خیبرپختونحوا: بیرونی قرضے 268 ارب روپے تک پہنچ گئے

محکمہ فنانس کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں بیرون قرضوں کا حجم 225 ارب روپے سے اب 2020 میں تقریباً 45ارب روپے اضافے کے ساتھ 268 ارب روپے سے زائد تک پہنچ گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف ماضی میں حکومت کو قرضے لینے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

خیبر پختونخوا میں محکمہ فنانس کے رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال میں بیرونی قرضوں کا حجم 268 ارب سے زائد تک پہنچ گیا ہے۔

محکمہ فنانس کی ایک رپورٹ کے مطابق حکمران جماعت کے مختلف منصوبوں کے لیے سال 2019 میں بیرون قرضوں کا حجم 225 ارب روپے سے اب 2020 میں تقریباً 45ارب روپے اضافے کے ساتھ 268 ارب روپے سے زائد تک پہنچ گیا ہے جبکہ ان قرضوں کے علاوہ 371 ارب روپے کے مزید قرضے پائپ لائن میں ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے ماضی میں بیرونی قرضہ جات پر سابق حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بیرون قرضے نہیں لے گی لیکن اگر رپورٹ کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو ہر چھ ماہ بعد بیرونی قرضوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

محکمہ فنانس کی یہ ششماہی رپورٹ سال میں دو مرتبہ صوبائی وزارت خزانہ میں قائم قرضوں کی منیجمنٹ یونٹ کی جانب سے جاری کی جاتی ہے۔

’جولائی 2020 سے دسمبر 2020 کی ششماہی رپورٹ کے مطابق صوبے نے کل 95 منصوبوں کے لیے 268 ارب روپے سے زائد قرضہ لیا جس پر شرح سود دو فیصد سے لے کر 2.5 فیصد ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق یہ بیرونی قرضے وفاقی حکومت کے ذریعے صوبے کے لیے لیے گئے ہیں جبکہ قرضوں کی واپسی، قرضوں پر سود  و دیگر واپسی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے جس کے لیے صوبائی حکومت بجٹ میں فنڈ مختص کرتی ہے۔

دسمبر 2020 تک جتنے قرضے لیے گئے، اسی پر صوبائی حکومت دو ارب روپے سے زائد سود سالانہ ادا کرتی ہے جبکہ مجموعی طور پر سالانہ ان قرضوں کی مد میں 10 ارب روپے سے زائد ادائیگی ہوتی ہے۔

ان قرضوں میں رپورٹ کے مطابق 90 فیصد قرضے ایشیائی ترقیاتی بینک اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسو سی ایشن جو ورلڈ بینک کا ادارہ ہے، کی جانب سے دیے گئے ہیں جبکہ ان قرضوں کی واپسی کا دورانیہ 30 سے 40 سال تک ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان قرضوں میں انٹر نیشنل ڈویلپمنٹ ایسو سی ایشن کی جانب سے دیے گئے قرضوں پر شرح سود تو فکس ہے لیکن ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے شرح سود مارکیٹ ریٹ کے حساب سے تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

کس سیکٹر کے لیے کتنا قرض لیا گیا  ہے؟

اس ششماہی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر قرضے ترقیاتی منصوبوں کے لیے لیے گئے ہیں جس میں مختلف شعبہ جات شامل ہیں۔

سب سےزیادہ قرضہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیو نیکیشن کے شعبے میں لیا گیا جو تقریباً 101 ارب روپے ہے جو قرضوں کے  کل حجم کا تقریباً 41 فیصد ہے۔

اسی طرح معاشی ترقی کے شعبے کے لیے تقریباً 56 ارب روپے جو کل قرضے کا 21 فیصد تک ہے  اور  توانائی کے شعبے کے لیے 24 ارب روپے سے زیادہ قرض لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ علاقائی ترقی کے لیے 21 ارب روپے سے زائد، ایر یگیشن کے لیے 19 ارب سے زائد جبکہ تعلیم کی شعبے میں شامل منصوبوں کے لیے 10 ارب روپے سے زائد کا قرض لیا گیا۔

گورننس اور  زراعت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 10 ارب سے زائد، سوشل ویلفیئر کے لیے چار ارب، ماحولیات کے شعبے کے لیے ساڑھے تین ارب، صحت کے لیے دو ارب سے زائد، سیاحت کے لیے  ایک ارب روپے سے زائد جبکہ صنعت کے شعبے کے لیے تقریباً 26 کروڑ کا قرضہ حاصل کیا گیا ہے۔

حکومت کا کیا موقف ہے؟

پی ٹی آئی نے تو ہمیشہ بیرون قرضوں کی مخالفت کی ہے تو اب ہر سال بیرونی قرضوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

اس سوال کے جواب میں صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پائیدار قرضے( ایسے قرضے جس کی ادائیگی میں حکومت کے لیے الگ سے روپے لینے کی ضرورت نہ ہو یا جس کی وجہ سے حکومت ڈیفالٹر نہ ہو) ترقی کے لیے نہایت ضروری ہیں جس کا میری حکومت بارہا ذکر بھی کر چکی ہے۔‘

تیمور سلیم جھگڑا کہتے ہیں کہ ’خیبر پختونخوا حکومت کا قرضہ صوبائی بجٹ کا دو  فیصد ہے جبکہ ہماری اپنی صوبائی آمدنی میں گذشتہ دو سالوں میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے جو لانگ ٹرم قرضہ واپس کرنے کے لیے بہتر ہے۔ اس لیے قرضے لینا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے گراف پر اگر نظر ڈالیں تو 2020 سے 2027 تک صوبے کو سالانہ پانچ ارب روپے سے لے کر 2027 میں سب سے زیادہ سالانہ تقریباً آٹھ ارب روپے دینا پڑیں گے جس کے بعد اس میں کمی  آئے گی۔

گراف کے مطابق 2027 کے بعد 2040 تک سالانہ ادائیگی چار ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس  سے وابستہ ڈاکٹر ناصر اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بیرونی قرضے کسی طور بھی کسی ملک کی معیشت کے لیے بہتر نہیں ہوتے، کیونکہ قرض عموماً یا تو پرانے قرضے واپس کرنے یا درآمداد اور برآمدباد کو بیلنس کرنے کے لیے لیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’پہلے زیادہ تر پرانے قرضے واپس کرنے کے لیے قرضہ لیا جاتا تھا لیکن اب  وفاقی حکومت سمیت صوبوں نے بھی عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لینا شروع کر دیے ہیں۔

’ہمارے ملک کی معیشت ایک پولیٹیکل معیشت ہے جس میں سیاسی جماعتیں جو حکومت میں ہیں وہ اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے عوام پر ٹیکسز یا ڈیوٹی میں اضافہ نہیں کرتیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ اس سے سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عالمی مالیاتی اداروں سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے لینا شروع کر دیتی ہیں۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ صوبائی حکومت سمجھتی ہے کہ یہ ’قرض کوئی مسئلہ نہیں‘ ہے اور اس کو  ’باآسانی‘ ادا کیا جا سکتے ہیں۔۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر ناصر کا کہنا تھا کہ ’کوئی ملک ڈیفالٹ نہیں ہوتا کیونکہ کسی بھی وقت کوئی بھی ملک عالمی فنانس کے اداروں سے زیادہ شرح سود پر قرض لے سکتا ہے جس سے حکومتی مشینری چل سکتی ہے۔‘

’چونکہ ہمارے پاس آمدنی کے ذرائع اتنے نہیں ہیں اس لیے وفاقی حکومت نے اب صوبوں کو بھی اختیار دیا ہے تاکہ وفاقی حکومت کو ادائیگی کے بوجھ سے آزاد کرایا جائے اور قرضوں کی واپسی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہو۔‘

ڈاکٹر ناصر کے مطابق کسی ملک یا صوبے کے بہتر مفاد میں یہی ہے کہ وہ خود آمدنی کے ذرائع بڑھائیں اور  ترقیاتی ہوں یا  کرنٹ بجٹ، اسی سے خرچے چلا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت