پاکستان میں روٹی مہنگی، سگریٹ سستے

ایچ آئی ای ایس کی تحقیق بتاتی ہے کہ تمباکو نوشی سے کم آمدنی والے گھرانے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی تعداد دو کروڑ 90لاکھ ہے(فائل فوٹو: اے ایف پی)

سال 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے زائد ہے۔ پاکستان کی 13 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ آبادی دیہی علاقوں میں ہے جبکہ سات کروڑ 56 لاکھ 70 ہزار افراد شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔ پنجاب 10 کروڑ 99 لاکھ 89 لاکھ سے زیادہ آبادی کے ساتھ سب سے بڑا صوبہ ہے۔ دوسرے نمبر پر سندھ چار کروڑ سے زائد آبادی رکھتا ہے جبکہ تیسرے نمبر پر تین کروڑ آبادی کے ساتھ خیبرپختوانخوا آتا ہے۔

پاکستان میں دو کروڑ 90 لاکھ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں یعنی تقریباً تیسرے بڑے صوبے کے افراد جتنے لوگ اس لت کے شکار ہیں اور اس کی وجہ ہے پاکستان میں سستے سگریٹس کی دستیابی۔ پاکستان میں 20 سگریٹ کے پیکٹ کی اوسط قیمت 38 روپے ہے یعنی تقریباً دو روپے کا ایک سگریٹ۔ اندازہ لگائیں کہ پاکستان میں روٹی 12 روپے کی دستیاب ہے۔

یعنی پاکستان میں روٹی سگریٹ سے چھ گنا زیادہ مہنگی ہے۔

 اگر ملٹی نیشنل برانڈز کی مہنگی سگریٹس کی بات کی جائے تو وہ بھی ایک سگریٹ دس روپے میں مل جاتا ہے یعنی مہنگا ترین سگریٹ بھی روٹی سے سستا ہے۔

ایچ آئی ای ایس کی تحقیق بتاتی ہے کہ تمباکو نوشی سے کم آمدنی والے گھرانے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو روز مرہ اشیائے ضروریہ پر سمجھوتہ کر کے سگریٹ خریدتے ہیں۔ سال 2017 میں حکومت نے سگریٹ پر تھرڈ ٹیئر لاگو کیا جس سے زیادہ استعمال ہونے والے سگریٹ سستے ہوئے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ کم آمدنی والے افراد نے سگریٹ نوشی میں 27 فیصد اضافہ کر دیا۔

تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں کے باعث صحت کے بجٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اب ذرا علاقائی اعداد و شمار دیکھیے کہ کس طرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں سگریٹ سستے ترین ہیں۔

پاکستان میں گولڈ فلیک نامی سگریٹ سستا ہے اور تقریباً 50 سینٹ میں پیکٹ دستیاب ہے جبکہ یہی سگریٹ بھارت میں چار ڈالر، بحرین میں 4.16 اور متحدہ عرب امارات میں 4.36 ڈالر میں دستیاب ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب مہنگے سگریٹ کی قیمت دیکھیے۔ گولڈ لیف سگریٹ کا پیکٹ پاکستان میں 1.13 ڈالر، بنگلہ دیش میں 1.90،بھارت میں 2.48، سعودی عرب میں 3.47 اور سری لنکا میں 6.71 ڈالر میں دستیاب ہے۔ یعنی پاکستان کے مقابلے میں سری لنکا میں یہ سگریٹ تقریباً پانچ ڈالر زیادہ مہنگا ہے

ایسے ہی پاکستان میں 2019 سے 2021 تک گوشت 32 فیصد، چکن 168 فیصد، انڈے 83 فیصد، دودھ 51 فیصد تک مہنگے ہوئے لیکن اسی عرصہ میں سگریٹ ایک فیصد بھی مہنگے نہیں ہوئے۔ اس مہنگائی کی وجہ ہے افراط زر جوکہ پورے خطے میں سب سے زیادہ یعنی 10.90 فیصد پاکستان میں ہے جبکہ بنگلہ دیش میں 5.65، افغانستان میں 4.40 اور بھارت میں 4.20 کے حساب سے افراط زر ہے۔

 اندازہ لگائیں کہ جس ملک میں افراطِ زر سب سے زیادہ ہے وہاں سگریٹس سب سے سستے دستیاب ہیں۔

 یقینا سوال اُٹھتا ہے کہ آخر کیوں ؟

ایک اور بات قابل توجہ ہے اور وہ ہے حکومتی ادارے ایف بی آر کے سگریٹ پر ٹیکس نہ لگانے کے حیلے بہانے۔

گذشتہ برس کابینہ نے ہیلتھ لیوی منظور کیا کہ ہر سگریٹ کے پیکٹ پر دس روپے ہیلتھ لیوی لگایا جائے لیکن ایف بی آر نے اس کو اس لیے مسترد کر دیا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد یہ ٹیکس صرف وفاق میں لگ سکتا ہے۔

 لیکن اس بار وزارت قانونی کی جانب سے ایک لیٹر جاری کیا گیا ہے کہ یہ ٹیکس یعنی ہیلتھ لیوی قانونی طور پر پاکستان بھر میں لگائی جا سکتی ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ صحت کی مد میں جو 615 ارب پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے اس کو کسی حد تک کم کیا جا سکے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کابینہ اور وزارت قانون کے سفارشات کے بعد بھی ایف بی آر ان سگریٹ کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرتی ہے یا پھر ماضی کی طرح حیلے بہانوں سے کام لیتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ