اسمبلی سے استعفے نہ دیے تو لانگ مارچ کی افادیت نہیں: فضل الرحمٰن

حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ ’26 مارچ کے لانگ مارچ پر سب کا اتفاق ہے اور کرونا ہمارا راستہ نہیں روک پائے گا۔‘

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ   کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ لانگ مارچ کی ٹائمنگ کا فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی (تصویر: ویڈیو سکرین گریب)

حکومت مخالف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اگر اسمبلی سے استعفے نہیں دیے جاتے تو اپوزیشن کے لانگ مارچ کی افادیت نہیں ہو گی۔

پشاور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کل (16 مارچ کو) پی ڈی ایم کے اجلاس میں لانگ مارچ کی حتمی حکمت عملی طے کی جائے گی اور پارلیمنٹ سے استعفوں کا آپشن بھی ایجنڈے میں شامل ہو گا۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی ٹائمنگ کا فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی۔ ’ہمارا لانگ مارچ ایک دن کا نہیں ہوگا۔ 26 مارچ کے لانگ مارچ پر سب کا اتفاق ہے اور کرونا ہمارا راستہ نہیں روک پائے گا۔‘

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ ’ماضی میں مختلف جماعتوں کے اراکین نے اپنے ووٹ کا غلط استعمال کیا لیکن کسی ایک ممبر کے دغا دینے سے حزب اختلاف کی پوزیشن کمزور نہیں ہوتی اور کسی ممبر کے دغا کرنے کو پارٹی پالیسی یا پارٹی کی رائے قرار دینا مناسب نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مولانا نے کہا: ’اپوزیشن متحد ہے اور ہم کل اجلاس میں اس بات پر غور کریں گے کہ ہمارے ووٹ کیوں کم ہوئے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وفاداریاں کیوں تبدیل ہو رہی ہیں۔ اس کے پیچھے دباؤ، لالچ یا دھمکیاں ہوں گی۔ کوئی تو ہے جو وفاداریاں تبدیل کروا رہا ہے۔‘

نیب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’نیب اداروں کا ترجمان بن چکا ہے اور مریم نواز شریف کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔‘

پی ڈی ایم نے آٹھ مارچ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ 26 مارچ سے ملک کے مختلف شہروں سے لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا، جو 30 مارچ تک اپنی منزل یعنی اسلام آباد پہنچے گا۔

دیگر قائدین کے ہمراہ کی گئی اس پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن نے ’قوم سے اپیل‘ کی تھی کہ ’وہ اس حکومت کے خاتمے کے لیے کردارا ادا کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا تھا کہ لانگ مارچ میں استعفوں کا آپشن موجود ہے اور استعفے تمام جماعتوں کے سربراہان کو مل چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست