۔

’ان نشستوں کی بکنگ کروانے والوں ہم انٹرنیٹ، پرنٹنگ، تمام کتابوں تک رسائی اور دفتر جیسا ماحول فراہم کرتے ہیں جو صبح 10 بجے سے لے کر شام تک یہاں بیٹھ کر اپنا کام کر سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حسن نے کتابوں کے بارے میں بتایا کہ ان کے پاس اس لائبریری میں پانچ ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں جس میں کورس ، جنرل، مقابلے کے امتحانات، ادب، ناولز اور دیگر مختلف شعبوں کی کتابیں موجود ہیں۔

کیا اس سے کتاب پڑھنے کا رجحان بڑھ سکتا ہے؟

انٹرنیٹ کے زمانے میں کیا فزیکل کتابیں پڑھنے کا رجحان اس کاوش سے بڑھ سکتا ہے؟  اس کے جواب میں حسن نے بتایا کہ مغرب نے اتنی ترقی جو کی ہے تو وہاں ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ بھی موجود ہے لیکن انہوں نے کتاب کے ساتھ اپنا رشتہ برقرار رکھا ہے۔

حسن کے مطابق نوجوانوں کو یونیورسٹیوں اور گھروں میں کتابیں پڑھنے کی سہولیات موجود نہیں ہوتی اور کتاب پڑھنے کا رجحان معدوم ہونے جا رہا ہے۔

’مگر مجھے امید ہے کہ اس قسم کی کاوشوں سے کتاب پڑھنے کے رجحان میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان