آٹھ ہزار میل کا سفر کر کے امریکہ سے آسٹریلیا آنیوالا کبوتر مارا جائے گا؟

آسٹریلیا کا محکمہ زراعت جو ملک میں بائیو سکیورٹی کے لیے ذمہ دار ہے، نے کہا کہ اس کبوتر کو ’آسٹریلیا میں رہنے کی اجازت نہیں ہے‘ کیونکہ یہ ’آسٹریلیا کی فوڈ سکیورٹی اور ہماری جنگلی پرندوں کی آبادی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔‘

(سکرین گریب)

حکام نے کہا ہے کہ بحر الکاہل  کے اوپر سے آٹھ ہزار میل کا سفر طے کر کے شمالی امریکہ سے آسٹریلیا پہنچنے والا ریسنگ کبوتر ملک کی بائیو سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے اور اسے جلد ہلاک کیا جاسکتا ہے۔

اس قدر طویل سفر سے ’تھکے ہارے‘ پرندے کو 'کیون سیلی برڈ' نامی شخص نے 26 دسمبر کو میلبورن میں اپنے باغچے میں پایا تھا، بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ اس کبوتر کو 29 اکتوبر کو امریکی ریاست اوریگون میں ایک ریس کے لیے چھوڑا گیا تھا۔

سیلی برڈ نے اپنے اس غیرمتوقع مہمان کو نو منتخب امریکی صدر کی مناسبت سے ’جو‘ کا نام دیا ہے۔

لیکن جب جو کی آسٹریلیا آمد کی خبر میڈیا کے ذریعے مشہور ہو گئی تو یہ پرندہ ’آسٹریلین کوارنٹائن اینڈ انسپیکشن سروس‘ کے سخت قوانین کی زد میں بھی آ گیا۔

جمعرات کو سروس نے سیلی برڈ کو فون کیا اور اس پرندے کو پکڑنے کے لیے کہا۔

سیلی برڈ نے کہا: ان (سروس) کا کہنا ہے کہ اگر یہ امریکہ سے آیا ہے تو پھر انہیں پرندوں کی بیماریوں کے بارے میں فکر لاحق ہو گئی ہے۔‘

’وہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا میں ان کی مدد کرسکتا ہوں؟ میں نے کہا سچ پوچھیں تو میں اسے پکڑ نہیں سکتا۔ میں اس کے 500 ملی میٹر قریب بھی جاؤں تو یہ اڑنے لگتا ہے۔‘

سیلی برڈ نے آسٹریلیا کے نشریاتی ادارے ’سیون نیوز‘ کو بتایا: ’وہ (بھوک سے) کافی کمزور ہو چکا تھا لہذا میں نے کچھ بسکٹ توڑ کر اسے کھانے کو دیئے۔‘

’باکسنگ ڈے پر ہم نے اسے اپنے صحن میں پانی کے پاس پایا، اس نے تھوڑا سا پانی پیا اور سوچا کہ رہائش کے لیے ایک اچھی جگہ ہے۔‘

سیلی برڈ نے اب اپنے نئے ساتھی کے لیے برڈ باکس تیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا: ’جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ اس کبوتر کا یہاں مستقل رہنے کا ارادہ ہے تو میں نے اس کے لیے پرندوں کی خوراک خریدنا شروع کر دی۔‘

مسٹر سیلی برڈ کا خیال ہے کہ ’جو‘ امریکہ سے آسٹریلیا کسی بحری جہاز پر لفٹ لے کر پہنچا ہو گا۔

انہوں نے کہا ’اسے اوریگون میں ایک ریس کے لیے چھوڑا گیا تھا اور ہوسکتا ہے کہ وہ کسی طوفان میں پھنس گیا ہو۔ راستے سے بھٹکنے کے بعد ہو سکتا ہے کہ وہ سمندر کی طرف چلا گیا ہو اور کسی بحری جہاز پر اترا ہو جس کے ساتھ وہ آسٹریلیا آن پہنچا۔ جہاز سے اڑ کر وہ یہاں موجود ہے۔ ہمارے پاس موجود ہے۔‘

’میں نے امریکن ریسنگ پیجن یونین سے رابطہ کیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ الاباما کے شہر مونٹگمری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا پرندہ تھا۔‘

خبر رساں ادارے پی اے کے مطابق کوارنٹائن حکام اب کسی پیشہ ور پرندے پکڑنے والے سے معاہدہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

محکمہ زراعت جو ملک میں بائیو سکیورٹی کے لیے ذمہ دار ہے، نے کہا کہ اس کبوتر کو ’آسٹریلیا میں رہنے کی اجازت نہیں ہے‘ کیونکہ یہ ’آسٹریلیا کی فوڈ سکیورٹی اور ہماری جنگلی پرندوں کی آبادی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔‘

محکمے کے ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس سے آسٹریلوی پرندوں کی زندگی اور ہماری پولٹری کی صنعت کو براہ راست بائیو سکیورٹی کا خطرہ لاحق ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل حکام نے 2015 میں ہالی ووڈ سٹار جانی ڈیپ اور ان کی سابقہ اہلیہ امبر ہارڈ کی جانب سے آسٹریلیا میں سمگل کیے گئے یارکشائر کے دو ٹیریئرز (مخلوط کتوں)  ’پسٹل‘ اور ’بو‘ کو ہلاک کرنے دھمکی دی تھی۔

آسٹریلیا سے نکلنے کے لیے 50 گھنٹوں کی آخری مہلت ملنے کے بعد ان کتوں کو ایک چارٹرڈ طیارے کے ذریعے ملک سے نکالا گیا تھا۔

سیلی برڈ، جو کہتے ہیں کہ انہیں ’اپنے آخری نام کے علاوہ‘ پرندوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، نے کہا ہے کہ اب وہ خالی ہاتھوں سے کبوتر کو نہیں پکڑ سکتے کیونکہ وہ دوبارہ سے توانا ہو چکا ہے۔

سیلی برڈ نے بتایا کہ انہوں نے کبوتر کے مالک سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ابھی تک وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔

یہ کبوتر اب ہر دن باغ میں گزارتا ہے جہاں وہ بعض اوقات ایک جنگلے پر مقامی فاختہ کے پاس بیٹھا رہتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ اس نے اسی کو اپنا گھر سمجھ لیا ہے کیوں کہ اسے یہاں خوراک اور پانی مل رہا ہے۔‘

آسٹریلین نیشنل پیجن ایسوسی ایشن کے سکریٹری بریڈ ٹرنر نے کہا کہ انہوں نے کارگو جہازوں میں سوار چینی کبوتروں کے آسٹریلیا کے مغربی ساحلوں تک پہنچنے کے واقعات کے بارے میں سنا ہے جو نسبتاً کم سفر ہے۔

ٹرنر نے کہا کہ حقیقی خدشات موجود ہیں کہ امریکی کبوتر بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں اس لیے انہوں نے ’جو‘ ہلاک کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرنر نے کوارنٹائن سروس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’اگرچہ یہ بات عام آدمی کو سخت لگتی ہے، یہ ظالمانہ فعل ہے، اور اسی طرح کی باتیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ سروس اور اس طرح کے لوگ اس خیال (کبوتر کو ہلاک کرنے) کی پوری حمایت کریں گے۔‘

pigeonpedia.com کے مطابق کسی بھی کبوتر ریکارڈ کی گئی سب سے طویل پرواز بظاہر فرانس کے شہر ارئز سے شروع ہوئی تھی اور یہ 1931 میں ویتنام کے شہر سیگن میں اختتام پذیر ہوئی تھی۔

یہ فاصلہ 7،200 میل تھا جس کو اس پرندے نے 24 دنوں میں طے کیا تھا۔


اس رپورٹ کی تیاری میں پرس ایسوسی ایشن (پی اے) سے بھی معاونت لی گئی

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات