پونے تین والے تو ارمان لے کر چلے گئے

ہمارے دکانداروں کے پاس اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ گاہک کو عزت دیں اور کسمٹر سروس سیکھیں۔

(اے ایف پی)

آج کل بازار کا رخ کریں تو لگتا ہے جیسے ہر چیز ہی جیب پر بھاری ہے۔ کبھی لگتا ہے جو کما رہے ہیں وہ کم پڑ رہا ہے تو کبھی لگتا ہے جتنی مہنگائی ہو گئی ہے جو بھی کمائیں گے کم ہی پڑے گا۔ عالم یہ ہے کہ کم آمدنی والے افراد نے تو شکوہ کرنا ہی ہے اچھے خاصے مال دار بھی دن بہ دن بڑھتی مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں۔

حالات تو یہ ہیں کہ تانگہ پر بھی سواری کر لو تو اس کے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں اور اگر پوچھو کہ ایسا کیوں ہے تو جواب آئے گا۔ پیٹرول مہنگا ہو گیا ہے، ’میاں پیٹرول سے تانگے کا کیا لینا دینا، پھر انسان خود ہی تاویل باندھ لے کہ بھئی بال بچوں والا اس نے بھی گھر چلانا ہے، اس ملک میں موجود ہر شے ہی جیسے پیٹرول سے جڑی ہے جس کے نرخ مہینے میں چار چار بار بڑھتے ہیں اور اسی شرح سے اشیا کی قیمتیں بھی۔‘

آج ایک دکان پر گئی، دکاندار سے چیز کی قیمت پوچھی۔ قیمت سن کے ہوش اڑ گئے، بھاؤ تاؤ کرنے لگی کہ اس سے سستی تو وہ آگے والا دے رہا ہے، تو تیز لہجے میں کہنے لگے، ’جائیں وہاں سے لے لیں، پہلے ہی پیٹرول کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ اس رویے پر مجھے عارفہ سیدہ زہرہ (ماہر تعلیم) کی ایک بات یاد آ گئی۔ کہتی ہیں کہ ’جب میں جب جوان تھی اور طالب علم بھی تھی تو لکھنؤ کی ایک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ کچھ دوستوں نے بولا عارفہ ایسے ہی نہ کچھ بھی خرید لیا کرو، بھارت بھی پاکستان کی طرح ہی ہے بھاؤ تاؤ کیا کرو۔‘

ہنسنے لگیں پھر ہنستے ہوئے بات آگے بڑھاتی ہیں کہ ’اگلے روز میں ایک کیلے کے ٹھیلے پر رکی اور پوچھا میاں یہ کیلے کس طرح لگائے ہیں کہنے لگے، ’تین کے۔‘ دوستوں کی بات ذہین میں آئی اور میں نے بولا جناب اڑھائی کے نہیں دو گے۔ تو کہنے لگے، ’پونے تین والے تو ارمان لے کر چلے گئے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 کیا شائستہ زبان ہے، کیا ہی گفتگو کا طریقہ ہے، کیا ہی ادب و احترام ہے۔ کہ نہ خریدار کو آپ کی بات بری لگے اور یہ بات بھی سمجھا دی جائے کہ اڑھائی میں کیا پونے تین میں بھی نہیں دوں گا۔ لیکن ہمارے ہاں تو تمیز و تمدن کا پیٹرول کی قیمتوں کے ساتھ الٹ رشتہ ہے قیمتیں بڑھتی ہیں دکانداروں کے بات کرنے کا سلیقہ گھٹ جاتا ہے۔

اکثر ہمیں دکاندار اور خریدار میں ایسی بحث چھڑی ہوئی نظر آتی ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دکان جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔ اب تو مرد خواتین سے دست و گریباں ہوتے ہوئے ایک منٹ کے لیے بھی نہیں سوچتے۔ ’او جا بی بی پتہ نہیں کیتھوں آجاندیاں نیں۔‘

ایسے جملے ان دکانوں سے گزرتے ہوئے ہی کانوں کو تازگی بخش دیتے ہیں۔

شاید خریدار اور دکاندار دونوں ہی بڑھتی مہنگائی کے باعث ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔ نفسا نفسی کا عالم ہے اور لوگ صرف ضروریات زندگی پوری کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ اب بھلا ایسی صورتحال میں تہذیب کس چڑیا کا نام ہے یہ کون جانتا ہے۔ یہ چڑیا تو نہ جانے کب کی اس پنجرے کو کھلا پا کر پرواز کر چکی۔

چور بازاری اور ملاوٹ کا یہ عالم ہے کہ آپ کی ذرا سی نظر ہٹی نہیں، دکاندار خراب مال فوراً شاپنگ بیگ میں ڈال دیں گے۔ درزی کو جوڑا دو تومقررہ تاریخ کے ایک ماہ بعد ملے گا۔ برائیڈل ڈریس کا آرڈر دو، شادی کی صبح بھی مل جائے تو بھی غنیمت ہے۔ آن لائن فون کا آرڈر دو تو ڈبا کھولنے پر اینٹ نکلے گی۔ سوٹ آرڈر کرو تو قمیض کا پچھلا حصہ نکلے گا اگلے حصے کا کیا کرنا ہے یہ خریدار جانے۔ خریداری کرتے ہوئے روایتی یا جدید دونوں طریقوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا دھوکہ کھانے سے بچنے کے لیے ذاتی سمجھ بوجھ ہی استعمال کرنی پڑتی ہے۔

تو کیا یہ بے ایمانی، بد تہذیبی، موقع پرستی بھی پٹرول کی قیمتوں کے ساتھ جڑی ہے۔ نہ جانے کیوں پھر دل میں خیال آتا ہے کیا اس بدتہذیبی اور بدتمیزی سے لوگ زیادہ کما لیتے ہیں؟ جو رزق نصیب میں لکھا ہے جس کا وعدہ ہے وہ توملنا ہی ہے تو کیا اس طرح در پر آئے خریدار سے یا پھر آن لائن موجود صارف سے دھوکہ دہی کرنا بھی پیٹرول کی قیمت والے کلیے میں آتا ہے۔ اگر میں خود کو خریدار کی حیثیت سے دیکھوں تو میں ایسے اکھڑ دکانداروں سے کبھی دوبارہ چیز نہیں خریدتی ایسے آن لائن پلیٹ فارمز کو بھی رپورٹ کرتی ہوں۔

پاکستان میں عوام کی ایک بڑی تعداد مالز، ریٹیل سنٹرز اور مارٹ کا رخ کرنے لگی ہے کیوں کہ یہاں کسٹمر سروس پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے دوسرا لوگ لوکل دکانداروں سے ٹھگے جانے کی بجائے نسبتاً مہنگی اشیا خرید لیتے ہیں جو منی بیک گارنٹی کے ساتھ دستیاب ہیں۔

لیکن ابھی بھی پاکستان میں مالز اور برانڈز نسبتا کم اور چھوٹے دکاندارزیادہ ہیں لہٰذا ان دکانداروں کے پاس اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ کسٹمر سروس سیکھیں اور لوگوں کو بھی بھاو کرتے ہوئے اشیا کی صحیح قیمت کا اندازہ ہونا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ