بلوچستان کا پسماندہ قصبہ ملک بھر کے لیے مثال کیسے بنا؟

‎بلوچستان کے ایک دورافتادہ علاقے کے ایک نوجوان نے بڑے شہروں کے نوجوانوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر یارجان عبدالصمد  کا تعلق بلوچستان کے ضلع بلیدہ سے ہے (تصاویر: ڈاکٹر یار جان عبدالصمد/ بلوچستان نیوز)

پاکستان کے پسماندہ صوبہ بلوچستان کی پسماندہ ترین تحصیل بلیدہ سے تعلق رکھنے والے خلائی (سپیس) سائنسدان ڈاکٹر یارجان عبدالصمد نے ینگ لیڈر ایوارڈ 2020 اپنے نام کر لیا۔

یقیناً یہ ایک قابل تحسین پیش رفت ہے کہ ہمارے سائنسدان بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کررہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ حکومت اور تعلیمی ادارے اس حوالے سے کیا اقدامات کر رہے ہیں کہ ملک کے طالب علم سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھیں؟

جب ایک پسماندہ صوبے سے تعلق رکھنے والا ایک طالب علم کوشش، لگن اور انتھک محنت کے بعد کیمبرج یونیورسٹی میں کام کرنے والا پہلا پاکستانی سائنسدان بن سکتا ہے اور ینگ پروفیشنلز سوسائٹی یوکے کی جانب سے ینگ لیڈر ایوارڈ 2020 اپنے نام کرسکتا ہے تو ملک کے بڑے تعلیمی ادارے اس حوالے میں نمایاں کارکردگی دکھانے میں کامیاب کیوں نہیں ہو رہے ہیں؟

اس جدید دور میں جہاں دنیا کی بڑی معیشتیں ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے لگی ہیں تو سائنس اور ٹیکنالوجی اور علم پر مبنی معشیت کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، مگر ہم آج بھی پرانے طرزِ تعلیم اور معشیت پر یقین کرکے چل رہے ہیں۔ ملک کے بڑے شہروں میں تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے لیے خوبصورت عمارتیں بنائی گئی ہیں مگر یہ خوبصورت عمارتیں خوبصورت دماغوں کو نمایاں کرنے میں کیوں ناکام ہیں؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

ہمارے تعلیمی ادارے ہر سال ہزار ہا ریسرچ پیپرز چھاپ لیتے ہیں مگر بظاہر ان کا معاشرے پر کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا۔ ‎سائنس اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پاکستان بہت پیچھے کھڑا ہے۔ پاکستان اس وقت اپنے جی ڈی پی کا 0.3 فیصد سائنس اور ٹیکنالوجی پر خرچ کرتا ہے، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کرکے اپنی معشیت بہتر بنا چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سنگاپور، جاپان اور کوریا کے پاس کوئی بہت وسیع قدرتی وسائل نہیں ہیں لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کرنے کی بدولت آج یہ ملک عالمی سطح پر مستحکم معیشت جانے جاتے ہیں۔ پاکستان کو بھی سرمایہ کاری کے ان ماڈلز پر سوچنا چاہیے۔ نظام تعلیم میں جدت طرازی کرکے ملک کی بڑی یورنیورسٹیوں میں ہائی کوالٹی فیکلٹی تعینات کی جائے جو نئی نسل کے خوبصورت دماغوں کو پہچاننے اور نکھارنے کے فن سے آشنا ہوں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں ترقی کرنے کے لیے خوبصورت عمارتوں میں قائم یونیورسٹی کی نہیں بلکہ خوبصورت دماغوں پر مبنی ہائی کوالٹی فیکلٹی کی ضرورت ہے۔

‎بلوچستان کے دورافتادہ ضلع کیچ کی تحصیل بلیدہ، جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات تو دور کی بات، بنیادی ضروریات بھی میںسر نہیں ہیں، وہاں کے ایک نوجوان نے ملک کے بڑے شہروں میں پر آسائش ماحول میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں، بشرطیکہ کچھ کر دکھانے کا جذبہ موجود ہو۔

بلیدہ آج اس جدید دور میں بھی کئی مسائل اور محرومیوں کا مسکن ہے۔ بھوک، افلاس، غربت اور پسماندگی کے آثار بلیدہ کی ہر گلی اور کوچے سے جھلک رہے ہیں۔ سرکاری تعلیمی ادارے جن کی اکثریت پرائمری اور مڈل سکول پر مشتمل ہیں، تباہی کے منظر پیش کر رہے ہیں۔ پورے علاقے میں ایک ڈگری کالج ہے، جس میں استاد کی کمی ہے۔

لڑکیوں کے لیے کالج کا قیام عوامی مطالبات میں شامل ہے مگر فی الحال وہاں کی لڑکیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم ایک خواب ہی ہے۔ صحت کی سہولیات بھی تقریباً ناپید ہیں۔ پکی سڑک نہ ہونے کی وجہ سے شہری پہاڑی اور دشوار کن راستوں سے گزر کر شہر پہنچ جاتے ہیں۔ 1995 سے ایک سڑک زیر تعمیر ہے جو بلیدہ کو تربت شہر سے ملاتی ہے مگر 25 سال گزرنے کے باوجود اس کا کام مکمل نہ ہو سکا۔

پانچ مارچ 2018 کو آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور اس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے سڑک کی از سر نو تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا تھا، اس وقت سے آج تک روڈ کا تعمیراتی کام متواتر جاری ہے، اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔

بلیدہ کے بہت سے حصوں میں بجلی دستیاب نہیں ہے۔ 2006 میں پہلی بار ایران سے بلیدہ کے کچھ حصوں میں بجلی فراہم کر دی گئی تھی، مگر آج بھی علاقہ مکینوں کو بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے چھوٹے کسان فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

‎ڈاکٹر یار جان عبدالصمد کا بلیدہ کئی مسائل اورمحرومیوں کا مسکن رہنے کے باجود ایک روشن مستقبل کی طرف رواں دواں ہے۔ بلیدہ سے ایک ہی خاندان کے لوگ دونسلوں سے بلوچستان کی ہر حکومت کا حصہ بنتے آ رہے ہیں مگر بلیدہ کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔

درج بالا تمام مسائل ڈاکٹر یار جان عبدالصمد کے کامیابی کی راہ میں حائل ضرور تھے مگر ان کی ہمت، محنت اورکوششوں نے انہیں پسماندہ بلیدہ سے کیمبرج یونیورسٹی تک پہنچا دیا ہے۔ ملک کے تمام نوجوانوں کو ڈاکٹر یار جان عبدالصمد کی ہمت اور لگن سے سبق سیکھنا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ