جوش، جذبہ اور جنون: پی ایس ایل 6 کا سٹیج تیار

آج رات کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان افتتاحی میچ سے ایک مہینے تک نہ رکنے والا ایسا تفریحی سلسلہ شروع ہو گا، جس میں جوش بھی ہو گا، جذبہ بھی اور جنون بھی۔

کرونا وبا کے باعث اس سیزن میں کرکٹ مداح محدود تعداد میں سٹیڈیم آ سکیں گے(اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے ایونٹ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے سیزن کا سٹیج سجنے کے لیے تیار ہے۔ لیگ میں شامل تمام ٹیموں کے کھلاڑی کراچی پہنچ کر اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے چکے ہیں۔

ہفتے کی رات کو جب کراچی کے نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان افتتاحی میچ شروع ہوگا تو کرکٹ شائقین کے لیے تقریباً ایک مہینے تک ایسا نہ رکنے والا تفریحی سلسلہ شروع ہوجائے گا، جس میں جوش بھی ہو گا، جذبہ بھی اور جنون بھی۔

پی ایس ایل کی انتظامیہ نے اس سال کی افتتاحی تقریب ترکی میں ریکارڈ کرلی ہے جو صرف ٹٰی وی سکرینز اور انٹرنیٹ پر دکھائی جائے گی۔ ترکی میں تقریب کی ریکارڈنگ پر کافی تنقید کی جا رہی ہے۔ کرونا (کورونا) وبا کے دور میں دنیا بھر سے کھلاڑیوں کو ایک ایسے ملک میں جمع کرنا اور کھیل کے مواقع پیدا کرنا جہاں ایک سال قبل تک انٹرنیشنل کرکٹ ناممکنات میں شامل تھی، ایک کارنامہ ہے۔

لیگ میں شامل ہونے کے لیے 200 سے زائد انٹرنیشنل کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کرائی تھی۔ پی ایس ایل کے بھرپور اور مسلسل انعقاد پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ذمہ داران قابل تحسین ہیں۔

ایونٹ کا پہلا میچ گذشتہ سال کے چیمپیئنز کراچی کنگز اور سابق چیمپیئنز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان کھیلا جائے گا۔ دونوں ٹیمیں ایک مضبوط اور متوازن سکواڈ کی حامل ہیں، جن میں ہارڈ ہٹر بھی ہیں اور سکون سے لمبی اننگز کھیلنے والے بھی۔

کس کا پلڑہ بھاری

اگر دونوں ٹیموں کا جائزہ لیں تو دونوں ہی میچ ونر کھلاڑی رکھتی ہیں۔ کراچی کنگز کی بیٹنگ کافی مضبوط ہے۔ اوپننگ میں شرجیل خان اور بابر اعظم ہیں۔

شرجیل زبردست ہٹر ہیں اور اپنے آبائی شہر حیدرآباد میں ’کرس گیل‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ شروع سے حملہ آور ہوتے ہیں اور اگر دن ان کا ہو تو پھر وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔ بابر اپنی روایت کے مطابق لمبی اننگز کھیل کر بڑا سکور کر سکتے ہیں۔

مڈل آرڈر میں چیڈوک والٹن، کولن انگرام، عماد وسیم اور دانش عزیز تیزی سے سکور کرسکتے ہیں۔ عامر یامین اور محمد عامر فاسٹ بولنگ کو سنبھالیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا کراچی آج قاسم اکرم کو کھلائے گی وہ ایک اچھے آل راؤنڈر ہیں۔ دستیاب ہونے پر محمد نبی اور ڈینیئل کرسٹین بھی ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔

 

کوئٹہ کی بیٹنگ میں کرس گیل اور اعظم خان خطرناک بلے باز ہیں۔ گیل صرف چند میچ کھیلیں گے، ان کے لیے پی ایس ایل کبھی بھی اچھی نہیں رہی۔ وہ پاکستان لیگ میں آئی پی ایل کی طرح کوئی بڑی اننگز کھیل سکے اور نہ فتح گر ثابت ہوئے لیکن ان جیسے بلے باز سے کوئی بعید نہیں کب کیا کر جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کوئٹہ کی بیٹنگ میں بین کٹنگ اور ٹوم بینٹن بھی جارحانہ بلے باز ہیں۔ ٹیم میں فاف ڈوپلیسی بھی شامل ہوئے ہیں لیکن شاید وہ فی الحال بینچ پر بیٹھیں گے۔ سرفراز احمد اور محمد نواز کا کردار بہت اہم ہوگا۔ نواز اچھی فارم میں ہیں، تاہم سرفراز کے لیے یہ ٹیسٹ لیگ ہے۔ بولنگ میں کوئٹہ کے پاس تین بہترین بولرز ہیں۔ محمد حسنین، عثمان شنواری اور نسیم شاہ۔

تینوں اگرچہ قومی ٹیم سے باہر ہیں لیکن پی ایس ایل میں ہمیشہ اچھے رہے۔ اس کے علاوہ حسان خان اچھے سپنر ہیں تاہم نواز کی موجودگی میں شاید انہیں موقع نہ ملے۔ انور علی دوبارہ ٹیم میں واپس تو آئے ہیں لیکن انہیں موقع ملنا مشکل لگتا ہے۔ دونوں ٹیموں میں کافی تجربہ بھی ہے اور صلاحیت بھی ، سب ایسے کھلاڑی ہیں کہ اگر چل جائیں تو رکتے نہیں۔

پی ایس ایل کے اگلے 30 دن تک میچز کرکٹ کے ساتھ ایک ایسا نظارہ پیش کریں گے جس میں صرف کھیل کی باریکیاں نہیں بلکہ جوش، جذبہ اور جنون نظر آئے گا۔ ایک ایسا جنون جس کی تپش میں کرکٹ کا رنگ بھی ہوگا اور کراچی اور لاہور کا روایتی انداز بھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ