سی پیک میں سرمایہ کاری کے لیے شفافیت یقینی بنائی جائے: ای یو

پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر کا کہنا ہے کہ یورپی مملک سے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پاکستان کو سی پیک کے اقتصادی زونز میں مزدوروں کے حقوق کو یقینی بنانا ہوگا۔

2016 میں گوادر کے قریب چین سے آئے ٹرک کھڑے ہیں (اے ایف پی فائل)

پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر اینڈرولا کامینرا نے کہا ہے کہ حکومت سی پیک منصوبے کے تحت قائم کیے گئے خصوصی اقتصادی زونز میں محنت کشوں کے حقوق سے متعلق قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائے تاکہ یورپی ممالک توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے چین کے ساتھ کیے گئے 60 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت سرمایہ کاری کرسکیں۔

گذشتہ ہفتے ’عرب نیوز‘ سے تفصیلی انٹرویو میں یورپی یونین کی سفیر نے کہا: ’کسی ملک میں ایسی سرمایہ کاری جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اچھی بات ہے۔ ہم جو امر یقینی بنانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ خصوصی اقتصادی زونز میں کارکنوں کے حقوق اور ماحول کے تحفظ سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔‘

یورپی یونین کی سفیر کا کہنا تھا کہ یورپی یونین قوانین کے حوالے سے شفافیت، ان پر عمل درآمد کی پیشگی یقین دہانی اور معلومات چاہتی ہے۔ یونین کے رکن ممالک یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ سٹریٹیجک زونز میں ٹیکسوں میں چھوٹ کی مدت پر کس طرح عمل کیا جائے گا تاکہ یورپی کمپنیاں بھی پاکستان میں سرمایہ لگا سکیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یورپی یونین کی سفیر کے بقول: ’ان معاملات میں جتنی زیادہ شفافیت اور ان کے بارے میں پیشگی معلومات دستیاب ہوں گی اتنی ہی زیادہ سرمایہ کاری ہوگی۔‘

یورپی یونین کے حکام سی پیک پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ زیادہ شفاف نہیں ہے اور پاکستان پر مہنگے چینی قرضوں کا بوجھ پڑے گا۔

کامینرا کا کہنا تھا کہ یورپی یونین نے پاکستان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ان جرائم کی تعداد کو محدود کرے جن کے تحت سزائے موت دی جاتی ہے۔

جی پی ایس پلس سٹیس کے تحت ملنے والی مراعات کی بدولت 2014 میں پاکستان کی 4.5 ارب یورو کی برآمدات گذشتہ سال 7.5 ارب یورو تک بڑھ چکی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت