لیبارٹری میں تیار کیا گیا گوشت پہلی بار فروخت کے لیے پیش

سنگاپور دنیا بھر میں پہلا ایسا ملک بن گیا ہے جہاں لیبارٹری میں تیار کردہ اور ذبح کیے بغیر مرغی کا گوشت فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔

لیبارٹری میں تیار کیے گئے شرمپس (فائل تصویر: روئٹرز/ ٹریوس ٹیو)

سنگاپور دنیا بھر میں پہلا ایسا ملک بن گیا ہے جہاں لیبارٹری میں تیار کردہ اور ذبح کیے بغیر مرغی کا گوشت فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔

یہ 'چکن بائٹس' کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی نئی کمپنی ایٹ جسٹ نے سنگاپور فوڈ ایجنسی سے منظوری کے بعد تیار کیے ہیں جو جانوروں کو ذبح کیے بغیر تمام قسم کے گوشت کی تیاری کے مستقبل کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

 یہ پروڈکٹ جانوروں کے خلیوں سے تیار کی جا رہی ہے، جسے ملک بھر میں 'گڈ میٹ برانڈ' کے تحت لانچ کیا جائے گا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس گوشت کو ریستورنٹس میں صارفین کے کھانے کے لیے کب تک پیش کیا جائے گا۔

کمپنی کے سی ای او جوش ٹیٹرک نے صحافیوں کو بتایا کہ  ابتدائی طور پر اس گوشت کی قیمت مہنگے چکن جتنی ہو سکتی ہے لیکن جب پیداوار بڑھ جائے گی تو قیمتیوں میں کمی متوقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی فرم امریکی ریگولیٹرز کے ساتھ بھی رابطے میں ہے لیکن سنگاپور اس معاملے میں امریکہ سے 'کچھ قدم آگے' ہے۔

انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: 'میں سوچ سکتا ہوں کہ امریکہ، مغربی یورپ اور باقی ممالک یہ دیکھ سکیں کہ سنگاپور کیا کر چکا ہے اور وہ سخت قواعد جو انہوں نے لاگو کر رکھے ہیں۔ میرے خیال میں وہ اسی کو مثال بنا کر ایک لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جزیرہ نما ملک سنگاپور فیلڈ فارم انقلاب کے معاملے میں ان چند ممالک میں شامل ہے جو اس حوالے سے سب سے آگے ہیں۔ 'شیوک میٹس' سنگاپور میں قائم ایک نئی کمپنی ہے اور جس کا مقصد لیبارٹری میں تیار کردہ کیکڑے فروخت کرنا ہے، جس میں اسے فلپائن کی سیوسانتو موندے نسین کورپ کی حمایت حاصل ہے، جسے قورن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

سال 2030 تک اپنی پیداوار کو 10 فیصد سے 30 فیصد تک بڑھانے کا مقصد ملک کی 56 لاکھ آبادی کے لیے بیرون ملک سے منگوائی جانے والی اشیا پر انحصار کم کرنا ہے۔

حالیہ برسوں میں مصنوعی طریقے سے تیار کردہ گوشت کے حقیقی گوشت کے متبادل کے طور پر استعمال سے اس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اس حوالے سے صحت، جانوروں کی فلاح اور ماحول پر اس کے اثرات کے بارے میں پائے جانے والے شدید تحفظات نے بھی کردار ادا کیا ہے۔

گڈ فوڈ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 55 ایسی فرمز کام کر رہی ہیں جو لیبارٹری میں تیار کردہ مچھلی، بیف اور چکن کا گوشت تیار کر کے اس صنعت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سال 2019 میں جاری کردہ برکلیز کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں گوشت کے متبادل کی مارکیٹ کی قیمت تقریباً 14 ارب ڈالر تک ہے جو کہ گوشت کی مارکیٹ کے ایک اعشاریہ چار کھرب ڈالر کا ایک فیصد ہے اور اس میں سال 2029 تک دس گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔

کرونا وائرس کی وبا نے بھی گوشت کی صنعت میں موجود نقائص کو بے نقاب کیا ہے، جب امریکہ اور یورپ میں موجود کئی پروسسینگ پلانٹس کے ذریعے وبا کے کیسز بڑے پیمانے پر پھیلنے لگے تو اس صنعت میں رسد کو ایک بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی