اسلام آباد کے شہری سٹیزنز کلب سے محروم ہو جائیں گے؟

دارالحکومت کے ایف نائن پارک میں 2018 میں تعمیر ہونے والی میٹروپولیٹن کلب کی قلعہ نما عمارت اب تک شہریوں کے لیے کھولی نہیں گئی ہے اور وفاقی کابینہ میں اس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ایف نائن پارک میں نائنتھ ایونیو پر خوبصورت قلعہ نما عمارت گزرنے والوں کو ایک بار اپنی جانب متوجہ ضرور کرتی ہے لیکن کبھی کسی نے غور نہیں کیا کہ یہ عمارت دراصل کیا ہے، کس لیے بنی تھی اور کسی بھوت بنگلے کا منظر کیوں پیش کر رہی ہے؟

یہ ہے میٹروپولیٹن کلب جس کی قسمت کا فیصلہ آٹھ دسمبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہو گا کہ آیا اسلام آباد کے شہری اسے استعمال کریں گے یا اسے وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ ٹریننگ کے حوالے کیا جائے گا۔

یہ گذشتہ دور حکومت کا منصوبہ تھا جس کا بنیادی مقصد اسلام آباد کے شہریوں کو بہتر لائف سٹائل کا ایک کلب مہیا کرنا تھا۔ اس کے اندر ہر طرح کی تفریحی سرگرمیوں سے لے کر ریستوران، ورزش، فٹنس سینٹرز، ساڑھے چار سو افراد کی گنجائش کے لیے آڈیٹوریم، 56 رہائشی گیسٹ رومز کے علاوہ لائبریری، ٹیرس ڈائننگ ہالز، اِن ڈور آؤٹ ڈور سویمنگ پولز غرض کے بہترین لگژری کے وہ تمام لوازمات تھے جو اس کلب ہاؤس نے مقرر کردہ فیس یا ممبر شپ پر مہیا کرنے تھے۔

کابینہ میٹنگ میں کلب معاملے پر کیا بحث ہوئی؟

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق یکم اکتوبر کو کابینہ کے اجلاس میں وزرات وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ ٹریننگ نے تجویز رکھی کہ ایف نائن پارک میں واقع اس بند پڑی عمارت کو نیشنل کالج آف آرٹس کے کیمپس کے لیے مختص کر دیا جائے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں کابینہ ممبران پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو کلب کا دورہ کرے گی اور وزیراعظم نے دو ارب روپے کی خطیر رقم سے ایف نائن پارک میں بننے والی عمارت کومفاد عامہ میں استعمال کے حوالے سے سفارشات کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایات دیں۔

چھ رکنی کمیٹی وفاقی وزرا پر مشتمل ہے جس میں شیخ رشید، اسد عمر، شیریں مزاری، خسرو بختیار اور دیگر شامل ہیں۔

اس معاملے پر سی ڈی اے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یکم اکتوبر کو کابینہ میٹنگ میں ایف نائن کلب کے حوالے سے تفصیلی بحث ہوئی، سی ڈی اے نے اپنا موقف رکھا کہ یہ کلب سی ڈی اے نے اپنے خرچے پر اسلام آباد کے شہریوں کے لیے بنایا تھا تاکہ وہ اسلام آباد کلب کی طرز کے اس کلب کی مناسب فیس پر جدید سہولیات سے لطف اندوز ہو سکیں اور سی ڈی اے منافع بھی حاصل کر سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کلب کی ممبر شپ 15 لاکھ کے لگ بھگ ہے جو عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے۔ یہ عمارت ڈیزائن ہی اسی مقصد سے کی گئی تھی۔ یونیورسٹی کیمپس تو کسی صورت نہیں بن سکتا کیونکہ عمارے کا ڈیزائن ہی ویسا نہیں ہے۔ اس کا بہترین استعمال کلب اور سپورٹس سرگرمیاں ہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے نے مزید یہ موقف پیش کیا کہ اسلام آباد کا ماسٹر پلان ایف نائن پارک میں یونیورسٹی کھولنے سے متصادم ہے۔ ایف نائن پارک کو تفریحی سرگرمیوں کے لیے ہی مختص کیا گیا تھا۔

سی ڈے اے کے حکام کے مطابق یہ بھی زیر بحث آیا کہ جب این سی اے راولپنڈی میں موجود ہے تو کیمپس کو اسلام آباد منتقل کرنے کے منصوبے سے وہاں کے شہریوں کو محروم کیوں کیا جا رہا ہے، بلکہ راولپنڈی کیمپس کو ہی اپ گریڈ کیا جائے۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ طلبہ جب پارک میں بنے کیمپس میں شفٹ ہوں گے تو پارک بھی ختم ہو جائے گا جو کہ نہیں ہونا چاہیے۔

ان کے بقول بیشتر وزرا بھی اس بات پر متفق تھے کہ کلب کو جس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے اسی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے شہریوں کے لیے کھولا جائے۔

میٹروپولیٹن کلب ہاؤس کی تفصیل

ایف نائن پارک میں 22 ایکڑ رقبے کو اس کلب ہاؤس کے لیے مختص کیا گیا جس میں دو لاکھ 65 ہزار سکوائر فٹ کے رقبے پر عمارت بنائی گئی ہے۔ یہ عمارت مشہور آرکیٹیکٹ نئیر علی دادا کی تخلیق کا منہ بولتا  ثبوت ہے۔

اس پروجیکٹ پر دو ارب لاگت آئی ہے۔ اپریل 2018 میں مئیر اسلام آباد شیخ انصر نے اس عمارت کا افتتاح کیا تھا۔ لیکن گذشتہ حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد عبوری حکومت آنے کی وجہ سےعمارت میں سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز نہ کیا جا سکا۔ جولائی میں انتخابات اور اگست میں نئی حکومت کےانتظام سنبھالنے کے بعد یہ خوبصورت عمارت تالوں کی نذر ہو گئی۔

اسلام آباد کا ماسٹر پلان کیا کہتا ہے؟

واضح رہے کہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے مطابق سیکٹر ایف نائن کو مکمل طور پر گرین ایئریا اور واکنگ جاگنگ کے مقصد کے لیے مختص کیا گیا تھا تاکہ شہر میں سبزہ اور قدرتی حسن برقرار رہے۔ ایف نائن پارک کے چار گیٹس ہیں جو ایف ٹین، جی نائن، ای نائن اور سیکٹر ایف ایٹ کے سامنے واقع ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان