ریپ کے مجرمان کو نامرد بنانا مسئلے کا حل نہیں: ویمن ایکشن فورم

ویمن ایکشن فورم نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے 16 دسمبر کو ریپ کیسز کی حوصلہ شکنی کے لیے صدارتی آرڈیننس کے اجرا کی مذمت کرتے ہوئے اسے 'عوام کو خوش کرنے' کے لیے پبلک ریلیشنز کی مشق قرار دے دیا۔

لاہور موٹروے پر خاتون کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کے خلاف 18 ستمبر 2020 کو کراچی میں خواتین نے ایک مظاہرے کے دوران ریپ کے خلاف پوسٹر اٹھا رکھا ہے (تصویر: اے ایف پی)

ویمن ایکشن فورم (واف) نے ملک میں ریپ کیسز کی حوصلہ شکنی کے لیے صدارتی آرڈیننس کے اجرا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان قوانین میں ریپ کے مجرم کو بار بار نامرد بنانے کی سزا نہ صرف ناممکن اور ناقابل عمل ہو گی بلکہ سزا پانے والا مجرم آزاد ہونے کے بعد ریپ کا جرم دہرائے گا۔

واف کی جانب سے گذشتہ روز جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ریپ کرنے والے کے لیے سزائے موت کی موجودگی میں نامرد بنانا ان قوانین میں بہت بڑی خامی ہے۔

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ریپ کی حوصلہ شکنی کے لیے 16 دسمبر کو اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس اور کریمنل لا (ترمیمی) آرڈیننس 2020 جاری کیے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا: ’قوانین کے ابتدائی مسودوں میں کہا گیا تھا کہ صرف بار بار ریپ کا ارتکاب کرنے والے مجرم کو نامردی کی سزا دی جائے گی جبکہ حتمی قوانین میں یہ سزا جج کی صوابدید پر چھوڑ کر بار بار ریپ کرنے والے کے علاوہ پہلی مرتبہ ریپ کرنے والے کے لیے بھی رکھ دی گئی ہے۔‘

بیان کے مطابق: ’واف کیمیائی نامردی کے خلاف ہے اور قوانین میں یہ بھی واضح نہیں کہ کیمیائی نامردی ریپ کی سزا ہو گی یا یہ قوانین میں پہلے سے موجود (موت کی) سزا کا متبادل ہو گی۔‘

واف نے مزید کہا کہ آئین پاکستان پارلیمنٹ کے اجلاس کی غیر موجودگی میں صرف کسی ہنگامی صورت حال میں ہی صدارتی آرڈیننس کے اجرا کا تصور پیش کرتا ہے۔ ایسے میں یہ صدارتی آرڈیننس قانون سازی کے عمل، جمہوریت اور صوبائی خود مختاری کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں مزید کہا گیا کہ صدارتی آرڈیننس کی عمر صرف 120 دن ہوتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قوانین میں اداروں اور قواعد بنانے اور عملے کی تعیناتی کے لیے درکار وقت کا خیال نہیں رکھا گیا۔

واف کے بیان میں مزید کہا گیا کہ اینٹی ریپ آرڈیننس، جو جنسی زیادتی کی حوصلہ شکنی کی غرض سے ادارے اور طریقہ کار کا فریم ورک بنانے کی خاطر نافذ کیا گیا ہے، حکومت کی جانب سے تعیناتی کی صورت میں جبکہ کریمنل لا ترمیمی آرڈیننس فوری طور پر قابل عمل ہو گا۔ 'اس کا واضح مطلب ہے کہ ان قوانین کو بوسیدہ اور ناقص طریقہ کار اور پہلے سے موجود پولیسنگ اور پراسیکیوشن  نظام، جن کی خرابیوں کا  انکشاف موٹر وے گینگ ریپ کیس میں ہوا، کے ذریعہ نافذ کیا جائے گا۔'

بیان میں مذکورہ قوانین کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ریپ کی حوصلہ شکنی کے لیے مجوزہ اقدامات میں سے اکثر انتظامی ہیں، جو حکومتی محکموں کی طرف سے احکامات جاری کرکے بھی لیے جا سکتے ہیں۔

واف نے مذکورہ آرڈیننسز کے اجرا کو محض 'عوام کو خوش کرنے' کے لیے پبلک ریلیشنز کی مشق قرار دیتے ہوئے حکومتی اور حزب اختلاف کے قانون سازوں سے آئین سے انحراف کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی۔

اپنے بیان میں واف نے مذکورہ قوانین کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے اور ان پر بحث کے بعد ضروری ترامیم کا مطالبہ کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین