افغان معاہدے کا ایک سال: ’متبادل راستے میں ناکامی ہو گی‘

افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور غیرملکی افواج کے انخلا کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان گذشتہ سال فروری میں ہونے والے معاہدے کا ایک سال مکمل ہونے پر افغان طالبان کی جانب سے سات نکات پر مبنی بیان جاری کیا ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے امریکہ کے ساتھ معاہدے کو سال ہونے پر بیان جاری کیا ہے (اے ایف پی/ فائل)

افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور غیرملکی افواج کے انخلا کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان گذشتہ سال فروری میں ہونے والے معاہدے کا ایک سال مکمل ہونے پر افغان طالبان کی جانب سے سات نکات پر مبنی بیان جاری کیا ہے۔

طالبان کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے نے افغانستان میں امن کے لیے عملی طریقہ کار فراہم کیا ہے۔ ’اگر کوئی متبال راستہ اختیار کیا گیا تو اس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں سامنے آئے گا۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے معاہدے کے وقت عہد کیا تھا کہ وہ 14 ماہ میں اپنی اور اپنے اتحادیوں کی افواج کے ساتھ ساتھ غیر سفارتی افراد، بجی کنٹریکٹرز، ٹرینرز، مشیر اور سروس پروائڈرز کو افعانستان سے نکال لے گا۔

’دوسری جانب طالبان نے کسی اور کی طرف سے افعان سرزمین کو استعمال کرنے سے روکنے کا عہد کر رکھا ہے۔‘

وضح رہے کہ امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اس وقت افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے۔

افغان طالبان کے سات نکات کیا ہیں؟

1۔ طالبان معاہدے کی تمام شرائط کی پاسداری پر کاربند ہیں اور ان شرائط پر عمل درآمد کو افغان مسئلے کے حل اور قیام امن کا مؤثر ذریعہ خیال کرتی ہے۔ یہ امن اسلامی نظام کی روشنی میں قائم کیا جائے گا۔

2۔ طالبان نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کے تمام حصوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے افغانستان میں امن سلامتی کے لیے اپنے وعدے پورے کرے۔

3۔ باقی ماندہ قیدیوں کی رہائی اور بلیک لسٹوں کا خاتمہ معاہدے کا حصہ ہیں۔ یہ وہ شرائط ہیں جنہیں پورا کرنا باقی ہے۔ افغان فریقوں کے درمیان جاری مذاکرات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ یہ ضروری ہے کہ صورت حال کو بہتر بنانے اور اس غلط سمت میں جانے سے روکنے کے لیے معاہدے پر عمل کیا جائے۔

4۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے معاہدے نے افغانستان میں امن و سلامتی لانے کے لیے عملی طریقہ کار فراہم کیا ہے۔ اگر کوئی متبال راستہ اختیار کیا گیا تو یہ طے شدہ امر ہے کہ اس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

5۔ طالبان نے دوحہ معاہدے کے مطابق اپنی کارروائیوں میں نمایاں کمی کی ہے۔ فوج اور خفیہ ادارے کے مراکز کو ہدف بنانے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ’شہادت‘ کے آپریشن روک دیے گئے ہیں۔ صوبوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں کوئی حملہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی ضلعی مراکز کو ہدف بنایا گیا ہے۔ یہ بات سب کو معلوم اور واضح ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم دوسری جانب سے اس ضمن میں ذمہ داریاں پوری نہیں کی گئیں۔ بمباری، ڈرون حملے، چھاپے اور آپریشنز ابھی تک جاری ہیں حالانکہ معاہدے کے تحت ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کارروائیوں سے زیادہ تر شہریوں کو نقصان ہو رہا ہے اور تشدد بڑھا ہے۔ مزید برآں بعض حلقوں جن کے مفادات غیرملکی عناصر سے وابستہ ہیں، نے حال ہی میں حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس میں شہریوں کو خاص طور نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ صورت حال بحران کے دھانے پر کھڑی ہے نیز یہ کارروائیاں قبضے اور جنگ کے لیے ہیں۔

6۔ لیکن ان خرابیوں کے باوجود معاہدہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے جس کے نتائج تمام فریقوں کے مفاد میں ہوں گے۔ معاہدے کے مطابق غیرملکی فوجوں کا بڑا حصہ خاص طور پر امریکی فوج ہمارے ملک سے واپس جا چکی ہے جب کہ باقی ماندہ فوج کو مقررہ تاریخ کے اندر لازمی طور پر واپس جانا ہو گا۔ اسی طرح طالبان نے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری کی ہے اور کرتی رہے گی۔

7۔ قطر، سلامتی کونسل اور تمام دوسرے ممالک اور عالمی مبصرین جنہوں نے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد کروائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا