گرگرے: خیبر کا مقامی پھل جس کا ذکر پشتو گیتوں میں بھی ملتا ہے

خیبر کی سخت چٹانوں پر اگنے والے میٹھے گرگرے نہ صرف مقامی افراد کو اپنی طرف کھینچتے ہیں بلکہ کچھ کے لیے ذریعہ معاش بھی ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں آج کل گرگرے کا موسم ہے۔ یہ ایک ایسا پھل ہے، جو پہاڑی درختوں پر اگتا ہے اور دیکھنے میں فالسے جیسا ہوتا ہے۔

خیبر کے بیشتر علاقوں کی آب ہوا گرم ہے، زیادہ تر علاقہ پہاڑوں اور سخت چٹانوں پر مشتمل ہے جس کا بیشتر حصہ خشک ہے لیکن ان سنگلاخ پہاڑوں میں قدرتی طور پر اگنے والے گرگرے کے درخت کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

اس درخت پر اگنے والے کالے رنگ کے چھوٹے چھوٹے گرگرے ذائقے میں میٹھے ہوتے ہیں۔ گرگرے جون کے پہلے ہفتے میں درختوں پر پکنا شروع ہو جاتے ہیں اور جولائی تک ان کا سیزن ہوتا ہے۔

ان کا موسم شروع ہوتے ہی بچے اور بڑے پہاڑوں پر جاکر نہ صرف سیر و سیاحت کرتے ہیں بلکہ گرگرے توڑ کر اس سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔

اپنے دوستوں کے ساتھ تحصیل لنڈی کوتل میں واقع زیڑے پہاڑ پر گرگروں کے لیے آئے ہوئے شیر مت نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ خود بھی یہاں سے پھل توڑ کر کھاتے ہیں اور گھر بھی لے جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب تحصیل جمرود کے رہائشی حکمت آفریدی نے کہا کہ ضلع خیبر میں زیڑے، لکہ، روہتاز، شین غر اور تاتارا کے پہاڑوں میں گرگرے کے درخت ہیں۔

ان کے مطابق یہ ایک جنگلی درخت ہے اور پہاڑوں میں پرندوں کے لیے قدرتی طور پر خوراک کا بھی ایک ذریعہ ہے جبکہ لوگ اس پھل کو تحفے کے طور پر اپنے دوستوں کو بھی بھیجتے ہیں۔

حکمت کا کہنا تھا کہ متوسط گھرانوں کے لوگ اس پھل کو توڑ کر اپنے گھروں کو بھی لے جاتے ہیں اور انہیں بازاروں یا سڑکوں پر فروخت بھی کرتے ہیں۔

احسان ہر سال خیبر کے پہاڑوں میں گرگرے توڑنے کے لیے دوستوں کے ساتھ جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گرگرے کو خیبر کا مقامی پھل کہنا غلط نہ ہوگا کیونکہ ضلع خیبر کے بیشتر پہاڑوں میں یہ جنگلی درخت کثرت سے نظر آتے ہیں۔

احسان کے بقول پشتو ادب میں بھی گرگرے کے درخت اور پھل کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے اور کئی نامور شعرا نے اپنی تصانیف میں اس کا ذکر کیا ہے جبکہ پشتو کے گلوکاروں نے بھی گرگرے کے حوالے سے کئی گیت گائے ہیں، جو کافی مشہور ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا