داؤد اور سلیمان کے دور کا ’سونے سے بھی قیمتی‘ جامنی رنگ دریافت

اسرائیل میں ماہرین آثار قدیمہ کو پہلی بار جامنی رنگ کے کپڑے کے ایسے ریشے ملے ہیں جن کا تعلق انجیل میں بیان کیے گئے داؤد اور سلیمان کے دور سے ہے۔

اسرائیلی نوادرات اتھارٹی کی جانب سے فراہم کردہ تصویر میں ماہر آثار قدیمہ وادی تمنا میں کام کرتے ہوئے (اے ایف پی /اسرائیلی نوادرات اتھارٹی)

آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق اسرائیل میں پہلی بار جامنی رنگ کے کپڑے کے ایسے ریشے دریافت ہوئے ہیں جن کا تعلق انجیل میں بیان کیے گئے داؤد اور سلیمان کے دور حکومت سے ہے۔

 ممکنہ طور پر فینشییا (قدیم تہذیب) میں 1570 قبل از مسیح کے قدیم دور میں سمندری گھونگوں کے گلینڈز سے بنایا جانے والا ’شاہی‘ یا ’ٹیریئن‘ جامنی رنگ قدیم دنیا میں حاکمیت اور دولت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔ مانا جاتا ہے کہ یہ رنگ سونے سے زیادہ قیمتی تھا۔

بحیرہ روم کے جنوبی علاقے میں لوہے کے زمانے میں کپٹروں میں اس رنگ کے استعمال کا حوالہ بہت سی مسیحی اور یہودی تحریروں میں دیا گیا ہے، جبکہ ہیکل سلیمانی کے ساتھ بھی اس کا تعلق جوڑا گیا ہے۔

لیکن اس سے پہلے گھونگوں کے خول اور برتنوں کے ٹکڑوں پر جامنی رنگ کے نشانوں کے سوا سائنس دانوں کو اس باوقار قدیم صنعت کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں ملا تھا۔

وادی تمنا کی رنگ دار ٹیکسٹائلز کا مشاہدہ کرنے کے دوران محققین کپڑے کی باقیات، جھالر اور اون کے وہ ریشے دیکھ کر حیران رہ گئے جنہیں شاہی جامنی رنگ میں رنگا گیا تھا۔ وادی تمنا جنوبی اسرائیل میں واقع ایک قدیم علاقہ ہے جہاں سے تانبا نکلتا ہے۔

قدامت کا اندازہ لگانے کے لیے ریڈیوکاربن ڈیٹنگ کی تکنیک سے اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ ملنے والے نمونے ایک ہزار سال قبل از مسیح دور کے ہیں جب ،خیال کیا جاتا تھا کہ بیت المقدس میں داؤد اور سلیمان کی بادشاہتیں قائم تھیں۔

اسرائیل کے نوادارت کے ادارے میں نامیاتی دریافتوں کی نگران ڈاکٹر ناما سکینک نے کہا: ’یہ بہت جوش دلانے والی اور اہم دریافت ہے۔ پہلی بار وہ کپڑا ملا ہے جس کا تعلق داؤد اور سلیمان کے ادوار سے ہے۔ اس کپڑے کو باوقار جامنی رنگ دیا گیا ہے۔ قدیم زمانے میں جامنی رنگ  بڑے مرتبے، مذہبی شخصیات اور بلاشبہ شاہی خاندان کے افراد کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ’خوبصورت جامنی رنگ، یہ حقیقت کہ یہ دھیما نہیں پڑتا اور اس کو بنانا مشکل تھا، کیونکہ یہ خول دار جانداروں کے جسم میں پائی جانے والی معمولی مقدار سے بنتا ہے، تمام ایسی باتیں ہیں جو اسے رنگوں میں سب سے زیادہ قابل قدر بناتی تھیں ، اس لیے یہ اکثر سونے سے زیادہ مہنگا ہوتا تھا۔‘

’پلوس ون‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق حقیقی جامنی رنگ (ارجمان) تین اقسام کے خول دار جانداروں کی بڑی آنت کے نچلے حصے کے قریب واقع گلینڈ سے تیار کیا جاتا تھا۔ یہ جاندار بحیرہ روم میں پائے جاتے تھے۔ رنگ حاصل کرنے کے لیے کشید کا ایک پیچیدہ عمل کیا جاتا تھا جو کئی روز تک جاری رہتا تھا۔

ڈاکٹر سکینک نے مزید کہا: ’حالیہ دریافت تک ہمارا واسطہ خول دار جانوروں کے ضائع ہونے والے خولوں اور ان ٹکروں سے پڑا تھا جن پر رنگ کے خانے بنے ہوئے تھے جس سے لوہے کے دور میں جامنی رنگ کی صنعت کا ثبوت ملتا ہے۔ اب پہلی مرتبہ ہمیں کپڑوں پر اس رنگ کا براہ راست ثبوت ملا ہے جو تقریباً تین ہزار سال سے محفوظ ہیں۔‘ 

تل ابیب یونیورسٹی میں شعبہ آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ایریزبن یوسف نے کہا کہ آثار قدیمہ کی تلاش میں تمنا میں جاری مہم کے تحت 2013 سے مسلسل کھدائی کی جا رہی ہے۔ 

ان کا کہنا تھا: ’علاقے کے انتہائی خشک موسم کی بدولت ہم لوہے کے دور، سلیمان اور اور داؤد کے زمانے کے کپڑے، رسیاں اور چمڑے جیسا نامیاتی مواد دریافت کرنے کے بھی قابل ہیں جس سے قدیم دور کی زندگی کی نادر جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔‘

لوہے کے دور میں پتھر کو پگھلا کر تانبے کی دھات نکالنے کو جدید دور میں تیل سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ اس کام میں مہارت درکار تھی، اسے خفیہ رکھا جاتا تھا اور جن کے پاس یہ علم تھا وہ اپنے دور کے اعلیٰ تکنیکی ماہرین سمجھے جاتے تھے۔

وادی تمنا میں حرارت کے ذریعے خالص دھاتیں حاصل کرنے کے مقام کو ’غلاموں کی پہاڑی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو صنعتی فضلے بھرا ہے جس میں دھاتیں پگھلانے کی بھٹیوں کا فضلہ شامل ہے۔

فضلے کے ان ڈھیروں میں رنگین کپڑے کے تین ٹکڑے ملے جس کی وجہ سے محققین کی توجہ اس طرف مبذول ہو گئی۔ محققین کے لیے ماننا مشکل ہو رہا تھا کہ انہیں اتنے قدیم دور کا اصلی جامنی رنگ کا مواد ملا ہے۔ 

بقول پروفیسر بن یوسف: ’آثار قدیمہ کے ماہرین داؤد کے محل کی تلاش میں ہیں۔ تاہم ہو سکتا ہے کہ داؤد نے اپنی دولت کا اظہار عالی شان عمارتوں کے ذریعے نہ کیا ہو بلکہ ایسی اشیا سے کیا ہو جو خانہ بدوش ورثے سے مطابقت رکھتی ہیں جیسا کہ کپڑا اور ہاتھ سے بنائی گئی اشیا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ