سرکاری ملازمین کا دھرنا: تنخواہوں میں 20 فیصد عبوری اضافے پر معاہدہ

تنخواہوں میں اضافے کے لیے سراپا احتجاج سرکاری ملازمین اور حکومت کے درمیان تنخواہوں میں 20 فیصد عبوری اضافے پر معاہدے طے پایا ہے، مگر مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد دھرنا ختم کریں گے۔

بدھ کی صبح شروع ہونے والا سرکاری ملازمین کا تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج اسلام آباد کے انتہائی حساس ریڈ زون میں شام پانچ بجے کے بعد بھی نہ صرف جاری رہا بلکہ پھیلتا گیا۔ (تصاویر:اے ایف پی)

وفاقی حکومت اور سرکاری ملازمین کے درمیان ایک سے 22 گریڈ کے اہلکاروں کی تنخواہوں میں 20 فیصد عبوری اضافے پر معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد اسلام آباد میں دھرنا ختم کریں گے۔ 

اسلام آباد کے ڈی چوک میں موجود انفارمیشن سٹاف ویلفئیر ایسوسی ایشن کے پریس سیکریٹڑی ملک ارشد اعوان نے انڈہینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا جانے کی تصدیق کی۔  

انہوں نے کہا کہ حکومت نے گرفتار رہنماوں کی رہائی کا اعلان کر دیا ہے تاہم مذاکرات کا اگلا دور جمعرات کی صبح 11 بجے دوبارہ ہو گا۔ 

انہوں نے کہا کہ رات کا بقیہ حصہ مظاہرین یہیں گزاریں گے اور جمعرات کو دو بجے تک تنخواہوں میں اضافے سے متعلق سرکاری نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔ 

مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے سربراہ چوہدری سرفراز نے کہا کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ تک ایک سے 22گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20فیصد اضافے پر راضی ہو گئی ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کا سروس سٹرکچر بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ 

معاہدہ اسلام آباد میں وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کے گھر پر وزرا کمیٹی اور آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائینس (اگیگا) کے رہنماوں کے درمیان ہوا، جن میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر پرویز خٹک کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے حصہ لیا۔ 

اگیگا کے چیف آرگنائزر رحمن باجوہ اور دوسری تنظیموں اور مزدور یونینز کے دوسرے رہنماوں نے مذاکرات میں سرکاری ملازمین کی نمائندگی کی، جن میں سے اکثر کو گفت و شنید کی خاطر اڈیالہ جیل سے رہا کر کے لایا گیا۔ 

لیڈی ہیلتھ ورکرز کی صدر رخسانہ انور بھی مذاکرات میں شریک تھیں۔ 

سرکاری ملازمین کا بدھ کی صبح شروع ہونے والا احتجاج تاحال جاری ہے اور مظاہرین کی بڑی تعداد نے اسلام آباد میں ریڈ زون کے مختلف چوکوں، سڑکوں اور سبزہ زاروں پر رات گزاری، جبکہ ان میں خواتین لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی شامل تھیں۔ 

بدھ کی رات تقریباً نو بجے حکومت کی طرف سے احتجاج کرنے والے مظاہرین سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا گیا، لیکن انہوں نے اپنے گرفتار رہنماوں کی رہائی کو مذاکرات کے لیے پہلی شرط رکھی۔ 

یاد رہے کہ سرکاری ملازمین کی مختلف یونینز کے کم و بیش 50 رہنماوں کو بدھ کے احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ 

گذشتہ رات 12 بجے کے بعد سرکاری ملازمین کو رہائی ملی اور انہیں وفاقی وزیر پرویز خٹک کے گھر لایا گیا جہاں آدھی رات کے بعد مذاکرات شروع ہوئے اور تقریبا ڈھائی بجے معاہدے کا اعلان کیا گیا۔ 

معاہدے کے تحت مالی سال 22۔2021 بجٹ آنے تک ایک سے 22گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد عبوری اضافہ کیا جائے گا۔ 

وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے صوبائی حکومتوں سے بات کرنے کی حامی بھی بھری۔ 

یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت نے ایک سے 16 گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 24فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ 

احتجاج کے پہلے روز کا احوال

بدھ کی صبح شروع ہونے والا سرکاری ملازمین کا تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج اسلام آباد کے انتہائی حساس ریڈ زون میں شام پانچ بجے کے بعد بھی نہ صرف جاری رہا بلکہ پھیلتا گیا۔ 

شام چار بجے کے بعد مظاہرین نے مخصوص مقامات سے پیش قدمی شروع کی اور پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں میں پولیس نے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی جس سے شاہراہ دستور پر ہر طرف دھواں دیکھا جا سکتا تھا۔ 

شاہراہ دستور پر تقریباً دو سے تین سو مظاہرین نے پتھراؤ کرتے ہوئے پولیس کو پیچھے دھکیل دیا۔ 

سری نگر ہائی وے پر بھی مظاہرین نے سڑک بند کر دی۔ 

اسی طرح کانسٹیٹیوشن ایونیو پر بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی دیکھنے میں آئی اور پولیس نے آنسو گیس شیلنگ بھی کی۔ 

مظاہرین بڑی تعداد میں اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر بھی اکٹھے ہوئے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ 

پاکستان سیکرٹریٹ کے اندر بھی تین سے چار ہزار مظاہرین موجود تھے جنہیں گیٹ بند کر کے محصور کر دیا گیا اور وہ اندر ہی نعرہ بازی کرتے رہے۔ 

پولیس نے پاکستان سیکرٹریٹ کے باہر بھی اکٹھے ہونے والے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل برسائے۔ 

بدھ کی صبح احتجاج کے شروع ہونے پر خیال کیا جا رہا تھا کہ چھٹی کے وقت مظاہرین منتشر ہو جائیں گے اور صورت حال نارمل ہو جائے گی، تاہم ایسا ہوا نہیں کیونکہ پانچ بجے تک سرکاری مظاہرین کی بڑی تعداد پاکستان سیکرٹریٹ کے اندر اور باہر، شاہراہ دستور، سری نگر ہائی وے اور ڈی چوک میں موجود اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی رہی۔ 

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سرکاری ملازمین کو حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے رہنماؤں کے ساتھ ایک سے 16 گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بات ہوئی تھی اور آج وہ اوپر کے گریڈز کو بھی شامل کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ 

وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ صوبوں کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ صرف صوبائی حکومتیں ہی کر سکتی ہیں۔ 

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی نے سرکاری ملازمین کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کو حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ 

احتجاج کی کال پاکستان میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی درجنوں لیبر یونینز اور دوسری تنظیموں کے اتحاد آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) کی جانب سے دی گئی ہے۔ 

بدھ کو احتجاج میں جاری وزارت پٹرولیم سے تعلق رکھنے والے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر نے انڈپینڈںٹ اردو کو بتایا: ’ہمارے ہاں بہت امتیازی قوانین بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ حکومت میں طاقتور اور رشوتی محکموں کی تنخواہیں دو، تین، چار گنا ہیں۔۔۔۔۔جو سرکاری ملازم ہیں اور کم تنخواہ والے ہیں ان کی تنخواہیں کئی کئی سال تک بڑھتی ہی نہیں ہیں۔ ایف بی آر، سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ان سب کی تنخواہیں دو گنا ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’جو غریب لوگ دفاتر میں کام کرتے ہیں ان کی تنخواہیں 30 سے 50 ہزار سے زیادہ نہیں ہیں۔۔۔۔۔ ہم عمران خان کی سنت پر عمل کرتے ہوئے یہاں پر 126 دن کی بجائے 226 دن کے لیے دھرنا دیں گے۔‘

ایک اور سرکاری ملازم نے کہا: ’عمران خان نے بہت زیادہ وعدے کیے تھے کہ غریبوں کے لیے کچھ نہ کچھ کروں گا۔ عمران خان صاحب کچھ بھی نہیں کر رہے۔ آٹا مہنگا ہے، چینی مہنگی ہے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی نے سرکاری ملازمین کے مظاہرے کے حق میں بیان جاری کرتے ہوئے ان پر پولیس شیلنگ کی مذمت کی ہے۔ جماعت کے سینیئر رہنما نیر بخاری نے ایک بیان میں کہا: ’تنخواہوں میں اضافہ کے مطالبے پر بہیمانہ تشدد فسطائیت کی عکاسی ہے۔‘

دوسری جانب آفس مینیجمنٹ گروپ افسران کی تنظیم نے بھی پریس ریلیز میں ملازمین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا ہے مگر ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ گریڈ 17 سے 22 میں کام کرنے والے افسران بھی تنخواہوں میں عدم توازن سے متاثر ہیں۔

بیان میں گروپ کا کہنا تھا کہ اگر ان افسران کو نظر انداز کیا گیا تو وہ بھی اس اپنا مناسب ریکارڈ احتجاج کروائیں گے۔

بدھ کو اسلام آباد کے اڈیشنل ڈپٹی کمشنر رانا محمد وقاس انور کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے ساتھ مذاکرت کیے۔

 

’مطالبے پورے ہونے تک دھرنا دیں گے‘

مظاہرے میں میں حصہ لینے کے لیے ملک بھر سے سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد گذشتہ رات سے اسلام آباد پہنچنا شروع ہو گئی تھی۔ 

گذشتہ روز اگیگا کے چیف آرگنائزر رحمان باجوہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا: ’یہ کوئی مختصر یا ایک روزہ احتجاج نہیں ہو گا بلکہ ہم دھرنا دینے جا رہے ہیں جو ہمارے مطالبات کے قبول ہونے تک جاری رہے گا۔‘ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دھرنے میں پورے ملک سے سرکاری ملازمین حصہ لینے پہنچ رہے ہیں۔ 

وفاقی سیکریٹیریٹ میں ملازمت کرنے والے آل پاکستان سیکریٹیریٹ ایمپلائز کوآرڈینیشن کمیٹی کے رہنما حاجی محمد حسین طاہر کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال بھی ہو گی، جو دھرنے کے دوران جاری رہے گی۔ 

’جو سرکاری ملازمین احتجاج اور دھرنے میں حصہ لینے کے لیے اسلام آباد میں موجود ہوں گے وہ تو اپنے اپنے دفاتر سے دور ہی رہیں گے۔‘ 

رحمان باجوہ کا کہنا تھا کہ اب ان کے مطالبات میں وفاقی وزیر خزانہ کی تبدیلی بھی شامل ہو گی۔ 

تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات ایک درجن رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ 

مطالبات کیا ہیں؟ 

سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کے لیے گذشتہ ماہ کے دوران بھی اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جس کے نتیجے میں وزیر اعظم عمران خان نے مذاکرات کے لیے وفاقی وزرا پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی تھی۔ 

رحمان باجوہ نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں چالیس فیصد اضافے کا عندیہ دیا تھا، جس کے باعث احتجاج ختم کر دیا گیا تھا۔ 

تاہم وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس نے وفاقی حکومت کے ایک سے سولہ گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں چوبیس فیصد اضافے کی منظوری دی۔ 

کابینہ نے فیصلہ کیا کہ تنخواہوں میں اضافے کے اعلان سے ایف بی آر، نیب اور ایف آئی  اے سمیت جن محکموں کے ملازمین کو پہلے سے اضافی تنخواہیں مل رہی ہیں  وہ شامل نہیں ہوں گے۔ 

اس کے علاوہ کابینہ نے صوبوں کو ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق خود فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔ 

رحمان باجوہ نے کہا کہ حکومتی وزرا بشمول پرویز خٹک، شیخ رشید اور علی محمد خان کے ساتھ مذکرات میں تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں چالیس فیصد اضافے پر اتفاق ہوا تھا، جبکہ حکومت نے چوبیس فیصد اضافے کا فارمولا منظور کیا اور وہ بھی صرف ایک سے سولہ گریڈ کے ملازمین کے لیے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حاجی محمد حسین نے کہا کہ ان کا مطالبات میں ایک سے بائیس گریڈ ملازمین کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافے کے علاوہ مختلف سرکاری محکموں کی تنخواہوں کی برابری بھی شامل تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ کئی محکموں کے ملازمین خصوصاً عدلیہ، ایف آئی اے، نیب، پی آئی اے، ایف بی آر اور پولیس کے ملازمین کی تنخواہوں باقی محکموں میں کام کرنے والے سول سرونٹس سے بہت زیادہ ہیں جن کی برابری بہت ضروری ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومت کے مالی مسائل کے باعث انہوں نے چالیس فیصد کا اضافہ قبول کر لیا تھا، جسے حکومت نے وعدے کے باوجود قبول نہیں کیا۔ 

’اب ہمارے پاس احتجاج اور دھرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں رہا۔‘ 

حکومتی موقف 

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے گذشتہ ماہ وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں اہم وفاقی وزرا اور چئیرمین پے اینڈ پینشن کمیشن نے شرکت کی تھی۔ 

تاہم اجلاس بغیر کسی فیصلے پر پہنچے اختتام پذیر ہوا اور وفاقی حکومت جو احتجاج کرنے والوں کے ساتھ انتظامی طریقے سے بنردآزما ہونے کو کہا گیا۔ 

سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس میں تنخواہوں میں اضافے پر بہت دیر تک بحث ہوئی لیکن مالی مسائل کے باعث اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ 

ایک اندازے کے مطابق کم و بیش تیس لاکھ سرکاری ملازمین ہیں جن کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے حکومت کو سالانہ ایک سو ارب روپے درکار ہیں جو وزارت خزانہ آیی ایم ایف کی جانب سے بجٹ کے خسارے سے متعلق عائد شرائط کی وجہ سے مہیا نہیں کر سکتی۔  

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے افراط زر، مہنگائی اور گذشتہ سالانہ بجٹ میں معمولی اضافے کے باوجود 21۔2020 کے بجٹ میں بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی تھی۔ 

اتحاد میں دراڑ؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کی سب سے بڑی تنظیم آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) کے ایک بڑے دھڑے نے احتجاج اور دھرنے سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

ایپکا کے مرکزی صدر حاجی ارشاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اگیگا کے رہنما تمام سرکاری ملازمین کو ہائی جیک کر رہے ہیں جس کا ان کے پاس مینڈیٹ نہیں ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ان کا دھڑا بدھ کے احتجاج میں شریک نہیں ہو گا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ایپکا کے دو دوسرے گروپ احتجاج میں شامل ہوں گے۔ 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے تنخواہوں میں اعلان کردہ اضافے کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ یہ صرف ایک اعلان ہے، ابھی تک اس سلسلے میں کوئی سرکاری نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان