راولپنڈی میں ڈیم متاثرین کا زبردستی بے دخلی کے خلاف احتجاج

راولپنڈی کے نواح میں ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیر سے زیر آب آنے والے ممکنہ علاقوں میں ارد گرد کے پانچ دیہات شامل ہیں جن میں تقریباً چار ہزار مکین آباد ہیں۔

عوامی مرکز پارٹی پنجاب کے زیر اہتمام اس جلسے میں ڈھڈوچہ، بھروالا، خان پور، ڈھڈھر نجار، موہڑہ وینس اور دیگر دیہاتوں کے رہائشیوں نے شرکت کی (تصویر: عمار رشید)

راولپنڈی میں ڈھڈوچہ ڈیم کے متاثرین نے روات صنعتی علاقے کے نواح میں حکومت پنجاب کی طرف سے مقامی مکینوں کی متبادل آبادکاری کیے بغیر ان کی زبردستی بے دخلی کے خلاف پیر (کو ایک عوامی جلسہ اور پرامن احتجاجی مارچ کیا۔

عوامی مرکز پارٹی پنجاب کے زیر اہتمام اس جلسے میں ڈھڈوچہ، بھروالا، خان پور، ڈھڈھر نجار، موہڑہ وینس اور دیگر دیہاتوں کے رہائشیوں نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ ڈھڈوچہ ڈیم کے لیے مختص کی گئی زمین پر زیر آب آنے والے ممکنہ علاقوں میں ارد گرد کے پانچ دیہات شامل ہیں جن میں تقریباً 400 مکانات میں چار ہزار مکین آباد ہیں، جنہیں ڈیم کی تعمیر کے باعث اپنے مکانات، زرعی اراضی اور روزگار سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔

مقامی کسانوں اور دیہاتیوں کا دعویٰ ہے کہ پنجاب حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے مقامی رہائشیوں کے لیے کسی بھی متبادل آبادکاری کے منصوبے کے بغیر ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کردیا ہے۔ یہ کام لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے نفاذ کے ذریعے کیا جارہا ہے جبکہ یہ معاملہ ابھی بھی لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

ایک مقامی رہائشی پرویز کیانی نے بتایا کہ ’انہیں شرم ناک انداز میں زرعی اراضی کے لیے 10 سال پرانا، پانچ ہزار فی مرلہ کی پیش کش کی جا رہی ہے، جو اصل مارکیٹ ریٹ کا ایک معمولی سا حصہ بنتا ہے جبکہ اسی علاقے میں ڈی ایچ اے کے زیر قبضہ ناقابل کاشت اراضی کی قیمت 80 لاکھ فی کنال ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر انہیں اس طرح کے نرخوں پر اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تو وہ بے سرو سامانی میں مبتلا ہو جائیں گے کیونکہ راولپنڈی یا اس سے ملحقہ علاقوں میں اتنے کم نرخ پر مکان یا زمین خریدنا ناممکن ہے۔

اس موقعے پر مقامی رہائشی اور جلسے کے منتظم راجہ فیاض الحق جنجوعہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ راولپنڈی کے رہائشیوں کو فائدہ پہنچانے والے ڈیم کی تعمیر کے خلاف نہیں لیکن ڈیم کی تعمیر کی خاطر، مقامی باشندوں کو جبری طور پر بے گھر کیے جانے کے حق میں نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہی لوگ ڈیم کی تعمیر کے لیے اپنی اراضی کی قربانی دے رہے ہیں، اس لیے انصاف کا تقاضا ہے کہ ڈیم متاثرین کی مالی معاونت اور مناسب متبادل رہائش کا بندوبست کیا جائے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ رہائشیوں کو اس بات کا بھی یقین نہیں کہ کیا وہ اب اپنے پیاروں کو مقامی قبرستان میں دفن کرسکیں گے یا نہیں کیونکہ وہ بھی ڈیم کی تعمیر کے بعد جلد ہی زیر آب آ جائے گا۔

مکینوں کا مزید کہنا تھا کہ انہیں ایسی زمین سے بے دخل کیا جارہا ہے، جو ڈیم کے لیے مختص کی گئی حدود سے باہر ہے اور جبری بے دخلی کا مقصد زمین کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس موقعے پر عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے صدر عمار رشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'اس طرح زمین کی حصولی اس حقیقت کا نتیجہ ہے کہ پاکستانی ریاست اب بھی انگریز نوآبادیاتی دور کے قوانین اور ترقی کے اصولوں پر عمل پیرا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ جیسے نوآبادیاتی قوانین کو برطانوی حکمرانوں نے تیار کیا تھا تاکہ وہ اپنے سرمایہ دارانہ مفادات کے حصول کی خاطر مقامی باشندوں کو آسانی سے بے دخل کرکے،ان کا استحصال کرسکیں۔'

عمار رشید نے مزید کہا کہ پچھلے ڈیم منصوبوں میں متبادل آبادکاری کی مثالیں موجود ہیں، لیکن یہ متاثرین کی جدوجہد سے ہی ممکن ہوا ہے جس نے حکام کو ان کے حقوق تسلیم کرنے پر مجبور کیا، لہذا رہائشیوں کو چاہیے کہ وہ خود کو پرامن جدوجہد کے لیے تیار کریں تاکہ اقتدار کی راہداریوں میں ان کی آواز گونج سکے اور منصفانہ معاوضہ وصول کیا جاسکے۔

جلسہ عام کے بعد رہائشیوں نے ڈیم کی تعمیر کے مقام تک پرامن مارچ کیا جہاں ایف ڈبلیو او نے اپنا کیمپ لگایا تھا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر راولپنڈی بھی مظاہرین سے مذاکرات کے لیے سائٹ پر پہنچے اور کہا کہ ان مطالبات پر تبادلہ خیال کی غرض سے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کے لیے انہیں طلب کیا جائے گا۔

مارچ کے اختتام پر رہائشیوں نے اپنے حقوق کی خاطر پر امن جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا اور کہا کہ اگر انصاف کے ساتھ ان کے جائز مطالبات پورے نہیں کیے جاتے تو وہ ڈی چوک اور پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دینے کا رستہ اپنائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان