اونچی چوٹیاں سر کرنے والوں کا گاؤں سدپارہ

درجنوں کوہ پیماؤں اور بلند ترین پہاڑوں تک سفر کے دوران مدد فراہم کرنے والے پورٹروں کا تعلق سدپارہ گاؤں سے ہی ہے۔

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو موسم سرما میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہوجانے والے معروف پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کی موت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ جن کا آبائی علاقہ ’کوہ پیماؤں کا گاؤں‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

درجنوں کوہ پیماؤں اور بلند ترین پہاڑوں تک سفر کے دوران مدد فراہم کرنے والے پورٹروں کا تعلق سدپارہ گاؤں سے ہی ہے۔ یہ شمالی پاکستان کے شہر سکردو سے 10 کلومیٹر دور بلند پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔

محمد علی سدپارہ ان پاکستانی کوہ پیماؤں میں شامل تھے جو رواں ماہ کے اوائل میں دنیا کے دوسرے سب سے اونچے پہاڑ کے ٹو کو موسم سرما میں سر کرنے کی مہم کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے اور جمعرات کو ان کے صاحبزادے ساجد سدپارہ نے ان کی موت تصدیق کر دی ہے۔ آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی سے تعلق رکھنے والے جے پی موہر بھی اس مہم پر علی سدپارہ کے ہمراہ تھے۔

سدپارہ گاؤں کے رہائشی طویل عرصے سے شمالی پاکستان میں غیر ملکی کوہ پیماؤں اور سیاحوں کی مدد کر رہے ہیں۔ یہ علاقہ دنیا کے تین سب سے اونچے پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے سنگم پر واقع ہے۔

نامور پاکستانی کوہ پیما حسن سدپارہ کے صاحبزادے عابد سدپارہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ’ہمارا گاؤں بہت مشہور ہے کیونکہ اسے کوہ پیماؤں کا گھر سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے تمام معروف کوہ پیماؤں کا تعلق سدپارہ گاؤں سے ہے۔ ہمارے گاؤں کے لوگ کوہ پیما ہیں، کچھ پورٹر اور باورچی ہیں اور کچھ لوگ کوہ پیمائی کی مہمیں چلا رہے ہیں۔‘

یہاں سے تعلق رکھنے والے پورٹرز کو اس انتہائی دشوار گزار خطے میں معلومات اور راستے کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کوہ پیماؤں کی مہمات کے دوران اوپر چڑھنے کے لیے رسے بھی لگاتے ہیں۔ وہ کوہ پیماؤں کے لیے اپنی پیٹھ پر کھانا اور سامان لاد کر بھی لے جاتے ہیں اور ان کے خیموں کو برفانی سطح پر گاڑتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عام طور پر کسی بھی مہم کی کامیابی پر غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ستائش کی جاتی ہے اور حتیٰ کہ کوہ پیما برادری میں بھی ان دیہاتی پورٹروں کی خدمات کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

اسی گاؤں کے رہائشی دلاور حسین سدپارہ کوہ پیما اور پورٹر ہیں، انہوں نے کہا: ’میں بہت پریشان تھا کیونکہ مجھے کوئی تربیت نہیں دی گئی تھی۔ علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ نے مجھے 2018 میں چار گھنٹے کی تربیت دی اور میں اس کے لیے ان کا شکر گزار ہوں۔ اس تربیت کی وجہ سے اور خدا کے فضل سے میں کوہ پیما بنے میں کامیاب ہوا اور انشاء اللہ میں مستقبل میں بھی کوہ پیمائی کرتا رہوں گا۔ میں نے 2018 میں براڈ پیک اور 2019 میں کے ٹو سر کی تھی۔‘

سدپارہ گاؤں کے مقامی دکان دار طارق اعجاز کوہ پیمائی کا سامان فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہسپانوی کوہ پیما سرگی مینگوٹ نے یہ (کوہ پیمائی کا سامان) اپنی مہم سے پہلے مجھے فروخت کیا تھا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ میں اسے خرید لوں اور میں نے اسے ان سے خرید لیا۔ بدقسمتی سے کے ٹو پہاڑ سے گرنے کے بعد ان کی موت ہو گئی۔ انہوں نے کے ٹو پر مہم شروع کرنے سے پہلے یہ مجھے فروخت کر دیا تھا۔‘

گذشتہ کچھ مہینوں میں درجنوں کوہ پیماؤں نے ’قاتل پہاڑ‘ کے نام سے مشہور کے ٹو کو سر کرنے کی کوششیں کی ہیں، تاہم رواں سال کے آغاز میں نیپالی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے اس چوٹی کو پہلی بار موسم سرما میں سر کر کے تاریخ رقم کی تھی۔

کے ٹو پر حالات کسی بھی دوسرے پہاڑ کی نسبت زیادہ سخت ہیں جہاں 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے ہوائیں چلتی ہیں اور درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سیلسیئس تک گر سکتا ہے۔

اس موسم سرما میں غیر معمولی طور پر 60 کے قریب کوہ پیماؤں پر مشتمل چار ٹیمیں کے ٹو کو سر کرنے کے لیے جمع ہوئی تھیں۔

ماؤنٹ ایورسٹ کو ہزاروں کوہ پیما جوان اور بوڑھے ہر سال سر کرتے ہیں، لیکن اس کے برعکس کے ٹو کے سخت حالات کی وجہ سے بہت کم کوہ پیما یہ خطرہ مول لیتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان