سیکنڈ ہینڈ گاڑی لینی ہو تو چھوٹی لیں یا بڑی؟ 

آپ کا سفر شہر میں زیادہ ہے؟ آپ جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں یا میاں بیوی اور دو تین بچے ہیں بس؟ آپ کے پاس ہفتے میں دو چھٹیاں ہوتی ہیں یا ایک؟ گاڑی خریدنے کے بعد اکاؤنٹ میں ایک دو لاکھ پیچھے بچتا ہے یا نہیں؟ اور ایسے ہی بہت سے سوالوں کے جواب سے فیصلہ کریں۔

(پکسابے)

فیصلہ آپ کا ہے لیکن اس تحریر میں چھوٹی موٹی جمع تفریق آپ کو بتا دی جائے گی، حساب کر لیں اور اس کے بعد عملی قدم اٹھائیں۔  

 پہلے یہ سوچیں کہ آپ کو گاڑی چاہیے کیوں، باقی تمام باتیں اس کے بعد آتی ہیں۔ 

چھوٹی گاڑی سے مراد بغیر ڈگی والی گاڑی اور بڑی گاڑی مطلب سیڈان یعنی ڈگی والی کار۔ اب چلیں باقی کالم پر۔ 

آپ کا سفر شہر میں زیادہ ہے؟ 

اگر ہاں تو سو فیصد چھوٹی گاڑی آپ کے لیے بیسٹ ہے لیکن سوال یہ کہ شہر کون سا؟ کراچی، لاہور، اسلام آباد میں آپ بڑی گاڑی بھی اطمینان سے چلا سکتے ہیں کوئی زیادہ ٹینشن نہیں ہوتی۔ باقی شہروں میں عموما اگر آپ روزانہ استعمال کے لیے بڑی گاڑی لیں تو کچھ عرصے بعد ایک عدد موٹر سائیکل یا چھوٹی گاڑی خود بخود حیثیت کے مطابق گھر میں آ جاتی ہے، وہ ظلم ہے۔ جس گاڑی کو رش اور تنگ گلیوں کی وجہ سے آپ بے خوف چلا نہیں سکتے اس کی آرتی اتارنی ہے؟ اور گاڑی سے اتر کے موٹر سائیکل چلاتے وقت آپ کے دماغ میں سارے ٹریفک رولز گاڑی والے چل رہے ہوتے ہیں تو آپ بہرحال زیادہ رسک پہ ہوتے ہیں۔  

یاد رکھیں سیکنڈ ہینڈ گاڑی اگر ہفتے دس دن کے لیے متواتر کھڑی ہونا شروع ہو گئی تو کھڑی گاڑی میں چلتی کی نسبت کام زیادہ نکلتے ہیں اس لیے بڑی لے کے گھر کھڑی کرنے اور موٹر سائیکل پہ گھومنے کی بجائے ڈائریکٹ چھوٹی گاڑی خرید فرمائیں۔ 

آپ نے ایک شہر سے دوسرے شہر ہفتے میں ایک آدھ بار جانا ہے؟ 

اگر ہاں تو استاد پھر چھوٹی گاڑی کو بھول جائیں۔ ہمت کریں اور نئے ماڈل کی چھوٹی گاڑی کی جگہ تھوڑے پرانے ماڈل کی بڑی گاڑی لے لیجیے۔ حادثے کی صرف وہی قسمیں ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں جو عام طور پہ ہم دیکھتے ہیں۔ بعض اوقات کسی بھی قسم کے انہونے حادثے میں جان اس لیے بچ جاتی ہے کہ گاڑی بڑی تھی۔ خدا بچائے لیکن لانگ روٹ پہ حادثے کی صورت میں چھوٹی گاڑی بہرحال ایک سرخ لائٹ ہے۔  

چھوٹی گاڑی لانگ روٹ پہ لانے کا ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ جتنا مرضی جلدی پہنچنا ہو، چلائیں اسی نوے کی سپیڈ پر، اس سے اوپر اپنی سمجھ میں نہیں آتا۔ سپیڈ لمٹ موٹر وے پہ بھلے ایک سو بیس ہے لیکن چھ سو ساٹھ سی سی یا ہزار سی سی تک بھی بہرحال گرپ وہ نہیں ہوتی جو بڑی گاڑی کی ہوتی ہے۔ 

آپ جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں یا میاں بیوی اور دو تین بچے ہیں بس؟ 

جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں تو بڑی گاڑی سمجھ میں آتی ہے کہ سب مل کے سفر کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کا ایک فائدہ اور بھی ہے۔ چھوٹی گاڑی کھڑکا بہت جلدی نکالتی ہے۔ کھڑکا مطلب؟ ادھر ادھر ایویں کا شور، چوں چوں کی آوازیں، تو جب جوائنٹ فیملی میں ہوں گے تو گاڑی آپ کے ابا، بھائی یا چاچو بھی چلا سکتے ہیں۔ چھوٹی گاڑی ایک سے زیادہ ہاتھ کی مار لمبا عرصہ نہیں سہہ سکتی، کھڑکا اور چھوٹے موٹے کام جلدی نکال لیتی ہے۔ بڑی گاڑی بہرحال ایک بار کام نکالتی ہے لیکن اس کے بعد پھر سکون سے چلتی ہے کافی ٹائم، اور کھڑکا بھی بڑی گاڑی میں کم ہوتا ہے۔ 

فیملی چھوٹی ہے تو یقینا بغیر ڈگی والی گاڑی لیں اور موج کریں۔ 

آپ گاڑی کو گھر بنا کے رکھنا چاہتے ہیں یا بس ایک جگہ سے دوسری جگہ تک جانے کے لیے استعمال کرنا ہے؟ 

بڑی گاڑی میں یہ موج ہے۔ ڈگی کو آپ الماری بنا کے رکھ سکتے ہیں۔ کپڑے، جوتے، چھتری، جم کا سامان، کرکٹ یا کسی اور کھیل کی کٹ، کسی نے نہیں چھیڑنا، چھوٹی گاڑی میں آپ کی چیزیں رل جاتی ہیں۔ ایک بندہ بھی پیچھے بیٹھا تو سارا سامان تہس نہس ہو جاتا ہے۔ 

آپ کی ڈرائیونگ محتاط ہے یا اکثر دل کی موج سے سپیڈ کا کنکشن جڑ جاتا ہے؟ 

دیکھیں اگر آپ سکون سے گاڑی چلاتے ہیں تو دنیا کی ہر گاڑی آپ کے لیے ہے لیکن اگر آپ میری طرح انھہے وا چلاتے ہیں تو پھر بڑی گاڑی لیں۔ چھوٹی گاڑی کے شاکس جتنے مرضی اچھے ہوں سڑک پہ موجود معمولی کھڈا یا جمپ بہت شدت سے لگتا ہے۔ بڑی گاڑی معمولی اونچ نیچ آرام سے پی جاتی ہے اور شاکس میں کام بھی کافی عرصے بعد نکالتی ہے۔ 

آپ کے پاس ہفتے میں دو چھٹیاں ہوتی ہیں یا ایک؟ 

ایک چھٹی ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سال کے عام دنوں میں آپ گھر سے بہت دور چلے بھی گئے تو سو ڈیڑھ سو کلومیٹر کے بعد واپس آ جائیں گے کیونکہ اگلے دن نوکری پہ جانا ہے۔ اس کیس میں چھوٹی گاڑی ٹھیک ہے۔  

دو چھٹیوں کا مطلب ہے لمبا ٹور، زیادہ سامان، لانگ ڈرائیو، دوستوں کے ساتھ ویک اینڈ اور اکثر لمبا سفر، تب بہرحال بڑی گاڑی زیادہ آرام دہ اور محفوظ رہے گی۔ 

گاڑی میں اگر کوئی چھوٹی موٹی آواز آ رہی ہو تو آپ کو زیادہ پریشانی وغیرہ تو نہیں ہوتی؟ 

یہ سوال اسی کھڑکے والی بات کے لیے پوچھا ہے۔ اگر تو معمولی چوں چاں برداشت ہوتی ہے پھر سکون سے چھوٹی گاڑی لیں۔ معاملہ یہ ہے کہ بہرحال اس میں پاکستانی سڑکوں کے کھڈے برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہے اس لیے بڑی کار کی نسبت اس نے جلدی کھڑکنا ہی کھڑکنا ہے۔ پرسکون اور خاموش ڈرائیو چاہیے تو بڑی گاڑی بہترین ہے۔ 

ایک لیٹر میں کتنے کلومیٹر چاہیے؟ 

یہ سوال پرانی گاڑیوں تک اتنا اہم نہیں تھا۔ مطلب 2010  تک مہران، سٹی، کرولا اور کلٹس کی ایوریج آس پاس ہی ہوتی تھی۔ تیرہ سے پندرہ کلومیٹر فی لیٹر۔ اگر آپ اس ماڈل کے آس پاس لے رہے ہیں تب بے خوف ہو کے بڑی لیں یا چھوٹی، پیٹرول کا بہت خاص فرق بہرحال نہیں ہو گا۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب یہ ہے کہ بے تحاشا اقسام آ چکی ہیں، ہائبرڈ گاڑیاں بھی ہیں۔ اس وقت چھوٹی گاڑیوں میں نسان ڈیز اور بڑی میں ٹویوٹا پرئیس کی ایوریج بہترین ہے۔ نان ہائبرڈ میں بھی نئی آلٹو، کلٹس بہترین ایوریج دے رہی ہیں۔ تو بہرحال نسبتا نئے ماڈلز میں فیول اکانومی کو بنیاد بنا کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے، پرانے ماڈلز میں کوئی اتنا خاص فرق نہیں ہوتا تھا۔ 

گاڑی خریدنے کے بعد اکاؤنٹ میں ایک دو لاکھ پیچھے بچتا ہے یا نہیں؟ 

چھوٹی یا بڑی، جو مرضی گاڑی لے لیں سارے پیسے  نہیں جھونک دینے۔ مارکیٹ سے لی ہوئی گاڑی لاکھ تک کی ڈز آرام سے مار سکتی ہے۔ انجن ایک بار کھلا تو پھر کھلتا ہی چلا جاتا ہے۔ گاڑی بڑی ہو یا چھوٹی، مالک یا شوروم والا قسمیں کھا رہا ہو، بجٹ سے باہر نہیں نکلنا، پیچھے لاکھ دو لاکھ موجود ہوں تو گاڑی لیں ورنہ کوئی اور ڈھونڈ لیں۔  

فیصلہ کیسے کریں؟ 

اوپر نو سوال پوچھے گئے ہیں۔ ایک سادے کاغذ پہ دو خانے بنائیں، چھوٹی گاڑی، بڑی گاڑی ۔۔۔ ہر سوال کا جواب اپنے حساب سے سوچ کے ووٹنگ کرتے جائیں۔ فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا۔  

میں کیا کرتا؟ 

یار ایمانداری کی بات ہے کورے کے علاوہ کوئی چھوٹی گاڑی مجھے سمجھ نہیں آئی۔ اس کا معاملہ بڑی گاڑیوں جیسا ہوا کرتا ہے۔

اگر مجھے پارکنگ یا تنگ گلیوں کا مسئلہ نہیں ہے تو میں سو فیصد بڑی گاڑی رکھنا پسند کروں گا۔ چاہے میرے بجٹ میں دس سال پرانی بڑی گاڑی آتی ہو اور نئی چھوٹی زیرو میٹر آ جائے لیکن اپنی چوائس پرانی اور ڈگی والی کار ہی ہو گی۔  

میرے نزدیک سب سے اہم مسئلہ ڈرائیونگ کمفرٹ ہے۔ وہ سو فیصد بڑی گاڑی میں ملتی ہے چاہے آپ کرولا چوہتر، اکارڈ چھیاسی یا مارگلہ چھیانوے رکھ کے دیکھ لیں۔ وہ عیاشی چھوٹی کار میں نہیں ملتی۔  

آخری وجہ یہ کہ زندگی میں تین چار بار بڑے ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے رہ گئے، ایک دو بار ہو بھی گئے، بچ جانا قسمت تھی لیکن اس میں اہم ہاتھ بہرحال بڑی اور وزنی گاڑی کا تھا۔ 

خدا آپ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ