لاہور: جناح ہسپتال میں 53 کروڑ کا بجٹ ضائع کیسے ہو گیا؟

محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جناح ہسپتال انتظامیہ کو جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق گزشتہ مالی سال 2020-21 میں حکومت پنجاب نے جناح ہسپتالوں کو مختلف مد میں جو فنڈز فراہم کیے تھے ان میں سے 53کروڑ سے زائد کے فنڈزاستعمال ہی نہ ہو سکے۔

ترجمان محکمہ صحت پنجاب محمد حماد کے مطابق اگر کسی ہسپتال میں مالی کرپشن ہو یا بجٹ استعمال نہ  ہوتو محکمانہ طور پرمعاملہ کی انکوائری کی جاتی ہے(تصویر: جناح ہسپتال/فیس بک)

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بڑے ہسپتالوں میں شمار ہونے والے جناح ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے گذشتہ مالی سال 21-2020 میں ملنے والا 53 کروڑ روپے سے زائد بجٹ استعمال ہی نہیں کیا جا سکا۔

 ہسپتال میں علاج معالجے کی غرض سے آنے والے مریضوں کے لیے بجٹ میں سے مختص 28 کروڑ روپے سے زائد ادویات کے لیے خرچ ہونا تھے۔

محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے اس معاملے پر تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے اور پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج و چیف ایگزیکٹو جناح ہسپتال سے اس بارے میں رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔

دوسری جانب چیف ایگزیکٹو جناح ہسپتال ڈاکٹر یحیی سلطان کے مطابق فنڈز کرونا وبا کے دوران کئی ماہ ہسپتال بند ہونے کے باعث خرچ نہیں ہوئے۔

فنڈز خرچ کہاں ہونا تھے؟

محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جناح ہسپتال انتظامیہ کو جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق گذشتہ مالی سال 21-2020 میں حکومت پنجاب نے جناح ہسپتالوں کو مختلف مد میں جو فنڈز فراہم کیے تھے ان میں سے 53 کروڑ سے زائد کے فنڈز استعمال ہی نہ ہو سکے۔

ان فنڈز میں 28 کروڑ روپے سے زائد رقم ادویات خریدنے کے لیے بھی فراہم کی گئی تھی۔ گیس کے بلوں کی ادائیگی کےلیے 48 لاکھ چھ ہزار400، بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لیے پانچ کروڑ 22 لاکھ 72 ہزار 562 روپے اور پٹرول چارج کی مد میں 21 لاکھ 40 ہزار سے زائد کا بجٹ ضائع ہو گیا۔

مختلف سروسز حاصل کرنے کی مد میں 52 لاکھ 24 ہزار، سٹور کی دیگر اشیا کی خریداری کے لیے دو کروڑ91 لاکھ 59 ہزار سمیت دیگر اشیا کے لیے کروڑوں روپے استعمال ہی نہ کر سکا۔ جو ٹوٹل 53 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا بنتا ہے۔

بجٹ ضائع کیوں ہوا؟

جب چیف ایگزیکٹو جناح ہسپتال لاہور ڈاکٹر یحیی سلطان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: ’رواں سال 54 کروڑ روپے کے قریب فنڈز استعمال نہیں ہوئے۔ یہ بات درست ہے لیکن اس میں ہماری کوئی کوتاہی نہیں بلکہ رواں سال کرونا وبا کے دوران تین ماہ تک ہمارے ہسپتال کی او پی ڈی اور آپریشن تھیٹر بند رہے لہذا اس دوران ہم نے ضروری اخراجات کے علاوہ پیسہ خرچ ہی نہیں کیا۔‘

ان کے مطابق: ’جو بجٹ ضائع ہوا ہے وہ خزانے میں واپس چلا گیا اس میں ہم نے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ ہی اس میں کوئی کرپشن ہوئی۔ لہذا اس معاملے میں انتظامیہ کا دامن صاف ہے یہی جواب ہم نے محکمہ صحت کو دیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر یحیی کے بقول فنڈز ضائع ہونے کی بجائے استعمال تو اس وقت ہوتے جب مریضوں کے مسلسل آپریشنز یا علاج ہوتا، پھر ہی ادویات یا میڈیکل کا سامان خریدتے۔ ’جب ضرورت ہی نہیں پڑی تو خرید کر کیا ضائع کر دیتے؟‘

ان سے پوچھا گیا کہ دوسرے ہسپتالوں میں تو کرونا وبا کے دوران مریضوں کے زیادہ ہونے پر فنڈز سے بھی زیادہ اخراجات ہوئے تو جناح ہسپتال میں کیسے خرچ نہیں ہوئے؟

انہوں نے کہا: ’ہمارے پاس وینٹی لیٹرز پر مشتمل 50 بیڈز کا آئی سی یو ہے جس میں پورا سال وینٹی لیٹرز استعمال ہوئے ان میں سے بیشتر بیڈ وارنٹی میں تھے جو خراب ہوتے کمپنی انہیں ٹھیک کرنے کی پابند تھی لہذا وہ اخراجات بھی نہ ہوئے۔ دوسرا یہ کہ وبا کے دوران ہسپتالوں کے ساتھ حکومت خود بھی اپنے طور پر عارضی مراکز میں کرونا مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کرتی رہی۔ اس دوران جناح ہسپتال میں کرونا کے علاوہ مریضوں کو داخل ہی نہیں کیا گیا اور نہ ان کا علاج ہوا۔‘

ترجمان محکمہ صحت پنجاب محمد حماد کے مطابق: ’اگر کسی ہسپتال میں مالی کرپشن ہو یا بجٹ استعمال نہ ہو تو محکمانہ طور پر معاملے کی انکوائری کی جاتی ہے اور اگر کوئی ذمہ دار پایا جائے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ مگر کسی بڑے ہسپتال میں مختص فنڈز ضائع ہونے کا معاملہ تصور نہیں کیا جاتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت