ٹوکیو اولمپکس: قومی شوٹر خلیل اختر میڈل جیتنے کے لیے پرعزم

اگر کسی کھیل میں میڈل کی توقع کی جاسکتی ہے تو وہ شوٹنگ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستانی شوٹرز نے اولمپک کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا ہے۔

شوٹر خلیل اختر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ٹوکیو اولمپکس میں براہ راست کوالیفائی کرنے والے پاکستان کے پہلے کھلاڑی ہیں (فوٹو: خلیل اختر)

کرونا وائرس کی وجہ سے ایک سال تاخیر کے بعد بالآخر ٹوکیو میں کھیلوں کے سب سے بڑے عالمی مقابلے اولمپکس کا آغاز 23 جولائی سے ہوگیا ہے اور یہ مقابلے 8 اگست تک جاری رہیں گے۔

پاکستان کی جانب سے ٹوکیو اولمپکس کے لیے 22 رکنی دستے کا اعلان کیا گیا تھا جس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں سے زیادہ آفیشلز شامل ہیں۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے مطابق ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن، جوڈو، شوٹنگ، سوئمنگ اور ویٹ لفٹنگ میں مجموعی طور پر 10 کھلاڑی ایکشن میں تھے جن میں اکثر مقابلوں میں شکست کے بعد اولمپکس سے باہر ہوگئے ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس میں اگر کسی کھیل میں میڈل کی توقع کی جاسکتی ہے تو وہ شوٹنگ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستانی شوٹرز نے اولمپک کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا ہے۔ شوٹرز اور جیولن تھرو میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ارشد ندیم کے علاوہ تمام کھلاڑی وائلڈ کارڈ پر ٹوکیو جارہے ہیں۔

اولمپکس میں پاکستان کی جانب سے تین شوٹرز گلفام جوزف 10 میٹر ایئر پسٹل، محمد خلیل اختر اور غلام مصطفیٰ بشیر 25 میٹر ریپڈ فائر پسٹل ایونٹ میں حصہ لیں گے۔

اولمپکس میں شوٹنگ کے مقابلے 24 جولائی سے شروع ہوجائیں گے۔ 10 میٹر ایئر پسٹل کے مقابلے 24 جولائی کو ہوگئے ہیں جبکہ 25 میٹر ریپڈ فائر پسٹل ایونٹ یکم اور دو اگست کو ہوگا۔ 

شوٹنگ ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے تیاری کرنے والے شوٹر خلیل اختر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ٹوکیو اولمپکس میں براہ راست کوالیفائی کرنے والے پاکستان کے پہلے کھلاڑی ہیں۔

خلیل اختر سے انڈپینڈنٹ اردو نے گفتگو کی اور ان سے جاری تیاریوں اور توقعات سے متعلق جاننے کی کوشش کی۔

ابتدائی زندگی

15 اپریل 1984 کو راجن پور میں آنکھیں کھولنے والے خلیل اختر نے بھی اپنی زندگی کے ابتدائی ایام دیگر بچوں کی طرح ہی گزارے البتہ 2002 میں پاکستان آرمی میں شمولیت کے بعد ان کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آئی۔

خلیل اختر نے بتایا: ’میں نے 2002 میں پاکستان آرمی میں بطور رنگروٹ شمولیت اختیار کی اور آرمی سپلائی کور کا حصہ بن گیا، وہاں ہمیں جی تھری رائفلز کی شوٹنگ ٹریننگ دی جاتی تھی، وہیں سے بندوق چلانے کا تجربہ ہوا اور شوق بھی بڑھتا گیا، کئی برسوں تک انٹر سروسز شوٹنگ مقابلوں میں حصہ لیتا رہا اور کارکردگی سے متاثر ہوکر آرمی کی شوٹنگ ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔‘

قومی شوٹر کے مطابق انہوں نے 25 میٹر ریپڈ فائر کو اپنایا اور اسی کیٹیگری میں مقابلوں میں حصہ لیتے رہے، 2004 میں نیشنل چیمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

وہ کہتے ہیں: ’میں اب تک مختلف قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں 101 تمغے جیت چکا ہوں جن میں پانچ انٹرنیشنل میڈلز ہیں۔‘

بین الاقوامی مقابلوں میں کارکردگی

خلیل اختر نے بتایا  کہ انہوں نے 2016 میں بھارت میں ہونے والے سیف گیمز میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا اس کے بعد 2017 میں آذربائیجان میں ہونے والے اسلامک سالیڈیٹری گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔

اس کے بعد خلیل اختر نے دسمبر 2019 میں نیپال میں ہونے والے سیف گیمز میں مجموعی طور پر تین تمغے جیتے جن میں ریپڈ فائر ٹیم ایونٹ میں گولڈ، سنگل ایونٹ میں سلور اور سینٹر فائر سنگل ایونٹ میں برانز میڈل شامل ہیں۔

خلیل اختر پہلی بار اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں۔

اولمپک کوٹہ کیسے جیتا؟

خلیل اختر نے بتایا کہ ’2019 میں انٹرنیشنل شوٹنگ سپورٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام برازیل میں ہونے والے ورلڈ کپ میں انہوں نے پانچویں پوزیشن حاصل کی، ٹاپ چھ میں سے صرف دو کھلاڑیوں کو اولمپک کوٹہ ملنا تھا تاہم ٹاپ چھ میں موجود دو چینی، ایک جرمن اور ایک فرانسیسی شوٹر پہلے ہی کوالیفائی کرچکے تھے لہٰذا انہیں اور ایک کورین کھلاڑی کو اولمپک کوٹہ مل گیا۔

قومی شوٹر کہتے ہیں کہ ’یہ واحد اولمپکس ہے جس میں پاکستان کوٹہ جیت کر شوٹنگ ایونٹ میں شرکت کرنے جارہا ہے اس سے قبل پانچ اولمپک مقابلوں میں شوٹنگ ٹیم وائلڈ کارڈ پر گئی۔‘

ٹوکیو اولمپک سے قبل آخری ایونٹ کا نتیجہ کیا رہا؟

خلیل اختر نے بتایا کہ ان کا آخری بڑا مقابلہ کروشیا میں ہونے والا ورلڈ کپ تھا جس میں وہ 13 ویں نمبر پر رہے۔ کروشیا میں کرونا کی وجہ سے فلائٹ منسوخ ہوئی اور ٹیم کو کچھ پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑا تاہم فیڈریشن کی مداخلت سے وہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیا۔

اولمپکس میں کیا امید رکھی جائے؟

عالمی رینکنگ میں 24 ویں نمبر پر موجود خلیل اختر سے جب پوچھا گیا کہ ٹوکیو اولمپکس میں ان سے کیا امید رکھی جائے تو انہوں نے کہاـ ’میری ٹریننگ اچھی چل رہی ہے اور میں 590 سے 592 تک اسکور کررہا ہوں، کروشیا میں ٹاپ چھ میں آنے والے شوٹرز نے کم سے کم اسکور 583 اور زیادہ سے زیادہ 592 پوائنٹس کیا، اس حساب سے ٹریننگ والی کارکردگی اولمپکس میں بھی رہی تو میڈل کی دوڑ میں شامل ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ ٹوکیو اولمپکس میں ریپڈ فائر کیٹیگری کے مقابلے یکم اور دو اگست کو ہوں گے، میڈل کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے شوٹرز کو ٹاپ چھ میں آنا ہوگا اور پھر چھ کھلاڑیوں میں تمغے کی جدوجہد شروع ہوگی۔

خلیل اختر کہتے ہیں: ’آرمی تو باقاعدگی سے ٹریننگ کرواتی رہتی ہے البتہ شوٹنگ فیڈریشن وسائل کی کمی کی وجہ سے محدود بین الاقوامی ایونٹس میں ہی کھلاڑیوں کو بھیجتی ہے۔‘

خلیل اختر کے مطابق: ’شوٹنگ ایسا کھیل ہے جس میں میڈل لانا زیادہ آسان ہے، اس میں کھلاڑیوں کی ٹریننگ وغیرہ پر بھی زیادہ خرچہ نہیں آتا، 2018 تک بیلاروس کے کوچ ہماری ٹریننگ کروا رہے تھے جس کی وجہ سے آج ہم یہاں تک پہنچے، اس کے بعد کرونا کی وجہ سے غیر ملکی کوچ پاکستان نہ آسکے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’2018 سے سکالر شپ پر تمام شوٹرز نے آٹھ سے 10 بین الاقومی ایونٹس میں شرکت کی، دراصل پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، انٹرنیشنل شوٹنگ سپورٹس فیڈریشن کو درخواست کرتی ہے جس کے بعد وہ سکالر شپ دیتے ہیں اور پھر کھلاڑی انٹرنیشنل ایونٹس میں جاتے ہیں، جتنے زیادہ بین الاقوامی مقابلے ہوں گے اتنے زیادہ میڈل جیتنے کے چانسز ہوں گے اور اتنا ہی زیادہ ٹیلنٹ سامنے آئے گا۔‘

خلیل اختر نے کہا کہ بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرکے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور غیر ملکی کھلاڑیوں کا خوف دل سے نکل جاتا ہے جس سے کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔

خلیل اختر پر امید ہیں کہ اس بار شوٹنگ سے ایک تمغہ ضرور جیتنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اولمپکس اور پاکستان

کبھی پوری دنیا میں اپنا لوہا منوانے والی پاکستان ہاکی ٹیم ٹوکیو 2020 کا ٹکٹ حاصل نہیں کر سکی ہے۔ پاکستان نے پہلی بار 1948 میں لندن میں ہونے والے اولمپک مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔ تب سے پاکستان مجموعی طور پر 10 تمغے جیت چکا ہے جن میں تین طلائی، تین چاندی اور چار کانسی کے تمغے شامل ہیں۔

پاکستان نے سب سے زیادہ تمغے ہاکی میں جیتے جن میں سونے اور چاندی کے تین، تین اور کانسی کے دو تمغے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کانسی کا ایک تمغہ 1960 میں پہلوان محمد بشیر نے جیتا تھا جبکہ دوسرا تمغہ 1988 میں باکسر حسین شاہ نے حاصل کیا۔ پاکستان نے انفرادی طور اب تک اولمپکس میں یہی دو تمغے حاصل کیے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل