پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ: ’ایک وجہ شرح سود میں کمی‘

پاکستان آٹو موبیل ایسوسی ایشن کےاعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور  پر گاڑیوں کی فروخت میں جولائی 2020 سے مارچ 2021 تک گذشتہ سال کے انہی نو  مہینوں کے مقابلے میں 31 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کراچی کا ایک کار شوروم(اے ایف پی فائل)

پاکستان میں رواں سال کے پہلے نو ماہ میں گذشتہ سال کے مقابلے میں گاڑیوں کی ملک میں پروڈکشن اور فروخت میں31 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے جس کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملکی معیشت میں بہتری کی علامت قرار دیتی ہے۔

ہر ماہ پاکستان میں گاڑیوں کی پروڈکشن اور فروخت کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کرنے والی پاکستان آٹو موبیل ایسوسی ایشن کے مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر گاڑیوں کی فروخت میں جولائی 2020 سے مارچ 2021 تک گذشتہ سال کے انہی نو ماہ کے مقابلے میں 31 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

موٹر کار کی فروخت گذشتہ سال کے نو مہینوں کے 85 ہزار 330 یونٹس سے بڑھ کر رواں سال کے نو ماہ میں ایک لاکھ 12 ہزار 244 تک پہنچ گئی ہے۔

پاکستان میں تین بڑی کمپنیاں جس میں ٹویوٹا، ہونڈا اور پاک سوزوکی شامل ہیں، مجموعی طور پر سب سے زیادہ گاڑیاں مینکوفیکچر کر رہی ہیں۔

جاری شدہ اعدادو شمار کے مطابق صرف ٹویوٹا کی ہی فروخت میں جولائی 2020 سے مارچ 2021 تک گذشتہ سال کے انہی نو مہینوں کے مقابلے میں 68.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ٹویوٹا نے رواں مالی سال کے نو مہینوں میں مجموعی طور پر 42 ہزار 670 گاڑیاں فروخت کی ہیں جبکہ یہ تعداد گذشتہ مالی سال کے ان نو مہینوں میں 25 ہزار 300 تھی۔

مجموعی طور پر ٹویوٹا کی سیل میں 68.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم ٹویوٹا کے مشہور برانڈ ٹویوٹا کرولا کی سیل میں 36.8 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ رواں مالی سال کے مارچ تک کرولا کی 13 ہزار 255 گاڑیاں بکیں جبکہ یہ تعداد گذشتہ مالی سال کے نو مہینوں میں 20ہزار 991 تھی۔

تاہم اعداد و شمار میں دیکھا گیا ہے کہ ٹویوٹا کی فورچونر، ہائی لکس کی فروخت میں 169 اور 62 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ٹویوٹا نے رواں مالی سال کے نو مہینوں میں 21 ہزار سے زائد ٹویوٹا یارس گاڑیوں کے یونٹس فروخت کیے ہیں تاہم یارس کے پچھلے مالی سال کے اعدادوشمار ابھی تک جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

ٹویوٹا کی طرح ہونڈا گاڑیوں کی سیل میں بھی رواں مالی سال کے نو مہینوں میں پچھلے سال کے نو مہینوں کے مقابلے میں  54 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رواں مالی سال کے مارچ تک ہونڈا نے مجموعی طور پر 21 ہزار 698 گاڑیاں  فروخت کی ہیں جبکہ یہ تعداد گذشتہ سال کے نو مہینوں کی 14 ہزار سے زائد ہے۔  

ہونڈا کی سب سے زیادہ بکنے والی گاڑی ہونڈا سوک اور سٹی ہے جس کی سیل  پچھلے مالی سال کے نو مہینوں میں 11 ہزار 992 سے بڑھ کر 18 ہزار 816 ہوگئی ہے جو تقریباً 60 فیصد اضافہ ہے۔ اسی طرح ہونڈا کی بی آر وی گاڑی کی سیل میں بھی 39 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سیل پچھلے سال دو ہزار 69 سے بڑھ  کر دو ہزار 882 تک پہنچ گیا ہے۔

پاک سوزوکی  پاکستانی مارکیٹ میں تیسری نمبر ہے جس کی سیل میں 13 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گذشتہ مالی سال کے نو مہینوں میں 58 ہزار 303  سیل کی گئی گاڑیوں کے مقابلے میں رواں مالی سال میں یہ تعداد 66 ہزار سے زائد تک پہنچ گئی ہے۔ سوزوکی کی وہ گاڑیاں جس  کی سیل میں زیادہ اضافہ دیکھا ہے اس میں سوزوکی بولان، ویگن آر، اور سوزوکی راوی شامل ہیں۔

سی سی کے حساب سے سیل میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟

اب اگر گاڑیوں کی سی سی کے حساب سے دیکھیں تو 1300 سی سی اور اس سے اوپر کی گاڑیوں کی سیل میں سب سے زیادہ 61 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ملکی معیشت  پر نظر رکھنے والے تحقیقی ادارہ عارف حبیب لمیٹڈ کے اعداد و شمار کے مطابق لائٹ کمرشل گاڑیوں اور فور بائی فور گاڑیوں کی سیل میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ 60 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

عام تاثر یہ ہے کہ گاڑیوں کی قیمتیں بڑھنے  کی وجہ سے صارفین اب چھوٹی گاڑیوں کی طرف آرہے ہیں لیکن اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ مالی سال کے نو مہینوں کے مقابلے میں رواں مالی سال کے نو مہینوں میں ایک ہزار سی سی سے کم گاڑیوں کی سیل میں دو فیصد کمی دیکھی گئی ہے  لیکن ایک ہزار سی سی سے 1300 سی سی تک گاڑیوں کی فروخت میں 26 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت

مسافر بردار اور دیگر گاڑیوں کی طرح ملک میں رواں مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں موٹر سائیکل سمیت تین پہیوں والی گاڑیوں کی سیل میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔  موٹر سائیکل اور رکشہ کی بات کریں تو پچھلے سال کے نو مہینوں میں 11 لاکھ 81 ہزار سے  زائد یونٹس بکے۔ یہ تعداد اب زیادہ ہو کر 14 لاکھ 38 ہزار سے زائد تک پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس میں سب سے زیادہ تعداد ہونڈا موٹر سائیکل کی ہے جس کی فروخت پچھلے سال کے سات لاکھ 68 ہزار 974 یونٹس سے بڑھ کر نو لاکھ 61 ہزار سے زائد تک پہنچ گئی ہے۔

گاڑیوں کی سیل میں اضافے کی وجوہات کیا ہے؟

عارف حبیب لمیٹڈ کے معاشی تجزیہ کار قاضی ہادی سمجھتے ہیں کہ گاڑیوں کی سیل میں اضافے کی ایک بنیادی وجہ پالیسی ریٹ میں کمی ہے جو تقریباً 13 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد تک کر دی گئی ہے۔ اس کی تفصیل بتاتے ہوئے ہادی نے بتایا کہ پہلے تقریباً 13 فیصد شرح سود پر لیز پر گاڑی ملتی تھی لیکن بعد میں حکومت نے ریلیف دے کر اسے 10 فیصد تک لے آئی ہے۔

ہادی نے بتایا: ’شرح سود میں کمی کی وجہ سے لوگوں نے دھڑا دھڑ لیز پر گاڑیاں خریدنا شروع کردیں  کیونکہ ان کو شرح سود میں تین فیصد تک کمی مل رہی تھی۔‘

دوسری وجہ ہادی کے مطابق یہ بھی ہے کہ  پچھلے سال مارچ کے مہینے میں آٹو سیکٹر میں کوئی گاڑی نہیں بنائی گئی کیونکہ کرونا (کورونا) وائرس کہ وجہ سے لاک ڈاؤن تھا اور اب اسی سال مارچ کے مہینے میں گاڑیوں کی مینو فیکچرنگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم ہادی سمجھتے ہے کہ پچھے سال کے مارچ کا اس سال کے مارچ سے موازنہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم پچھلے سال کے مارچ کے ایک مہینے کا اس سال کے ایک مہینے سے موازنہ نہیں کر سکتے کیونکہ پچھلے سال تو کوئی گاڑی مارچ میں بنی ہی نہیں ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں ہمیں مجموعی اعداود شمار کو دیکھنا چاہیے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروخت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔‘

گاڑیوں کی درآمد میں کمی بھی ہادی لوکل گاڑیوں کی سیل میں اضافے کی وجہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے سالوں کو اگر دیکھا جائے تو درآمد اس حد تک نہیں ہو رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ صارفین اب لوکل بننے والی گاڑیوں کی طرف جا رہے ہیں اور اس کو خرید رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’اسی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے اب نئی کمپنیاں مارکیٹ میں آگئی ہیں اور وہ مختلف ا قسام کی گاڑیاں بنا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بہت سی نئی گاڑیاں پاکستان کی سڑکوں پر آگئی ہیں جس سے لوکل مینوفیکچرنگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘

ٹویوٹا نے گذشتہ مہینے دعویٰ کیا تھا کہ رواں سال مارچ میں اس نے گاڑیا ں بنانے کا گذشتہ 30 سالوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے تاہم اس حوالے سے انہوں نے اعداد و شمار شیئر نہیں کیے۔ لیکن مجموعی طور پر اگر پاکستان آٹو میٹیو ایسوسی ایشن کے اعددو شمار کو دیکھا جائے تو پاکستان کی بڑی آٹو کمپنیوں کی مینوفکرچرنگ اور فروخت میں اضافہ ضرور دیکھا گیا ہے۔

یہی سوال کہ گاڑیوں کی سیل میں اضافہ کیوں ہوا ہے، ہم نے ٹویوٹا کمپنی کی انتظامیہ کے سامنے رکھا۔ اس کے جواب میں ٹویوٹا کے  ترجمان اسامہ صدیقی  نے بتایا کہ پچھلے سال کرونا لاک ڈاؤن کے بعد جب حالات بہتری کے جانب گامزن ہوگئے  اور لوگوں نے گاڑیاں خریدنا شروع کردیں تو طلب میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

اسامہ کا کہنا تھا:  ’سیل میں اضافے کی وجہ شرح سود میں کمی بھی تھی جس کی وجہ سے زیادہ تعداد میں گاڑیاں خریدنے کے آرڈر موصول ہوگئے۔‘

ٹویوٹا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر علی اصغر شرح سود میں حکومت کی جانب سے کمی  پاکستان میں گاڑیوں کی صنعت کے  فروغ کے لیے ایک اہم قدم سمجھتے ہیں۔

کرونا اور قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود فروخت میں اضافہ کیوں؟

عام تاثر یہی ہے کہ کرونا کی وبا بھی جاری ہے اور اوپر سے گاڑیوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں تو کوئی انہیں نہیں خریدے گا تاہم  صورت حال اس کے برعکس ہے۔ ہم نے تمام اعد ادو  شمار اسی رپورٹ کے آوائل میں آپ کے سامنے رکھے ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود سیل میں اضافہ کیوں ہوا ہے، اس کے جواب میں عارف حبیب لمیٹڈ کے قاضی ہادی نے تبایا کہ  عام طور پر کرونا لاک ڈاؤن میں لوگ زیادہ تر گھروں میں تھے تاہم گاڑیاں چلتی تھیں اور لوگ ان کو استعمال کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا: ’گاڑیوں کے استعمال میں کمی نہیں آئی ہے۔ کرونا لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی لوگ گاڑیاں خرید رہے تھے۔‘

قیمتیں بڑھنے کے باوجود اضافے کی  وجہ ہادی کے مطابق یہ ہے کہ پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کا ایک بہت بڑا مارکیٹ ہے اور ہر گاڑی خریدنے کے وقت صارف کو ’اون‘ دینا پڑتا ہے جو تین سے پانچ لاکھ تک ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب صارفین کمپنی ہی سے گاڑی خریدنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔’اون‘ وہ رقم ہوتی ہے جو آپ اس صورت میں دیتے ہیں جب کوئی  ڈیلر گاڑی لے کر آتا ہے اور آپ کو فوراً گاڑی کی ضرورت ہے تو آپ تین سے پانچ  لاکھ دے کر ان سے گاڑی خرید سکتے ہیں۔ 

ہادی نے بتایا: ’اگر کوئی مارکیٹ سے اون پر گاڑی خریدتا ہے  اور دوسرا کمپنی سے نئی گاڑی خریدتا ہے تو اس کے قیمتوں میں اتنا فرق نہیں ہوتا اور اوپر سے صارف کو اون بھی دینا پڑتا ہے تو وہ اب کمپنی ہی سے گاڑی خریدنے کو ترجیح دیتا ہے اور یہ بھی قیمتیں بڑھنے کے باوجود گاڑیوں کی سیل میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔‘

پاکستانی معیشت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

پاکستان میں گاڑیوں کی صنعت ملکی زر مبادلہ کا 2.8 فیصد بنتا ہے اور سرکاری اعدادود شمار کے مطابق ہر سال گاڑیوں کی صنعت سے تقریباً 30 ارب روپے ٹیکسز ا اور ڈیوٹیز کی مد میں قومی خزانے میں جمع ہوتے ہے۔ پاکستان بوڑد آف انوسٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گاڑیوں کی صنعت میں پورے ایشیا میں سب سے  تیز ترین اضافہ دیکھنے کو  ملا ہے۔

اسی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی پراڈکشن اور فروخت  2014 اور 2018 کے مابین تقریباً 171 فیصد بڑھ گئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ پاکستانی حکومت کی طرف سے آٹو میٹویو ڈولپمنٹ پالیسی تھی جو 2016 سے 2021 تک نافذ العمل ہوگی۔ اس پالیسی کے تحت  گاڑیوں کی صنعت سے وابستہ  کمپنیوں کو مختلف ٹیکسز میں چھوٹ دے دی گئی ہے۔

قاضی ہادی  سے جب پوچھا گیا کہ کیا گاڑیوں کی سیل میں اضافے کا ملکی معیشت میں بہتری سے کوئی تعلق ہے، اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں گاڑیوں کی صنعت  زرد مبادلہ کا تین سے چار فیصد ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی اس طرح کا ٹرینڈ ہے  اور سیل سے اضافے سے ملکی معیشت پر ایک مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

کونسی گاڑی سب سی زیاد ہ بکی ہے؟

رواں مالی سال کے نو مہینوں میں سب سے زیادہ بکنے والی گاڑی سوزوکی 660 سی سی آلٹو ہے جس کی مجموعی طور 29 ہزار سے زائد یونٹس بک گئے ہیں۔پچھلے مالی سال کے نو مہینوں میں سوزوکی آلٹو کے 27 ہزار سے زائد یونٹس بک گئے تھے۔ دوسرے نمبر پر زیادہ بکنے والی گاڑی ٹویوٹا کی یارس گاڑی ہے جس کے 21 ہزار سے زائد یونٹس بک گئے ہیں جبکہ تیسری نمبر پر ہونڈا کی سوک اور سٹی گاڑی ہے جس کے مجموعی طور پر 18 ہزار سے زائد یونٹس بک گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت