پوتن کا بحیرہ اسود میں ایک ارب کے محل کی ملکیت سے انکار

روسی صدر نے کہا ہے کہ ان کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والی رپورٹ ’10 سال پرانی افواہوں‘ کو استعمال کرتے ہوئے ’روسی شہریوں کی برین واشنگ‘ کرنے کی کوشش ہے۔ 

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے بحیرہ اسود کے ساحل پر واقع محل کی ملکیت کی پہلی بار تردید کی ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما الیکسی نوالنی نے ایک ارب ڈالر کے عالیشان محل کو روسی صدر کی ملکیت قرار دیا تھا۔ 

پوتن نے کہا ہے کہ ان کے پاس زیر بحث آنے والی تحقیقاتی رپورٹ دیکھنے کے لیے ’وقت نہیں ہے،‘ جو پوتن کے ناقد اپوزیشن لیڈر الیکسی نوالنی کی گرفتاری کے فوراً بعد 19 جنوری کو ہی ریلیز ہوئی تھی۔ 

تاہم روسی صدر نے کہا ہے کہ رپورٹ کے وہ حصے، جو انہوں نے دیکھے، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ’10 سال پرانی افواہوں‘ کو استعمال کرتے ہوئے ’روسی شہریوں کی برین واشنگ‘ کرنے کی کوشش ہے۔ 

پوتن نے کہا: ’انہوں نے فیصلہ کیا کہ معاملات کو ایک جگہ اکٹھا کرنے اور ہمارے شہریوں کو برین واش کرنے کا یہ اچھا وقت ہے۔ یہ محض ایک پلندہ اور کٹ اینڈ پیسٹ کیا گیا کام ہے۔‘

مکمل طور پر پیچیدہ تردید میں پوتن نے کہا کہ یہ جائیداد ان کی یا ان کے رشتہ داروں کی ’کبھی‘ ملکیت نہیں رہی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پوتن کے اس مخصوص انداز بیان کا مقصد نوالنی کی ٹیم کے اس دعوے کو نظرانداز کرنا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ کاروباری شخصیات نے رشوت کے طور پر محل کا تحفہ دیا اور اس میں ہونے والے تعمیرات کے لیے سرکاری کمپنیوں نے سرمایہ فراہم کیا۔ 

اپوزیشن لیڈر نے یہ انکشافات ایک دو گھنٹے طویل ویڈیو میں کیے، جسے ساڑھے آٹھ کروڑ بار دیکھا جا چکا ہے۔

رپورٹ کا مرکزی دعویٰ، کہ یہ محل صدر کے لیے تعمیر کیا گیا ہے، مکمل طور پر نیا نہیں ہے لیکن زیادہ حیرت انگیز تفصیلات نئی ہیں۔ ان تفصیلات میں ہاکی سٹیڈیمز، سینیما گھر، سوئمنگ پولز، گرم پانی کے حمام، موسیقی رومز، جوا خانے، حقہ پینے کے کمرے اور انتہائی قیمتی ٹوائلٹ برشز شامل ہیں۔ 

بار بار سخت کارروائی کے انتباہ کے باوجود روس میں ایک سے تین لاکھ افراد نوالنی کی رہائی کا مطالبہ کرتے سڑکوں پر نکلے۔ یہ مظاہرہ پوتن کے 10 سالہ دورِ حکمرانی کے لیے سب سے زیادہ سنجیدہ مسئلہ بن گیا ہے۔ 

پوتن نے پیر کو کہا تھا کہ وہ لوگوں کی ’رائے کے اظہار‘ کے حق کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’غیرقانونی طور پر‘ ایسا کرنے سے انقلاب کی طرف واپسی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا: ’جن لوگوں نے روسی سلطنت کی بنیادیں ہلائیں، ہوسکتا ہے کہ ان کی نیتیں اچھی ہوں لیکن اس کا کیا فائدہ ہوا۔‘ 

روسی حکام واضح کر چکے ہیں کہ وہ نوالنی کے حق میں مظاہروں کے لیے کوئی قانونی طریقہ کار وضع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا