وزیرستان میں خواتین قتل: ’ماسٹر ڈگری کا خواب ادھورا رہ گیا‘

شمالی وزیرستان میں پیر کو قتل ہونے والی چار خواتین میں سے ایک کے شوہر نکمت اللہ اپنی پانچ ماہ کی بچی کے لیے پریشان ہیں۔

شمالی و جنوبی وزیرستان میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سات سکیورٹی اہلکار، چار خواتین اور ایک عام شہری فائرنگ کی زد میں آکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے (اے ایف پی فائل فوٹو)

سکیورٹی فورسز نے منگل کو وزیرستان میں کارروائی کرتے ہوئے چار خواتین رضاکاروں کے قتل کے مبینہ ماسٹر مائنڈ حسن خان المعروف سجنا کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس کے مطابق سجنا کا تعلق تحریک طالبان پاکستان کے حافظ گل بہادر گروپ سے تھا۔

شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں پیر کو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے غیرسرکاری تنظیم براؤ اسٹی ٹیوٹ سے وابستہ چار خواتین رضاکار قتل کر دی گئیں۔ پولیس کے مطابق قتل ہونے والی خواتین دستکاری کا ہنر سکھاتی تھیں۔

ڈی پی او شمالی وزیرستان شفیع اللہ گنڈاپور نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سجنا کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی اداروں نے سجنا کو میر علی بازار میں اس وقت نشانہ بنایا جب وہاں سرچ آپریشن جاری تھا۔ ’ملزم خواتین کے برقعے میں ملبوس تھے۔‘

پولیس کے مطابق سجنا 2013 سے میر علی، خیسور اور نواحی علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ پولیس نے ان پر آئی ای ڈی بم دھماکوں، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور شدت پسندوں کے لیے بھرتیاں کرنے کے بھی الزامات عائد کیے۔

ادھر پیر کو قتل ہونے والی چار خواتین میں سے ایک کے شوہر نکمت اللہ خان اپنی پانچ ماہ کی نومولود بچی کے لیے پریشان ہیں۔ انہوں نے انڈپپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ان کی اہلیہ یومیہ ایک ہزار روپے معاوضے پر کام کرتی تھیں تاکہ خود کما کر اپنی تعلیم اور ماسٹرز ڈگری پوری کرنے کا خواب پورا کریں اور دیگر خواتین کو ہنر بھی سکھا سکیں لیکن بغیر کسی وجہ کے میری بچی کو یتیم بنا دیا گیا۔

نکمت اللہ کی شادی تقریباً ڈیڑھ سال پہلے ہوئی تھی اور پانچ ماہ پہلے خاندان میں نئی مہمان بیٹی کی پیدائش کی خوشی اب بھی منا رہے تھے۔ گھر کے خرچے برداشت کرنے کے لیے میاں بیوی دونوں ملازمت کرتے تھے۔

نکمت نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی 25 سالہ اہلیہ نے بیچلرز کی ڈگری سمیت پی ٹی سی اور میک اپ کا چھ ماہ کا کورس بنوں کی ایک ووکیشنل ٹریننگ سے کر رکھا تھا۔ پھر اسی ٹریننگ سینٹر میں ایک منصوبہ مکمل کرنے کے بعد سباؤن نامی غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ کام کرنے لگیں، جو خواتین کو بیوٹیفیکیشن کا ہنر سکھاتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ انگلش میں ماسٹرز کرنا چاہتی تھیں اور پیر کو ان کا آخری پیپر تھا لیکن وہ ماسٹرز ڈگری مکمل کرنے کا خواب لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ’اس پراجیکٹ کے لیے وہ ہفتے میں تین دن بنوں سے وزیرستان جاتی تھیں اور وہاں پر مقامی خواتین کو ہنر سکھاتی تھیں جس کے انہیں یومیہ ایک ہزار روپے ملتے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے اور ہم مشترکہ خاندانی نظام میں والد، والدہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔  نکمت اللہ خود میڈیکل ریپ ہیں اور انہوں نے بنوں یونیورسٹی سے ماسٹرز کر رکھا ہے۔

نکمت اللہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا پہلے سے کوئی دھمکی تو نہیں ملی تھی، تو انہوں نے بتایا کہ انہیں کوئی دھمکی نہیں ملی تھی۔ ’ہماری کسی سے کوئی دشمنی ہے اور نہ آج تک کسی نے ہنر سکھانے کے حوالے سے کوئی غلط بات کی۔ نہایت ظلم ہوا ہے۔ اس ظلم کے حوالے سے میں مزید کیا بات کر سکتا ہوں۔‘

بنوں سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور کپڑوں کا کاروبار کرنے والے ولی داد  سے یہ خواتین دستکاری کے لیے کپڑا خریدتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ خواتین کا تعلق متوسط اور غریب گھرانوں سے تھا جو ملازمت کر کے گھر کا خرچ برداشت کرنے میں اپنا حصہ ڈالتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ صبح سویرے بنوں سے وزیرستان جاتیں اور دوپہر کو ٹریننگ کلاس مکمل کر کے واپس گھر آتی تھیں۔ ’یہ تین مہینے کا پراجیکٹ تھا، جس کے ختم ہونے میں ابھی دن باقی تھے۔‘ 

پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ان خواتین کے قتل کے واقعے سے ان کو شدید صدمہ پہنچا ہے، جو کمیونٹی میں کام کرتی تھیں۔ سفارت خانے کے مطابق ’ہم توقع رکھتے ہیں کہ ان خواتین کو انصاف ملے گا اور غم کی اس گھڑی میں سفارخانہ خواتین کے گھرانوں کے ساتھ شریک ہے۔‘

وزیرستان میں جب دہشت گردی کے واقعات عروج پر تھے تو لاکھوں لوگ نقل مکانی کر کے ملک کے مختلف علاقوں میں چلے گئے۔ تاہم علاقے میں پاکستان حکومت کے مطابق جب حالات نارمل ہوگئے تو علاقہ مکین واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

پیر کو پاکستان فوج کے ترجمان جنرل بابر افتخار نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آپریشنز کے دوران نقل مکانی کرنے والے تقریباً 96 فیصد لوگ دوبارہ اپنے علاقوں کو جا چکے ہیں۔ امن عامہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امن قائم کرنے میں پاکستان فوج سمیت لوگوں کو قربانیاں دینی پڑیں لیکن اب حالات پر قابو پا لیا گیا ہے۔

اسی پریس کانفرنس میں جب جنرل بابر افتخار سے پوچھا گیا کہ کہا جاتا ہے کہ قبائلی اضلاع میں امن قائم ہوا ہے تو ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے ہی؟، اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جس طرح ’میں نے کہا کہ ابھی ’بلڈ اینڈ ٹرانسفر‘ کا عمل مکمل نہیں ہوا اور ابھی بہت سے کام باقی ہیں جنھیں آگے جا کر کرنا ہے۔‘

’ہمیں ہر واقعے کو دہشت گردی کے پیرائے میں نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ لا اینڈ آرڈر کے ساتھ بھی جڑے ہوتے ہیں۔ یہ واقعات دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں بھی ہوتے ہیں اور یہ بالکل زیرو نہیں ہو سکتے۔‘ 

انہوں نے مزید بتایا کہ ’قبائلی اضلاع کو ضم ہونے میں بھی وقت لگے گا کیونکہ وہاں کی اپنی ثقافت اور کلچر ہے اور بارڈر علاقوں کے اپنے بھی ڈائنامکس ہوتے ہیں۔ پولیس اور عدالتی نظام مکمل طور پر آنے سے ایسے واقعات پر قابو پایا جا سکے گا۔‘

قبائلی اضلاع کے امور پر رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی دلاورخان وزیر کی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی و جنوبی وزیرستان میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سات سکیورٹی اہلکار، چار خواتین اور ایک عام شہری فائرنگ کی زد میں آکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈپٹی کمشنر شاہداللہ نے بتایا کہ پیر کو چار خواتین کے قتل کے علاوہ شمالی وزیرستان میں نامعلوم مُسلح افراد نے شواہ سے ٹنڈی جانے والی ایک گاڑی کو راستے میں رُوک کر اٹھ افراد کو اغوا کرلیا، جن میں ایک لوکل گورنمٹ کا اہلکار بھی شامل ہے۔

اس واقعے سے تین دن پہلے جنوبی وزیرستان میں لدھا سب ڈویژن کی تحصیل سراروغہ میں دو درجن سے زیادہ مُسلح لوگوں نے رات 11 بجے کے بعد سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ کو چھوٹے بڑے ہھتیاروں سے نشانہ بنا کر پانچ سکیورٹی اہلکاروں کو مار دیا تھا۔

واقعے کے دوسرے دن ایک درجن سے زیادہ لوگوں نے علاقے سے نقل مکانی بھی کی۔ چیک پوسٹ پر حملے سے دو دن پہلے وانا بازار میں بائی پاس روڈ پر سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرانے سے دو اہلکار مارے گئے تھے۔ واقعے کے اگلے دن ڈپٹی کمشنر نے وانا میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے وانا بازار سے ملنے والے تمام راستوں کو خاردار تاروں سے بند کر دیا، جس کی وجہ سے کروڑوں مالیت کی سبزیاں اور میوہ جات ضائع ہوگئے۔

وانا بازار کھولنے کے لیے سیاسی اتحاد  کی قائدین، قومی مشیران اور نوجوانوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وانا بازار کی طرف مارچ کا اعلان کیا اور پورے وانا سے ہزاروں لوگ مظاہرے کے لیے بازار میں جمع ہوئے تو ڈپٹی کمشنر نے کیشدگی ختم کرنے کے لیے فوری طور پر کرفیو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان