’کو‘ جسے بھارت ٹوئٹر کی جگہ لانا چاہتا ہے

بھارت کی دائیں بازو کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان اور ان کے حامیوں نے سرگرمی کے ساتھ ’کو‘ کو ٹوئٹر کے مقامی متبادل کے طور پر آن لائن فروغ دینا شروع کر دیا ہے۔

اس ایپ کے لوگو کے طور پر ایک پرندے کی تصویر استعمال کی گئی ہے، جس کے پر نہیں ہیں اور اس کا رنگ زرد ہے  (تصویر: روئٹرز)

ایک ایسے وقت میں جب بھارتی حکومت اور امریکی سوشل نیٹ ورکنگ سروس ٹوئٹر کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اظہار رائے کی آزادی کے مسئلے پر لڑائی جاری ہے، ٹوئٹر کی طرز پر اندرون ملک بنائی گئی ایپلی کیشن ’کو‘ (Koo) کو بھارت میں تیار کیے گئے حریف کے طور پر فروغ دیا جارہا ہے۔

’کو‘ نامی ایپ بزنس مینیجمنٹ میں گریجویشن کرنے والے اپرا میارادھا کرشن اور مائنک بڑاواٹکا نے بنائی ہے۔ یہ ایپ مارچ 2020 میں متعارف کروائی گئی، جس نے آتم نر بھر بھارت (خود پر انحصار کرنے والا ملک)کے نام سے ایپ انوویشن چیلنج جیتا۔ حکومت کی جانب سے یہ ایوارڈ فنی شعبے میں ایجاد پر دیا جاتا ہے۔

اگرچہ اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گذشتہ سال ریڈیو پر ماہانہ خطاب میں اس ایپ کا خاص طور پر ذکر کیا تھا لیکن یہ ایپ خود ٹوئٹر کی ایک بلاگ پوسٹ کا جواب دینے کے لیے حکومت کی جانب سے استعمال میں آنے کے بعد نمایاں ہوئی۔

مودی حکومت اور ٹوئٹر کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کمپنی نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ بھارتی حکومت کے حکم کے مطابق ان 1200 کے قریب اکاؤنٹس کو ختم نہیں کرے گی، جن سے بھارت میں کسانوں کے احتجاج کے بارے میں ٹویٹس کی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹوئٹر کی جانب سے پوسٹ کیے گئے بلاگ میں بتایا گیا تھا کہ وہ بھارت میں بعض اکاؤنٹس تک رسائی روک دے گا لیکن صحافیوں، سرگرم کارکنوں اور سیاست دانوں کے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس ضمن میں اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے خدشات کا ذکر کیا گیا۔

بھارت کی وزارت اطلاعات، الیکٹرانکس اور ٹیکنالوجی نے ٹوئٹر کی مذکورہ پوسٹ کا جواب دینے کے لیے ’کو‘ کا استعمال کیا اور بظاہر پہلی بار ایسا کیا گیا۔

وزارت نے ’کو‘ کیا کہ آئی ٹی سیکرٹری ’ٹوئٹر کی اعلیٰ انتظامیہ کے ساتھ بات کریں گے۔‘ وزارت نے عوامی سطح پر بیان جاری کرنے کے اس عمل کو کمپنی کا ’معمول سے ہٹا ہوا‘ فعل قرار دیا۔ جلد ہی دائیں بازو کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان اور ان کے حامیوں نے سرگرمی کے ساتھ ’کو‘ کو ٹوئٹر کے مقامی متبادل کے طور پر آن لائن فروغ دینا شروع کر دیا۔ وزیر تجارت پیوش گویال اور مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان پہلے ہی پلیٹ فارم کا حصہ بن چکے تھے۔

’کو‘ ہندی زبان میں ’چہچہانے‘ کو کہتے ہیں۔ اس ایپ کے لوگو کے طور پر ایک پرندے کی تصویر استعمال کی گئی ہے، جس کے پر نہیں ہیں اور اس کا رنگ زرد ہے۔ ایپ کی نمایاں خصوصیات ٹوئٹر سے متاثر ہو کر تیار کی گئی ہیں۔ صارفین اس ایپ کے ذریعے ہیش ٹیگ(#) اور ’@‘ کی علامات استعمال کر سکتے ہیں اور ٹوئٹر کی طرح ایک صارف پلیٹ فارم پر کی گئی پوسٹ کو شیئر کرنے کے لیے اسے  ’ری کو‘ کرسکتا ہے۔

بھارت میں بنائی جانے والی یہ ایپ پانچ بھارتی زبانوں میں پوسٹ کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے جن میں انگریزی بھی شامل ہے۔ اس ایپ کے ذریعے کسی پوسٹ کے الفاظ کو 400 تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس وقت ٹوئٹر پر 280 الفاظ تک کی ٹویٹ کی جا سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ دو روز میں ’کو‘ کو ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کی تعداد 10 گنا ہو چکی ہے۔ بھارت میں#kooapp ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اب اس ایپ کے صارفین کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود کہ وزارتیں اور مشہور شخصیات جن میں بالی وڈ بھی شامل ہے، اس پلیٹ فارم کا حصہ بن چکے ہیں، یہ ایپ اب بھی ٹوئٹر سے بہت پیچھے ہے، جس کے بھارت میں صارفین کی تعداد ایک کروڑ 75 لاکھ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی کی حمایت اور ان کی جماعت کی جانب سے ایپ کو فروغ دینے کے باوجود مودی خود ابھی تک اس پلیٹ فارم کا حصہ نہیں بنے۔وزیراعظم کے ٹوئٹر پر دو سرکاری پروفائل ہیں اور ان کے فالورز کی تعداد 10 کروڑ سے زیادہ ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی