کرونا: پنجاب میں گھر گھر جاکر ویکسینیشن کرنے کا اعلان 

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ صوبے کے پاس منصوبہ بندی, نچلی سطح تک منصوبہ سازوں کی تربیت، ویکسینیٹرز، سوشل موبیلائزرز سے لے کر ویکسین کی ترسیل کا مربوط نظام موجود ہے۔

صوبہ پنجا ب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ یہ مہم 26 جولائی سے 10 اگست تک جاری رہے گی (تصویر: ڈاکٹر یاسمین راشد ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پنجاب حکومت نے پیر سے صوبے کے پانچ بڑے شہروں میں گھر گھر جا کر کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کی مہم کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ ان شہروں میں فیصل آباد، لاہور، گجرانوالہ، ملتان اور راولپنڈی شامل ہیں۔

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’گھر گھر جا کر کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم این سی او سی کی جانب سے متعین کیے گئے ہدف کو جلد از جلد حاصل کر سکیں۔‘

این سی او سی نے 14اگست تک لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان کی 18سال سے زائد عمر کی 40 فیصد آبادی جبکہ راولپنڈی کی 18سال سے زائد عمر کی 70 فیصد آبادی کی ویکسینیشن کا ہدف دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ مہم 26 جولائی سے 10 اگست تک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وبا سے اسی صورت میں بچا جا سکتا ہے کہ اگر ہم ایس او پیز پر عمل کریں اور خود کو ویکسینیٹ کرائیں۔

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کرونا ویکسینشین مہم کے حوالے سے مزیدبتایا: ’ویسے تو ہم پولیو کے خلاف کئی سالوں سے مہمات چلا رہے ہیں۔ گذشتہ سات سال سے ہر سال ہم تقریبا پانچ مہمات چلارہے ہیں۔ پولیو کی مہم کے دوران ایک مہینے میں تقریباً دو کروڑ بچوں  کو ویکسین پلائی جاتی ہے۔

’دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو ہمیں گھر گھر جا کر ویکسینیٹ کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ جو کہ دیگر ممالک کو نہیں ہے۔ گھر گھر جا کر ویکسین لگانے کے لیے ایک نظام چاہیے اور وہ ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔‘

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ صوبے کے پاس منصوبہ بندی, نچلی سطح تک منصوبہ سازوں کی تربیت، ویکسینیٹرز، سوشل موبیلائزرز سے لے کر ویکسین کی ترسیل کا مربوط نظام موجود ہے۔ ایک ایک گھراور وہاں رہنے والے افراد کے کوائف بھی موجود ہیں۔ اس لیے کرونا(کورونا) کے خلاف گھر گھر جا کر ویکسین لگانا کوئی نیا کام نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پولیو کے ساتھ ساتھ ہم نے حالیہ ٹائیفائڈ کے خلاف ویکسینیشن کی مہم چلائی۔ پولیو مہم ای پی آئی پروگرام کے تحت چلتی ہے۔ ان کے نظام میں 11 اقسام کی ویکسینز آتی ہیں اور ویکسین کی کولڈ چین اور مانیٹرنگ کا پورا ایک نظام موجود ہے جس کے لئے تربیت یافتہ افرادی قوت بھی موجود ہے۔‘

ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق کرونا ویکسین کے لئے کیمپ اور کٹ سٹیشن قائم کیے جائیں گے  ویکسین کیرئیرز  استعمال کیے جائیں گے، جو درجہ حرارت کو قائم رکھتے ہیں۔ ویسے بھی ہر ویکسین کی وائل کے اوپر ویکسن وائل مانیٹر دیا ہوتا ہے  جو ویکسین خراب ہونے کی صورت میں رنگ تبدیل کرلیتا ہے ۔ اسے دیکھ کر بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ ویکسین صحیح ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ’جس طرح پولیومہم کے دروان ڈور ٹو ڈور مارکنگ ہوتی ہے ویسے ہی کرونا (کورونا) سے بچاؤ کی ویکسین مہم کے دوران بھی ہم ہر گھر میں جائیں گے اور جن گھروں میں اگر کسی کی ویکسینیشن نہیں ہوئی ہو گی تو ہم انہیں ویکسین لگا دیں گے۔‘

وزیر صحت نے بتایا کہ صوبے میں پولیو مہم کے دوران ہمارے پاس تقریباً 45 ہزار ٹیمیں ہوتی ہیں جبکہ ا سکے علاوہ پنجاب بھر میں 48 ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کا نیٹ ورک موجود ہے جنہوں نے گلی گلی میں جا کر گھر گھر کا ڈیٹا جمع کیا ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گھر گھر جاکر کرونا(کورونا) ویکسین لگانے کا یہ فیصلہ ہفتے کو سول سیکرٹیریٹ میں ہونے والی ایک میٹنگ میں کیا گیا۔ جس کی صدارت وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اور چیف سیکرٹری پنجاب نے مشترکہ طور پر کی۔

اس اجلاس میں ڈپٹی کمشنر لاہور، فیصل آباد، گجرانوالہ، ملتان، راولپنڈی کے علاوہ ریوینیو بورڈ کےسینئیر ممبران، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، محکمہ صحت کے سیکرٹریز، بھی شامل تھے۔

چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے پانچوں شہروں کی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں وہ اس مہم کے دوران گھر گھر جا کر ویکسین لگانے والی محکمہ صحت کی ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں۔

دوسری جانب سیکریٹری برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ سارہ اسلم کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت نے اس سپیشل مہم کے لیے مائکرو پلان تشکیل دیا ہے جس کے تحت ہر یونین کونسل میں دو موبائل ٹیمیں اس مہم کو مانیٹر کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مہم کے لیے فیصل آباد میں 566، گجرانوالہ میں 244، ملتان میں 250، راولپنڈی میں 356 جبکہ لاہورمیں 528 ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں جو اس مہم کے دوران گھر گھر جاکر کرونا(کورونا) ویکسین لگائیں گی۔
محکمہ صحت پنجاب نے گھر گھر جا کر کرونا (کورونا) ویکسین لگانے کی مہم کے لیے  لاہور کے 18 ٹیچنگ ہسپتالوں سے 300 ڈاکٹرز کی خدمات بھی مانگ لی ہیں۔

یہ ڈاکٹرز ویکسینیشن ٹیم کے ساتھ گھر گھرجا کر لوگوں کو ویکسین لگائیں گے۔ جناح ہسپتال 35، گنگارام25، چلڈرن ہسپتال 18، کوٹ خواجہ سعید 14، شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال 12، میو ہسپتال 60، جنرل ہسپتال 30، پی آئی سی20 اور سروسز ہسپتال سے 35 ڈاکٹرز کی خدمات طلب کی گئی ہیں۔ 

ان ڈاکٹرز کی خدمات چیف ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ اتھارٹی لاہور کے حوالے کی جائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت