صوبے کی تقسیم کو غداری کہنے سے بڑی غداری کوئی نہیں: خالد مقبول

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین ان کی جماعت کو کراچی کے لیے الگ صوبہ اور گورنر راج کا مطالبہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ  پاکستان کے پچھلے 10 سالوں کی تاریخ میں گورنر راج لگانے کے لیے سب سے اہم وقت اور مقدمہ آج کے دن کا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر اور سابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین ان کی جماعت کو کراچی کے لیے الگ صوبہ اور گورنر راج کا مطالبہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر سندھ حکومت اسے غیر جمہوری سمجھتی ہے تو یہ ان کی ’ملک کے ساتھ غداری ہے۔‘

رواں ماہ ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف ریلی نکالی جس میں انہوں نے جنوبی سندھ صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا اور حکومت سندھ پر پچھلے 10 سالوں میں چھ ہزار پانچ سو 75 ارب روپے میں غبن کرنے کا الزام بھی لگایا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی سندھ اسمبلی میں صرف 21 سیٹیں ہیں اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی 99 لیکن انہیں جنوبی سندھ صوبے کے قیام کے لیے صرف دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔

گورنر راج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا: ’حال ہی میں جو ریلی ہوئی اس میں ایم کیو ایم کا گورنر راج کا مطالبہ باضابطہ طور پر سٹیج سے نہیں ہوا تھا لیکن ہمارے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گورنر راج بھی تو ایک آئینی حل ہے۔ پاکستان میں چھوٹے چھوٹے واقعات پر گورنر راج لگتے رہے، بغیر وجہ کے لگتے رہے۔ پاکستان کے پچھلے 10 سالوں کی تاریخ میں گورنر راج لگانے کے لیے سب سے اہم وقت اور مقدمہ آج کے دن کا ہے۔‘

ایم کیو ایم نے سندھ میں الگ صوبے کے قیام اور گورنر راج کے نفاز کے لیے کیا آئینی راستہ اختیار کیا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’ایم کیو ایم قومی اسمبلی میں گئی ہے اور کہا ہے کہ یہ مفادات کا تصادم ہے کہ یہ صوبائی حکومت فیصلہ کرے کہ اس میں مزید صوبے بننے ہیں یا نہیں بننے۔ اس فیصلے کو وفاق کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ ہم نے جو قرارداد پیش کی تھی وہ قومی اسمبلی سے نکل کر قائمہ کمیٹی تک تو چلی گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’آج نہیں تو کل ایک ایسی حکومت ہوگی جس کا وفاق اور صوبے میں ایم کیو ایم کے بغیر چلنا مشکل ہوگا، اس کے سامنے ہم یہ بات رکھیں گے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی کراچی کے حقوق کے لیے ہونے والی ریلی کو ’کراچی تباہی ریلی‘ قرار دیا ہے اور الگ صوبے کے قیام کو غیر جمہوری۔ اس معاملے پر خالد مقبول صدیقی نے سوال کیا: ’کیا کوئی بھی غیر جمہوری طریقہ آئین میں درج ہوتا ہے؟‘

ان کا کہنا تھا: ’صوبہ اور گورنر راج دونوں آئین کے آپشنز ہیں۔ جب آصف علی زرداری نے پنجاب میں گورنر راج لگایا تھا تو کیا وہ غیر جمہوری نہیں تھا؟‘

انہوں نے بتایا: ’ہم تو اب حساب مانگنے نکلے ہیں کہ 60 ارب ڈالر کا حساب دو کہ لگا کہاں ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک تعصب اور دوسرا کرپشن۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق سندھ حکومت کراچی کے ساتھ متعصبانہ سلوک کر رہی ہے۔ تاہم سندھ کے باقی شہروں کا برا حال ہونے نے باوجود بھی ان کا کہنا تھا کہ ’کم از کم وہاں کے لوگوں کو نوکریاں تو مل رہی ہیں۔ وہ تو کراچی کی ایک لاکھ نوکریاں پی گئے ہیں۔ سندھ سیکریٹیریٹ جا کے دیکھیں وہ سندھی سیکریٹیریٹ ہے۔ اگر کرپشن ایک بڑا مسئلہ ہے تو اس کے ساتھ تعصب دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ سندھ حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ نا اہلی کی وجہ سے نہیں بلکہ تعصب کو باقائدہ ایک ترتیب دی گئی ہے اور اس کو ایک پالیسی کی شکل دی گئی ہے۔‘

جنوبی پنجاب صوبے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’اس کی ہم نے مخالفت نہیں کی ہے۔ پنجاب کے باقی علاقے کے لوگ بھی اس طرح مخالفت نہیں کر رہے۔ ہزارہ صوبے پر بات کرنا بھی غداری نہیں ہے۔ تو سندھ کیوں؟ ہم تو جناح کے پاکستان کی بات کرتے ہیں جس میں کراچی سندھ کا حصہ نہیں تھا۔‘

سندھ میں جنوبی صوبے کے جغرافیہ پر بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنوینر کہنا تھا: ’سندھ کے اندر ایک متروکہ سندھ بھی ہے۔ وہ سندھ جو کہ سندھی ہندو چھوڑ کر متروکہ ہند میں گئے تھے جسے ہم چھوڑ کر آئے تھے۔ یہ ہماری زمین ہے۔ سندھ میں کوئی بھی اپنی کسی زمین کے بارے میں وہ ثبوت لا کر نہیں دے سکتا۔‘

ایم کو ایم کی جانب سے الگ صوبے کے قیام پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ یہاں تک کہ صوبہ سندھ کو ’دھرتی ماں‘ کہہ کر پکارا گیا جس کی ’تقسیم کے نتیجے میں کئی لاشیں بھی گر سکتی ہیں‘۔ تاہم اس حوالے سے خالد مقبول نے کہا: ’ایک آئینی مطالبے پر لاشیں کیوں گریں گی؟ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست کس لیے ہے؟ اگر ایسا نہیں تو آپ نکالیں پاکستان کہ آئین سے اور ڈکلیئر کردیں کہ یہ سندھو دیش ہے صوبہ سندھ نہیں۔ صوبے کی تقسیم کو غداری کہنے سے بڑی غداری کوئی نہیں ہے۔‘

صوبے کے مطالبے  کو غداری کا تاثر غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: ’صوبہ ایک ایڈمنسٹریٹو یونٹ ہے۔ کراچی والوں نے تو شور نہیں کیا جب انہوں نے کورنگی اور کیماڑی ڈسٹرکٹ بنا لیا، اس پر خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔ جنہوں نے خون کی نالیاں بھی پار نہیں کیں ان کو یہ بات کرنے سے احتیاط کرنی چاہیے، ہم خون کے دریاؤں کو پار کر کے آئے ہیں۔‘

ہم نے جب ان سے پوچھا کہ اگر اس سیاسی جنگ کی صورت میں کراچی کا امن ایک بار پھر سے برباد ہوگیا تو پھر کیا ہوگا۔ اس پر ان کا کہنا تھا: ’کراچی میں تشدد بائے ڈیفالٹ نہیں بائے  ڈیزائن تھی۔ اس خطرے سے کیا پھر گھروں میں بیٹھ جائیں؟ غلام بن جائیں؟ ہتھیار ڈال دیں؟ مطالبے نہ کریں کیوں کہ تشدد ہوگی؟ آزادی دلا کے جو لوگ آئے ہیں کیا وہ غلام بن جائیں؟ اور کون کرے گا تشدد؟ کس کی ہمت ہے؟ ایک بار کراچی کھڑا ہوگیا تو پتہ لگ جائے کا سب کو۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا