پوتن کے ناقد الیکسی نوالنی کو قید کی سزا پر مغربی ممالک کی مذمت

نوالنی کو 2014 میں ایک فراڈ کیس میں سزا سنائی گئی تھی جس پر عمل درآمد معطل کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب عدالت نے اس سزا کو عملی قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے 44 سالہ نوالنی کا الزام ہے کہ گذشتہ سال انہیں زہر دینے کے پیچھے روسی حکومت کا ہاتھ ہے۔ (ماسکو سٹی کورٹ پریس سروس/ اے ایف پی)

ماسکو کی ایک عدالت نے حکومت کے سب سے بڑے ناقد الیکسی نوالنی کو تین سال کے لیے جیل بھیج دیا ہے جس کے بعد مغربی ممالک نے عدالتی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی پر زور دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد نوالنی کو پہلی بار قید کی طویل سزا بھگتنی ہو گی۔

انہیں 2014 میں ایک فراڈ کیس میں سزا سنائی گئی تھی جس پر عمل درآمد معطل کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب عدالت نے اس سزا کو عملی قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے 44 سالہ نوالنی کا الزام ہے کہ گذشتہ سال انہیں زہر دینے کے پیچھے روسی حکومت کا ہاتھ ہے۔ 

برطانیہ، فرانس، جرمنی، امریکہ اور یورپی یونین نے عدالتی فیصلے کی مذمت کی ہے جب کہ ماسکو نے مغربی ملکوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ روس کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔

گذشہ دو ہفتوں سے ان کے حامی ماسکو میں مظاہروں میں شامل ہیں اور اس فیصلے کے بعد انہوں نے مزید مظاہرے کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ 

نوالنی کا معاملہ کئی سال میں روسی حکومت کے لیے سب سے زیادہ سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے اور بعض مغربی ملک روس پر نئی پابندیاں لگانے پر زور دے رہے ہیں۔

2014 میں دھوکہ دہی کے ایک کیس میں نوالنی کو ساڑھے تین سال کی معطل سزا سنائی گئی تھی۔ منگل کو جج نطالیہ رپنیکووا نے اس سزا کی معطلی ختم کرتے ہوئے انہیں اپنی سزا کا وقت پورا کرنے کے لیے قیدیوں کی مخصوص کالونی بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

ان پر الزام لگایا گیا ہے انہوں نے خود کو جیل حکام کے حوالے کرنے سے انکار کر کے پرول کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ انہیں جرمنی سے ماسکو واپسی پر 17جنوری کو گرفتار کر لیا گیا۔

گذشتہ سال نوالنی زہرخورانی سے صحت یابی تک کئی ماہ جرمنی میں مقیم رہے۔ ان نے کہنا تھا کہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے جیل حکام سے ملاقات طے کرنا ممکن نہیں تھا لیکن جج نے کہا کہ وہ زہرخورانی سے پہلے بھی جیل حکام سے نہیں ملے تھے۔ 

2014 میں سزا کے فیصلے کے بعد انہیں گھر پر نظربند رکھا گیا تھا جس کہ مذمت انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے بھی کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جج ریپنیکووا نے کہا کہ اس نظربندی کی مدت کو ان سزا کا حصہ سمجھا جائے گا۔

نوالنی کی وکیل اولگا میخائلووا نے کہا ہے کہ اب نوالنی دو سال نو ماہ جیل میں گزاریں گے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ وکلا کی ٹیم عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس دوران نوالنی ماسکو کے حراستی مرکز میں رہیں گے۔

فیصلے کے فوراً بعد ہی نوالنی کے اینٹی کرپشن فنڈ نے  ماسکو میں مظاہرے کی کال دی۔ نوالنی کے ہزاروں حامیوں نے سڑکوں پر مارچ کیا اور اے ایف پی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے دیکھا کہ جدید آلات سے لیس پولیس نے شہر کے مرکز میں درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا

مقامی میڈیا کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ پولیس افسر مظاہرین پر لاٹھی چارج کر رہے ہیں اور گلیوں میں ان کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔

فیصلے سے پہلے عدالت میں دھواں دھار تقریر کرتے ہوئے نوالنی نے روسی صدر پوتن پر الزام لگایا کہ وہ اپنے ناقدین کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’وہ لاکھوں افراد کو ڈرانے کے لیے ایک شخص کو سلاخوں کے پیچھے ڈال رہے ہیں۔‘

انہوں نے ان الزامات پر بھی روسی صدر کا مذاق اڑایا کہ انہیں زہر دینے کے لیے اعصاب کو متاثر کرنے والا کیمیکل ’نووی چوک‘ ان کے زیرجامے میں رکھا گیا تھا۔  نوالنی نے کہا کہ صدر پوتن کو ’تاریخ میں زیرجاموں کے ذریعے زہر دینے والے شخص کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔‘

عدالتی فیصلے کے بعد امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے نوالنی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

 انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی روس کو اپنے شہریوں کے حقوق کی پاسداری میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیں گے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے بھی نوالنی کی رہائی کا مطالبہ کیا جبکہ جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے عدالتی فیصلے کو قانون کی عمل داری سے کہیں دور قرار دیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ’خالص بزدلی‘ ہے، جبکہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسپ بوریل، جو اس ہفتے ماسکو کا دورہ کریں گے، نے کہا ہے کہ نوالنی کو قید کی سزا سے قانون کی پاسداری کے لیے روس کی عالمی ذمہ داریوں اور بنیادی حقوق کی نفی ہوتی ہے۔

دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے مغربی ملکوں کے ردعمل کو ’حقیقت سے دور‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک خود مختار ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا