نیا پاسپورٹ نہ بنا تو نواز شریف بے وطن ہو جائیں گے: وکیل

لندن کے ایک وکیل نے بتایا کہ برطانوی قوانین کے تحت سابق وزیر اعظم کو بعض حقائق کی بنیاد پر لندن میں قیام جاری رکھنے کی اجازت مل سکتی ہے۔

نواز شریف کی بیٹی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز ایک سے زیادہ مرتبہ اپنے والد کی فوراً وطن واپسی کے امکانات رد کر چکی ہیں(اے ایف پی)

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد آئندہ سال فروری میں ختم ہو رہی ہے جس کے بعد انھیں بیرون ملک قیام جاری رکھنے کے لیے نئی سفری دستاویز کی ضرورت ہو گی۔ 

پارٹی کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں تصدیق کی کہ سابق وزیر اعظم کے پاسپورٹ کی معیاد فروری 2021 میں ختم ہو رہی ہے اور یہ کہ نیا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے پارٹی کے اندر اور قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے۔  

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے پیر کو نواز شریف کے پاسپورٹ کی معیاد کے خاتمے سے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے اس سلسلے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ نواز شریف، جنھیں کرپشن کے مقدمے میں جیل کی سزا ہو چکی ہے، اس وقت لندن میں مقیم ہیں جبکہ ان کے خلاف مزید مقدمات بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے انہیں نومبر 2019 میں چار ہفتوں کے لیے علاج کی غرض سے ضمانت پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ 

پاسپورٹ کیسے بنتا ہے؟ 

پاکستان کی وفاقی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں داخل یا سے باہر جانے کے لیے پاسپورٹ ضروری دستاویز ہے، جو وزارت داخلہ کی ڈائریکٹوریٹ آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نامی ذیلی ادارہ پاسپورٹ رولز 1974 کے تحت جاری کرتا ہے۔ 

پاکستان میں ڈائریکٹوریٹ آف ایمیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے 25 دفاتر ہیں جبکہ بیرون ملک پاکستان کے سفارت خانے اور ہائی کمیشنز بھی وہاں موجود پاکستانی شہریوں کو یہ دستاویز جاری کرنے کے مجاز ہیں۔ 

پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے مذکورہ شخص کو ذاتی طور پر ڈائریکٹوریٹ آف ایمیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے دفتر میں حاضر ہونا پڑتا ہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی یہ دستاویز حاصل کرنے کے لیے متعلقہ ملک میں پاکستانی سفات خانے جاتے ہیں۔ 

نواز شریف کے پاس آپشنز کیا ہیں؟ 

نواز شریف کی بیٹی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز ایک سے زیادہ مرتبہ اپنے والد کی فوراً وطن واپسی کے امکانات رد کر چکی ہیں جس کی وجہ وہ ان کی ’خراب صحت اور کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے باعث علاج میں تاخیر‘ بتاتی ہیں۔ 

ایسے میں نواز شریف کا نئے پاسپورٹ کے حصول کے لیے پاکستان آنا خارج از امکان ہے۔ دوسری صورت یہ بن سکتی ہے کہ نیا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے نواز شریف لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں درخواست جمع کرائیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سابق وزیر اعظم کو وطن واپس لانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ وہ اپنی باقی ماندہ سزا اور عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کا سامنا کر سکیں۔ 

قومی احتساب بیورو (نیب) کچھ عرصہ قبل وفاقی وزارت داخلہ کو نواز شریف کا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ منسوخ کرنے کی درخواست کر چکی ہے۔ تیسری صورت میں نواز شریف برطانیہ سے کسی عرب ملک چلے جائیں جہاں ان کے لیے پاسپورٹ یا دوسرے ضروری دستاویزات کے بغیر بھی رہنے کے امکانات بن سکتے ہیں۔

چوتھی اور سب سے زیادہ قابل عمل صورت یہ ہے کہ نواز شریف پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد بھی برطانیہ میں ہی رہیں۔ گذشتہ 20 سال سے لندن میں پریکٹس کرنے والے پاکستانی نژاد وکیل قمر بلال ہاشمی کا کہنا ہے کہ موجودہ پاسپورٹ کی معیاد ختم اور نیا جاری نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف ایک بے وطن (stateless) شخص بن جائیں گے اور ایسی صورت میں ان کے پاس مزید دو آپشنز ہوں گے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد نواز شریف برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دے سکتے ہیں جس صورت میں انہیں ایک لمبے عمل سے گزرنا ہو گا۔ 

انہوں نے مزید بتایا کہ دوسری صورت میں نواز شریف برطانیہ کی وزارت داخلہ کو ایک درخواست دے سکتے ہیں کہ انہیں وہاں رہنے کی اجازت دی جائے۔ ‘برطانوی قوانین کو جانتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ انہیں بعض حقائق کی بنیاد پر لندن میں قیام جاری رکھنے کی اجازت مل سکتی ہے۔’ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ‘اگر کوئی بھی شخص ثابت کر دے کہ اپنے ملک میں اس کی جان کو خطرہ ہے تو برطانوی قوانین اور قانونی روایات کے تحت اسے وہاں رہنے کی اجازت مل سکتی ہے۔’ 

انہوں نے مزید کہا کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم کو علاج کی غرض سے پاسپورٹ کی غیر موجودگی میں بھی برطانیہ میں قیام طویل کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ تاہم ہر دو صورتوں میں انہیں مطلوبہ ثبوت برطانوی حکام کے سامنے پیش کرنا ہوں گے۔  

قمر بلال کا کہنا تھا کہ جن غیر ملکیوں کو برطانیہ میں پناہ نہیں مل پاتی انہیں بھی کسی جائز وجہ کی بنا پر قیام کی اجازت مل سکتی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ نواز شریف کی پاکستان حکومت کو حوالگی کا کتنا امکان ہے؟ ان کا کہنا تھا دونوں ملکوں کے درمیان ایکسٹراڈیشن ٹریٹی کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ 

یاد رہے کہ سابق وزیر خزانہ اور نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار بھی گذشتہ کئی سالوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں جہاں وہ سیاسی پناہ کی درخواست بھی دے چکے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت کے دعوؤں کے باوجود ابھی تک اسحاق ڈار کو واپس نہیں لا جا سکا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان