روسی ویکسین منظوری کے قریب: کیا یہ محفوظ اور موثر ہے؟

روس نے اس ویکسین کو اگست میں بغیر فیز تھری ٹرائل کے منظور کر لیا تھا، جس پر طبی ماہرین نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان کرونا کے خلاف د وویکسینوں کی منظوری دے چکا ہے(اے ایف پی)

میڈیا میں خبریں چل رہی ہیں کہ پاکستان میں ادویات منظور کرنے والا ادارہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کووڈ 19 کے خلاف روس کی بنائی ہوئی سپوتنک وی ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری دینے پر غور کر رہا ہے۔ 

ڈریپ کے کے ترجمان اختر عباس خان نے انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار مونا خان کو بتایا کہ ابھی تک منظوری کا نوٹس جاری نہیں ہوا، البتہ اسے ایک انتظامی وضاحت کے بعد جاری کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل اخبار بلوم برگ نے خبر دی تھی کہ ڈریپ کی ٹیکنیکل کمیٹی نے اس ویکسین کو کلیئر کر کے اسے رجسٹریشن بورڈ کو بھیج دیا ہے جو اس کی منظوری پر غور کر رہا ہے۔ اگر سپوتنک منظور ہو گئی تو یہ پاکستان میں کرونا وائرس کے خلاف منظور ہونے والی تیسری ویکسین بن جائے گی۔ اس سے قبل پاکستان ایسٹرا زینیکا اور چین کی سائنوفارم ویکسین کی منظوری دے چکا ہے۔

جنوری کے شروع میں روس نے پاکستان میں صحت کے حکام کو ایک خط لکھ کر اپنی تیار کردہ سپوتنک ویکسین بیچنے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ویکسین دوسرے ملکوں کی ویکسینوں سے زیادہ سستی ہے اور اس کی کامیابی کی شرح 91.4 فیصد یعنیٰ امریکی ویکسینوں کے لگ بھگ ہے۔

سپوتنک وی کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اسے امریکی ویکسینوں کی طرح کولڈ چین کی ضرورت نہیں پڑتی اور اسے دو سے آٹھ ڈگری سیلسیئس پر سٹور کیا جا سکتا ہے۔ 

بلوم برگ ویکسین ٹریکر کے مطابق اب تک دنیا کے 56 ملکوں میں کرونا ویکسین کی ساڑھے چھ کروڑ سے زیادہ خوراکیں دی جا چکی ہیں، جن میں اسرائیل سب سے آگے ہے اور وہ اب تک اپنی 40 فیصد کے لگ بھگ آبادی کو کرونا ویکسین دے چکا ہے۔ ان 56 ملکوں کی فہرست میں بھارت، بحرین، پاناما، اومان، ترکی اور سربیا بھی موجود ہیں، مگر پاکستان کا نام فی الحال شامل نہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویکسین کا نام راکٹ کے نام پر کیوں؟

روس نے اس ویکسین کا نام سپوتنک وی رکھا ہے، جو سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ کے ساتھ روس کی جنگی دوڑ میں روس کے خلائی راکٹ کا نام تھا جب کہ وی بظاہر انگریزی لفظ وکٹری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بظاہر روس اس نام سے یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ خلائی ٹیکنالوجی کی طرح میڈیکل سائنس کی دوڑ میں بھی مغربی ملکوں، خاص طور پر امریکہ کا ہم پلہ ہے۔

روس نے خلائی دوڑ کی طرح کرونا ویکسین کی دوڑ میں بھی مغرب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے کیوں کہ اس کی ویکسین اگست ہی میں منظور کر لی گئی تھی جب کہ فائزر اور موڈرنا کی ویکسینیں دسمبر میں منظور ہوئی تھیں۔

کیا سپوتنک وی موثر ہے؟

روس نے یہ ویکسین اگست میں منظور کی تھی، جس پر دنیا بھر میں طبی سائنس دانوں نے سخت تنقید کی تھی کیوں کہ روس نے اسے پہلے دو مرحلوں (فیز 1 اور فیز 2) کے بعد ہی منظور کر دیا تھا، جب کہ کسی بھی دوا کو عام لوگوں کو دینے سے قبل فیز 3 کی تکمیل بھی ضروری ہے جس کے دوران ہر طبقے کے لوگوں پر اس کے اثرات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔

خود روس کی ایسوسی ایشن آف کلینیکل ریسرچ آرگنائزیشنز کی وکیل سویتلانا زیویدووا نے کہا تھا، ’یہ (منظوری) مضحکہ خیز ہے۔ مجھے اپنے ملک کے لیے شرم محسوس ہو رہی ہے۔‘

البتہ اس ابتدائی جلدبازی کے بعد گیمالیا انسٹی ٹیوٹ نے ویکسین پر تجربات جاری رکھے اور 24 نومبر کو ایک پریس ریلیز کے ذریعے اعلان کیا کہ 40 ہزار سے زیادہ لوگوں پر تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ ویکسین 91.4 فیصد موثر ہے۔

انسٹی ٹیوٹ نے یہ بھی کہا کہ تجربات کے دوران کوئی غیر متوقع مضر اثرات دیکھنے میں نہیں آئے۔

اب تک روس کے علاوہ بیلاروس، ہنگری، ارجنٹینا اور عرب امارات اس ویکسین کو منظور کر چکے ہیں۔

یہ ویکسین کام کیسے کرتی ہے؟

اس ویکسین میں امریکی کمپینوں فائزر اور موڈرنا کے برعکس پرانی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ گیمالیا انسٹی ٹیوٹ نے انسانوں میں زکام پیدا کرنے والا ایک وائرس لیا اور اسے ناکارہ بنانے کے بعد اس کے اندر کرونا وائرس کا وہ جین ڈال دیا جس کے تحت کرونا وائرس سپائیک پروٹین بناتا ہے۔

جب اس ترمیم شدہ وائرس پر مبنی ویکسین کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے تو کرونا وائرس کی مخصوص سپائیک پروٹین کی وجہ سے انسانی جسم سمجھتا ہے کہ اس پر کرونا وائرس کا حملہ ہو گیا ہے اور مدافعتی نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔ چونکہ وائرس ناکارہ ہوتا ہے اس لیے انسان بیمار نہیں ہوتا، لیکن کرونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز تیار ہو جاتی ہیں، اور اگر آئندہ پر اصل وائرس کا حملہ ہو تو اس کا آسانی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

اس کے مقابلے پر فائزر اور موڈرنا کی ویکسینوں میں کوئی وائرس موجود نہیں ہوتا بلکہ کرونا وائرس کے جینیاتی کوڈ (آر این اے) کے ایک حصے کو جسم کے اندر بطور ویکسین داخل کیا جاتا ہے۔

کیا یہ ویکسین مغربی ویکسینوں سے سستی ہے؟

اس وقت فائزر کی ویکسین سب سے مہنگی ہے، اور اس کی قیمت 33 ڈالر فی خوراک ہے۔ موڈرنا کی ویکسین کی قیمت 20 ڈالر ہے جب کہ ایسٹریکا زینیکا/آکسفورڈ کی ویکسین چار ڈالر کی ہے۔

 ابھی تک چینی ویکسینوں کی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم توقع ہے کہ وہ بھی دس ڈالر سے کم قیمت پر فراہم کی جائیں گی۔ 

اس کی مقابلے پر روسی ویکسین دس ڈالر کی ہے، جو امریکی ویکسینوں سے سستی، لیکن برطانوی ویکسین سے ڈھائی گنا مہنگی ہے۔

فی الحال یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان سپوتنک وی کی کیا قیمت مقرر کی جاتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق