پشاور میں خوشیاں بکھیرتے ’پاکستانی چارلی چپلن‘ سے ملیے

ایک مقامی دکاندار کے مطابق: ’عثمان کو اب اس علاقے میں ایک سٹار کی سی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ وہ ہماری دکانوں پر آتے ہیں، مزاحیہ پرفارمنس دکھاتے ہیں اور جو چاہے لے جاتے ہیں۔‘

’پاکستانی چارلی چپلن‘ کے نام سے مشہور عثمان خان پاکستان کے ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، جس نے کئی دہائیوں سے خودکش حملوں، بم دھماکوں اور دہشت گرد گروپوں کی دھمکیوں کا سامنا کیا ہے۔

چارلی چپلن کی ٹریڈ مارک اشیا جیسے بڑے سائز کے جوتوں، ڈھیلی ڈھالی پتلون، چھڑی اور بلیک بولر ہیٹ میں ملبوس سٹینڈ اپ کامیڈین عثمان خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھرنا چاہتے ہیں۔

30 سالہ عثمان نے پشاور کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا: ’اس فن کا واحد مقصد لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانا ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے پشاور اور خیبر پختونخواہ نے خوفناک وقت کا سامنا کیا ہے۔‘

’میں جانتا ہوں کہ میں عظیم فنکار چارلی چپلن کی طرح کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا لیکن محدود وسائل کے ساتھ میں خوشیاں بانٹنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔‘

انہوں نے ہنستے ہوئے مزید کہا: ’میں نے چارلی کے کردار اور ان کے انداز کو اتنی شدت سے اپنایا ہے کہ میں سوتے وقت بھی انہی کی طرح پرفارم کر رہا ہوتا ہوں۔ میری اہلیہ کو اس بارے میں شکایت رہتی ہے۔‘

عثمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نہایت کم عمری میں ہی چارلی چپلن کی فلمیں دیکھنا شروع کی تھیں اور جلد ہی وہ چھڑی کے ساتھ ان کے چلنے کے مزاحیہ انداز کی نقل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

اب جب وہ چپلن کے روپ میں پشاور کی سڑکوں پر گھومتے ہیں تو لوگ انہیں دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنوانے کے لیے ایک ہجوم اکھٹا ہو جاتا ہے۔

مقامی دکاندار ولی آفریدی نے عرب نیوز کو بتایا: ’یہ شخص مشکل حالات میں مسکراہٹیں پھیلا رہا ہے۔ عثمان کو اب اس علاقے میں ایک سٹار کی سی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ وہ ہماری دکانوں پر آتے ہیں، مزاحیہ پرفارمنس دکھاتے ہیں اور جو چاہے لے جاتے ہیں۔‘

عثمان کے چار دوست ان کے معمولات میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی ٹیم اب چارلی چپلن کی بہت ساری پرانی ویڈیوز کو عثمان کی شکل میں دوبارہ تیار کررہی ہے۔ انہیں امید ہے کہ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے وہ زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں تاکہ کامیڈی کے جذبے کو کمائی کا ذریعہ بھی بنایا جا سکے۔

عثمان نے ایک مقامی لوگوں کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے کہا: ’ہمارے آس پاس خوشگوار چہرے اور پرجوش ہجوم ہمیں مزید مزاحیہ ویڈیوز بنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔‘

پشاور کے ایک بازار کے رہائشی رضوان احمد نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’اگرچہ لیجنڈ چارلی چپلن چند عشروں قبل ہی انتقال کر گئے تھے لیکن خوشی پھیلانے کا ان کا فن آج بھی تازہ ہے۔ عثمان خان بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ افسردگی اور کرونا وائرس کے اس دور میں وہ ہمارے چہروں پر مسکراہٹ لاتے ہیں اور تفریح فراہم کرتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی