زہر خورانی سے صحتیابی کے بعد وطن لوٹنے پر الیکسی نوالنی گرفتار

پانچ ماہ قبل زہر خورانی سے قریب المرگ ہونے والے روسی حزب اختلاف کے رہنما اور نمایاں ناقد الیکسی نوالنی ملک واپس پہنچے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کا انتظار کر رہے تھے۔

ماسکو کے شیریمتوف ائیر پورٹ کے پاس پورٹ   کنٹرول پر الیکسی نوالنی اور ان کی اہلیہ (اے ایف پی)

روسی حزب اختلاف کے رہنما اور ولادی میر پوتن کے ناقد الیکسی نوالنی کو ماسکو واپسی پر پولیس نے گرفتار کر لیا۔ وہ پانچ ماہ قبل زہر خوانی سے قریب المرگ ہونے کے بعد ملک واپس لوٹے تھے۔

فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 44 سال نوالنی کو روسی دارالحکومت میں اترنے کے چند منٹ بعد پاسپورٹ کنٹرول پر پولیس اہلکاروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ریاستی اصلاحی ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ نوالنی کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ’ان کے خلاف 29 جنوری کو عدالت میں سماعت ہو گی۔‘

اپنی گرفتاری سے چند لمحے قبل نوالنی سے سوالوں کے جواب کچھ اس طرح سے دیے کہ ان کے عقب میں کریملن کے ٹاورز دکھائی دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا: ’یہ گذشتہ پانچ ماہ کا سب سے بہترین دن ہے۔ میں خوف زدہ نہیں ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں درست ہوں۔  میں کسی سے نہیں ڈرتا۔‘

اتوار کا دن وہ پہلا موقع تھا جب اگست میں سائبیریا کی پرواز پر حالت بگڑنے کے بعد ہنگامی علاج کے لیے بذریعہ جہاز جرمنی لے جائے جانے کے بعد پوتن کے ناقد نوالنی نے روسی سرزمین پر قدم رکھے تھے۔

 

بعد میں کئی یورپی لیبارٹریز کے ٹیسٹس میں یہ سامنے آیا تھا کہ انہیں نوی چوک نامی نرو ایجنٹ یعنی زہر دیا گیا ہے جو اس سے قبل بھی روسی ریاست کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

حزب اختلاف کے رہنما گرفتاری کے امکانات کے باوجود ملک واپس آنے کا اعلان کر چکے تھے۔

یہ طے تھا کہ یہ دن ڈرامے سے بھرپور ہو گا لیکن اس معاملے میں کریملن نے فیصلہ کیا کہ یہ وہ تھیٹر کرنا پسند کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکام نے اس حوالے سے ایک آزمودہ نسخہ اپنایا اور آخری لمحات میں ان کے جہاز کو ایک مختلف ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا جس کے بعد ہوائی اڈے پر صحافی اور ان کے کئی ہزار حمایتی انتظار کرتے رہ گئے۔

دن کے آغاز میں ماسکو ونوکوو ائیرپورٹ اس جہاز کی منزل قرار دیا گیا تھا جسے ایک میدان جنگ کی طرح تیار کیا گیا تھا۔ یہاں فسادات پر قابو پانے کے لیے پولیس، پولیس کی درجنوں گاڑیاں، حفاظتی کتے، دھاتی شیلڈز کے دائرے سب موجود تھے۔

پہلے طیارہ اپنے راستے سے ہٹ گیا۔ پھر سوشل میڈیا پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بیان چلا کہ اس کا رخ بدلا جا رہا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ائیر لائن اور ہوائی اڈے کے ترجمانوں نے تصدیق کی کہ طیارہ شمال میں شہر کے بڑے ہوائی اڈے شیریمتوف کی جانب بڑھ رہا ہے۔

نوالنی کی قریب المرگ حالت کے بعد واپسی کو کئی افراد کی جانب سے ولادی میر لینن کی سال 1917 کے اکتوبر انقلاب سے قبل پیٹروگراڈ سٹیشن یا اپارٹھائیڈ دور کے جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کی واپسی سے جوڑا جا رہا ہے۔

کچھ زیادہ ہی پرجوش رائے میں انہیں یسوع مسیح کی دوسری آمد سے ملایا جا رہا تھا۔ یہ تفسیر نوالنی کی جانب سے اپنے حمایتیوں کو ہوائی اڈے پر اپنا استقبال کرنے کی دعوت سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی۔

لیکن اس کے بجائے حزب اختلاف کے رہنما کو روس میں ایک اور پرانے دوست کی جانب سے خوش آمدید کہا گیا: قانون نافذ کرنے والے ادارے!

اس نتیجے کا ہمیشہ سے امکان تھا اور حکام کی جانب سے اس کی بھرپور تیاری کی گئی تھی۔ 12 جنوری کو ریاستی اصلاحی ادارے نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے کریملن کے مخالف کو پیرول قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر لیا ہے اور وطن واپسی پر انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ ایک اور ریاستی ادارے، تحقیقاتی کمیٹی نے نوالنی کی آزادی کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ اپنی انسداد بدعنوانی فاؤنڈیشن کے فنڈز میں غبن کے مرتکب ہوئے ہیں۔

اس کے قانونی جواز بہت کم حد تک قابل اعتماد ہیں لیکن نوالنی کے اپنی وکیل تسلیم کر چکے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک الزام بھی ان کو روس کے بدنام عدالتی نظام سے طویل عرصے کے لیے جیل بھیجنے کے لیے کافی ہے۔

تاہم فی الحال حزب اختلاف کے رہنما کا مستبقل تاریک ہی نظر آتا ہے۔ ان کے حمایتی زور دیتے ہیں کہ چاہے انہیں قید کر دیا جائے وہ اپنے قید خانے سے ویسے ہی نئے مستبقل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جیسے نیلسن منڈیلا نے رکھی تھی۔ نوالنی کو امید ہو گی کہ آزادی کی جانب ان کا سفر اپارٹھائیڈ کے خلاف جدوجہد کرنے والےمنڈیلا کے 27 سال سے کم ہو گا۔

یہ یقینی ہے کہ پوتن کے ناقد کی روس واپسی نے روس کی سیاسی زندگی کو ایک جلا بخشی ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب کریملن کو رواں سال ہی کافی حد تک مشکل پارلیمانی انتخابات کا سامنا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ نوالنی کی جماعت کریملن کے حامی امید واروں کو شکست دینے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل پہلے ہی ان کی گرفتاری پر رد عمل دیتے ہوئے انہیں ضمیر کا قیدی قرار دے چکی ہے۔ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کے نامزد کردہ قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا: ’ان کی زندگی پر قابل مذمت حملہ کرنے والوں کو کٹہرے میں لانا چاہیے۔‘

کریملن نے اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ اس نصیحت پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ اتوار کی شام ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے لاعلمی کا اظہار کچھ ان الفاظ میں کیا: ’کیا انہی  گرفتار کر لیا گیا ہے؟ جرمنی میں؟ مجھے اس کا علم نہیں تھا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا