جنرل موٹرز کی خود بخود اڑنے والی گاڑی

معروف امریکی کار ساز کمپنی جنرل موٹرز نے مستقبل میں اپنی ایک اڑنے والی کیڈلک گاڑی کی نمائش کی ہے۔

معروف امریکی کار ساز کمپنی جنرل موٹرز (جی ایم) نے مستقبل میں اپنی ایک اڑنے والی کیڈلک گاڑی کی نمائش کی ہے۔

یہ ایک سیلف ڈرائیو کار ہو گی جو عمودی طور پر لینڈنگ اور ٹیک آف کرے گی اور مسافروں کو سڑکوں کے اوپر اڑتے ہوئے ان کی منزل پر پہنچائے گی۔ جی ایم کے سینیئر ایگزیکٹیو نے اس تصور کو ’ذاتی نقل و حمل کے مستقبل کی نئی شکل‘ کے طور پر بیان کیا ہے۔

یہ کیڈلک کار تکنیکی طور پر عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ (وی ٹی او ایل) والا ایک ڈرون ہو گا جو ایک مسافر کو 55 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے شہر میں ایک روف ٹاپ (چھت) سے دوسری روف ٹاپ تک لے جا سکے گا۔ یہ مکمل طور پر خود کار اور الیکٹرک کار ہے جس میں 90 کلو واٹ موٹر اور ایک جی ایم الٹیئم بیٹری پیک نصب ہے، جب کہ اس کی باڈی کا وزن انتہائی کم ہے، جس میں چار روٹرز کے جوڑے لگے ہیں۔

فلائنگ کیڈلک کی ورچوئل طور پر ایک ویڈیو کے ذریعے نمائش کی گئی۔ اس تقریب میں چیف ایگزیکٹیو میری باررا نے ایک فیملی فرینڈلی کیڈلک الیکٹرک شٹل کی بھی نمائش کی۔ باررا نے گذشتہ سال انکشاف کیا تھا کہ ان کی کمپنی متبادل نقل و حمل کے ذرائع جیسے اڑنے والی ٹیکسیاں بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سی ای ایس ویڈیو میں اڑنے والی گاڑیوں کے تصور کو جی ایم ڈیزائن کے سربراہ مائیک سمکوے نے متعارف کرایا، جنہوں نے اس وی ٹی او ایل کو ’دا کیڈلک آف اربن ایئر موبیلٹی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’وی ٹی او ایل جدید مستقبل کے لیے جی ایم کے وژن کی بنیاد ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویڈیو میں میں بتایا گیا کہ یہ اڑنے والی گاڑیاں جلد فضاؤں میں نظر آئیں گی جب کہ سمکوے کی ٹیم کی ڈیزائن کردہ اس کار کے ظاہری خدوخال اور جسمامت ’کروز اورجن‘ کی یاد دلاتے ہیں۔ اس میں آگے اور پیچھے سلائیڈنگ دروازے اور ایک خوبصورت گلاس کی چھت شامل ہے۔

کیبن لاؤنج نما بیٹھنے کی جگہ ہے جو بائیو میٹرک سینسر، وائس کنٹرول اور ہاتھ کے اشارے کی شناخت جیسے جدید ترین خصوصیات سے آراستہ ہے۔ جی ایم نے اس اڑنے والی کار کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

جی ایم کے علاوہ ٹویوٹا موٹرز، ہنڈائی موٹرز اور گیلی آٹوموبائل سمیت دیگر کار ساز کمپنیوں نے بھی اس سے قبل مستقبل میں اڑنے والی گاڑیاں بنانے کے منصوبے ظاہر کیے تھے۔اس نمائش کے بعد سٹاک مارکیٹ میں جی ایم کے حصص کی قیمت میں 5.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی