کشمیریوں کے لیے برف بھی مشکل ہی لائی

کشمیر کی قدرتی دلکشی میں اتنی بدصورتی چھپا دی گئی ہے کہ گماں ہوتا ہے شاید اس وادی پر جیسے آسیب کا سایہ ہے۔

سری نگر میں ایک خاتون برف میں برتن دھو رہی ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

 


تعصب، تشدد اور تذلیل کے تمام حربے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آزمائے جاتے ہیں۔ اب تو روزمرہ کے وہ کام بھی سرانجام نہیں دیئے جاتے جن کی وجہ سے یہاں کے بابو لوگ موٹی تنخواہیں لیتے ہیں۔

حالت یہ بنا دی گئی ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی سڑک پر سے کوڑا کرکٹ صاف کیا جاتا ہے تو بابو لوگ سوشل میڈیا پر اپنی مہربانی جتا کرعوام کو ان کی تعریف کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کہنے کو تو بر صغیر آزاد ہوا ہے لیکن غلامانہ ذہنیت سے شاید ہی کسی کو چھٹکارا نصیب ہوا ہے۔

کاش یہ سوشل میڈیا سرکاری کام کی تشہیر کے  لیے ممنوع کیا جاتا۔ کاش کوئی سرکاری بابوؤں کو سمجھاتا کہ دفتری فرائض کے عوض میں تنخواہ اور تعریف سرکار سے ملتی ہے۔ ان کو عوام میں جتا کر فرضی مقبولیت حاصل کرنا انتظامیہ کے بنیادی اصولوں کے مخالف ہے۔ فرضی جھڑپ کے بعد اب فرضی مقبولیت کا چلن شروع ہوا ہے۔

انڈین میڈیا کے بیشتر چینلوں کو کشمیر میں چند سیاحوں کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ دو دن سے اب صرف بھارتی پارلیمان کے 31 اراکین کی کشمیر سیر ان کے  لیے اہم خبر ہے۔

سردی کی شدت اور منجمد برف کی وجہ سے عوام کی روزمرہ مشکلات میڈیا کے  لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ وہ اس سخت موسم میں بجلی اور پانی کی قلت میں زندہ کیسے رہتے ہیں؟ سڑکیں اور گلی کوچے کتنی مدت تک بند رہتے ہیں؟ اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

اس کا تجربہ میڈیا والوں کے ساتھ ساتھ اراکین پارلیمان کو ضرور کرنا چاہیے جو بھارت کی ایک ارب آبادی کو ’نیا کشمیر‘ کا خواب دکھانے لگے ہیں بشرطیکہ ان سب کو سرکاری ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسوں کی بجائے عام گھروں میں ٹھہرایا جاتا۔

جنوری اور فروری کی شدید سردی اور منفی درجہ حرارت میں اکثر برف باری کی وجہ سے وادی کشمیر کئی ہفتوں تک سفید چادر میں لپٹی رہتی ہے۔ پہاڑوں، ندی نالوں اور سڑکوں پر برف جم کر یخ بن جاتی ہے جو پھر گرمیوں میں پگھل کر آبشار، ندی نالے اور دریا بن جاتے ہیں۔ بیشتر گلیشیر کی شکل میں کئی برسوں تک موجود رہتے ہے جس کا نظارہ ہر موسم میں سری نگر سے سونہ مرگ یا بانڈی پورہ سے گریز تک جانے والی شاہراؤں پر دیکھا جاسکتا ہے۔

جنوری کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں پانچ چھ روز تک شدید برف باری جاری رہی۔ سری نگر میں تقریباً ڈیڑھ فٹ اور باقی علاقوں میں تین سے چھ فٹ تک برف جمع ہوگئی۔ کئی علاقوں میں مکانوں کی پہلی منزل برف کے نیچے آگئی۔

عوام کو توقع تھی کہ سرکار فورا حرکت میں آ کر راحت پہنچانے کا کام شروع کرے گی لیکن مرکزی حکومت کا ’نیا کشمیر‘ کا خواب ایک سراب ثابت ہوا بلکہ آج پہلی بار مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق حکومت کے پاس برف ہٹانے والی مشینیں بھی نہیں ہیں۔ وہ بھی نہیں جو سابق حکومتوں کے دوران خریدی گئیں تھیں۔ نتیجہ یہ کہ کشمیر باقی دنیا سے تقریباً ایک ہفتے تک فضائی، زمینی اور مواصلاتی طور پر منقطع رہا۔

بقول ایک صحافی ’وادی گھپ اندھیرے میں ڈوب چکی ہے، دنیا سے ہمارا رابطہ مکمل طور پر کٹ چکا ہے۔ کوئی تعجب نہیں کہ اگر چین نے لداخ سے آگے چل کر وادی میں بھی بستی بنائی ہوگی کیونکہ کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ بیشتر لوگ شدید سردی اور برف باری میں صرف مکانوں کی چھتوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہیں۔‘

اس مرتبہ پہلی بار کئی مکانوں کی چھتیں برف کے بھاری وزن سے گر گئیں حالانکہ مکانات کی تعمیر یہاں موسمی حالات کو مدنظر رکھ ہی کی جاتی ہیں۔ ایسی برف باری تقریباً ایک دہائی کے بعد دیکھی گئی ہے۔

ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ برف گرنے سے پہلے حکومت برف ہٹانے کا منصوبہ تیار کرتی ہے تاکہ اہم سڑکوں اور شاہراؤں کو کھلا رکھا جاسکے۔ بجلی اور واٹر سپلائی محکمے یا صحت عامہ کو ایمرجنسی سے نمٹنے کے  لیے تیار رکھا جاتا ہے۔ اس بار سری نگر کی 1500 گلیوں سے برف ہٹانے کے  لیے صرف 15 جے سی بی مشینیں کہیں سے حاصل کی گئیں۔

شمالی کشمیر میں ایک حاملہ عورت کو گاؤں والوں نے 15 کلومیٹر تک سر پر اٹھا کر ہسپتال پہنچا دیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ کرونا (کورورنا) وائرس اور شدید سردی کی وجہ سے مریضوں کی بھاری تعداد ہسپتالوں میں ہے لیکن ایسے وقت میں طبی عملہ نہیں پہنچ پا رہا۔ بجلی اور پانی کی سپلائی کئی روز تک بحال نہیں ہوسکی حتی کی سڑکوں پر برف جمی رہنے سے پیدل چلنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور درجنوں افراد حادثات کا شکار ہوئے ہیں۔

پلوامہ کے ایک انجینیر محمد رؤف نے بتایا کہ ’عوام کو پہلی بار اس بات کا احساس ہوا کہ مقامی افسروں کا ہونا کتنا ضروری ہوتا ہے جو کم از کم بنیادی سہولیات کی بحالی میں تو دلچسپی لیتے تھے۔ اس بار نہ تو حکومت ہی نظر آئی اور نہ کوئی افسر۔ شاید کشمیریوں کو آزادی مانگنے کی یہ بھی ایک سزا ہے کہ انہیں بے یارو مددگار چھوڑ دو تاکہ تنگی حالات سے اپنے گھٹنے ٹیک دیں۔ ورنہ اہم سڑکوں پر سے برف ہٹانے میں ہفتے نہیں لگتے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جموں اور سری نگر کے بیچ 300 کلومیٹر لمبی شاہراہ بھی تقریباً ایک ہفتے کے بعد کھول دی گئی حالانکہ اس شاہراہ پر زیادہ تر فوجی قافلے چلتے رہتے ہیں اور شہریوں کو ان قافلوں کے گزرنے تک گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

گاندربل سے لداخ کا راستہ ویسے بھی چھ ماہ کے دوران زیادہ تر بند رہتا ہے لیکن اس بار لداخ میں چین کی موجودگی کے باعث ان شاہراؤں کی تعمیر نو کے بعد کھلا رکھنے کی امید تھی مگر بھاری برف باری کی وجہ سے یہ سڑکیں بھی ٹریفک کیے  لیے بند پڑی رہیں۔ سوشل میڈیا پر جب لوگوں نے اروناچل پردیش میں چین کی جانب سے نئی بستیوں کی تعمیر کی تصویریں دیکھیں تو ہڑابڑا کر کہنے لگے کہ ’کہیں یہ لداخ تو نہیں ہے جس کو اروناچل پردیش کہا جارہا ہے۔‘

مقامی لوگوں کو بجلی کے بغیر کئی روز تک گزارہ اور پانی کے  لیے برف کا استعمال کرنا پڑا۔ ویسے بھی کشمیر کے دریاوں سے بجلی پیدا کر کے شمالی بھارت کو فراہم کی جاتی ہے اور کشمیر کو اس کے بدلے میں رائلٹی کے طور پر محض 12 فیصد حاصل ہوتی ہے۔

سماجی کارکن رابعہ بٹ کہتی کو شکایت ہے کہ ’کشمیر کی انتظامیہ، عدلیہ اور پولیس میں چند برسوں سے کافی ردو بدل کیا گیا ہے۔ زیادہ تر افسر غیر کشمیری ہیں جنہیں ایک خاص مقصد کے تحت وادی میں تعینات کیا گیا ہے۔ برف باری تو خدا کی عنایت ہے مگر بیشتر افسروں نے گھروں سے باہر جانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ کم از کم برف گرنے کا نظارہ ہی کرتے۔ انہیں توقع تھی کہ کشمیری مدد کے  لیے گڑگڑائیں گے لیکن بعض علاقوں میں لوگوں نے خود بیلچے اٹھائے اور سڑکوں کو چلنے کے قابل بنایا۔ لوگوں نے مقامی انجینئروں کی مدد سے بجلی کے ٹرانسفارمر چالو کروائے۔ حکومتی مشینری کے بغیر یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔‘

بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت نے ریاست کی اندرونی خودمختاری کو ختم کرنے اور مقامی لیڈرشپ کو بند کرنے کے فورا بعد ’نیا کشمیر‘ بنانے کا وعدہ کیا تھا جس کے تحت جموں اور سری نگر کے دو شہروں کو سمارٹ سٹی میں تبدیل کرنا تھا۔ موجودہ حالات کو دیکھ کر ان شہروں کو سو سال پہلے کے دور میں پہنچا دیا گیا ہے۔

عوام کے بیشتر طبقے سمجھتے ہیں کہ علاقے میں جو کچھ تھوڑا بہت بنیادی ڈھانچہ بنا ہوا تھا اس کو بھی اکھاڑ لیا گیا ہے۔اب تو چپراسی کی پوسٹنگ بھی دہلی دفتر سے ہوتی ہے اور جو چپراسی کے مرنے کے بعد ہی طے ہوتی ہے۔

منور رانا نے شاید کشمیر کے حالات پر ہی لکھا ہے کہ

ایک آنسو بھی حکومت کے  لیے خطرہ ہے

تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ