چینی چھوڑنے کا کچھ لوگوں پر منفی اثر کیوں پڑتا ہے؟

بعض لوگ جب چینی کے استعمال میں کمی لاتے ہیں تو انہیں سر درد، تھکاوٹ یا موڈ میں تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ایسا کیوں ہے؟

چینی منہ میں موجود مٹھاس محسوس کرنے کی صلاحیت رکھنے والے خلیوں کو متحرک کرتی ہے(پکسابے)

اس بات پر آپ کو حیرت ہو سکتی ہے کہ 2008 سے چینی کے استعمال میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ ایسا ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں ذائقوں اور طرز زندگی میں تبدیلی اور کیٹوجینی یعنی کم نشاستے والی غذاؤں کا گذشتہ دہائی میں مقبول ہونا شامل ہے۔

چینی کے استعمال میں کمی کی ایک وجہ اس کے حد سے زیادہ استعمال کے نتیجے میں صحت کو لاحق خطرات کے حوالے سے زیادہ آگاہی بھی ہو سکتی ہے۔

چینی کے استعمال میں کمی کے صحت کے لیے فوائد واضح ہیں جس میں کم کیلوریز لینا شامل ہے جس کی بدولت وزن میں کمی لانے اور دانتوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب لوگ چینی کے استعمال میں کمی لانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اس کے منفی ضمنی اثرات کے تجربے کے بارے میں بتاتے ہیں۔

ان اثرات میں سر درد، تھکاوٹ یا موڈ میں تبدیلی شامل ہیں جو عام طور پر عارضی ہوتے ہیں۔ ان ضمنی اثرات کی وجہ کو اب تک ٹھیک سے نہیں سمجھا جا سکا۔

لیکن ایسا ممکن ہے کہ ان علامات کا تعلق نشاستہ دار خوراک کے مقابلے میں دماغ کے ردعمل کے انداز اور ’محرک‘ کی بیالوجی سے ہو۔

کاربوہائیڈریٹس یا نشاستہ دار غذائیں کئی صورتوں میں آتی ہیں جن میں چینی شامل ہے جو کھانے پینے کی کئی اشیا میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے جیسا کہ پھلوں اور دودھ میں پائی جانے والی مٹھاس۔

عام استعمال کی چینی جسے سوکروز کے نام سے جانا جاتا ہے گنے، چقندر، میپل کے درخت سے نکلنے والے شیرے یہاں تک کہ شہد میں پائی جاتی ہے۔

کھانے پینے کی اشیا کی بڑے پیمانے پر تیاری معمول بن چکی ہے۔ ان اشیا کو مزید مزیدار بنانے کے لیے ان میں سکروز یا دوسری شکل میں دسیتاب چینی کا اضافہ کیا جاتا ہے۔

ذائقے اور’چٹخارے‘ سے آگے کی بات کریں تو اور زیادہ چینی والی خوراک کے دماغ پر بیالوجیکل اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ اثرات اتنے اہم ہیں کہ ان پر بحث کی گئی ہے کہ آیا آپ چینی کی’لت‘میں مبتلا ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی تحقیق جاری ہے۔

چینی منہ میں موجود مٹھاس محسوس کرنے کی صلاحیت رکھنے والے خلیوں کو متحرک کرتی ہے جس کا بالاآخر نتیجہ دماغ میں ڈوپامین نامی کیمیاوی مادے کے اخراج کی صورت میں نکلتا ہے۔

ڈوپامین ایک نیوروٹرانسمٹر ہے یعنی یہ دماغ میں اعصاب کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا کام کرتا ہے۔ جب ہمارا سامنا تحریک دینے والی کسی شے سے ہوتا ہے تو دماغ ڈوپامین خارج کر کے ردعمل ظاہر کرتا ہے جسے اکثر’تحریک دینے والا‘ کیمیکل کہا جاتا ہے۔

زیادہ تر اس کے اثرات دماغ کے اس حصے پر دیکھے گئے ہیں جس کا تعلق لطف اٹھانے اور تحریک دینے سے ہے۔

تحریک کا سبب بننے والی کھانے کی اشیا ہمارے رویے کو کنٹرول کرتی ہیں یعنی ہمارا رجحان ان رویوں کو دہرانے کی طرف ہو جاتا ہے جو ڈوپامین کے اخراج کا سبب بنے۔

یہی وجہ ہے کہ ڈوپامین ہمیں کھانے پر اکساتا ہے (مثال کے طور پر ذائقے میں اچھی لیکن نقصان دہ خوراک) ۔

جانوروں اور انسانوں دونوں پر کیے گئے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی تحریک کے اس عمل پر کس قدر اثرانداز ہوتی ہے۔

انسانی جسم میں تحریک کا سبب بننے کے معاملے میں تیز مٹھاس کوکین سے بھی بڑھ کر ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چینی دماغ میں تحریک کے سبب کی صلاحیت رکھتی چاہے اسے کھایا جائے یا ٹیکے کی شکل میں جسم میں داخل کیا جائے۔

ایسا چوہوں پر کی گئی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چینی کے اثرات کا تعلق اس کے میٹھا ہونے کے ساتھ نہیں۔

چوہوں کے معاملے میں ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ چینی کا استعمال دراصل دماغ کی ان ساختوں کو تبدیل کر سکتا ہے جنہیں ڈوپامین متحرک کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چینی جانوروں اور انسانوں دونوں میں جذباتی عمل اور رویے میں تبدیلی لاتی ہے۔

چینی کا استعمال بند کرنا

یہ واضح ہے کہ چینی ہمارے اوپر گہرا اثر ڈال سکتی ہے اس لیے جب ہم اس کا استعمال کم کر دیتے ہیں یا اسے اپنی خوراک سے مکمل طور پر نکال دیتے ہیں تو اس کے منفی اثرات نظر آنا حیرت کی بات نہیں۔

’چینی کا استعمال ترک‘ کرنے کے بعد ابتدائی مرحلے میں دماغی اور جسمانی دنوں طرح کی علامات رپورٹ کی گئی ہیں جن میں ڈپریشن، بے چینی، دماغ میں دھند کا چھانا، شدید نوعیت کی طلب، سر درد، تھکاوٹ اور چکر آنا شامل ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ چینی کا استعمال ترک کرنا دماغی اور جسمانی دونوں طرح سے ناخوشگوار ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں ممکن ہے کہ بعض لوگ خوراک میں تبدیلی پر قائم نہ رہ سکیں۔

ان علامات کی وجوہات پر ابھی تک تفصیلی تحقیق نہیں کی گئی لیکن ایسا ممکن ہے کہ ان علامات کا تعلق دماغ میں ان نظاموں کے ساتھ ہو جو محرک سے رابطے میں آتے ہیں۔

اگرچہ ’چینی کی لت‘ میں مبتلا ہونے کا نظریہ متنازع ہے لیکن چوہوں میں پائے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ عادت کا سبب بننے والے کسی بھی دوسرے مواد کی طرح چینی میں بھی یہ صلاحیت موجود ہے کہ اسے چھوڑنے پر اس کے استعمال کی شدید خواہش اور بے چینی پیدا ہو جائے۔

جانوروں پر کی گئی ایک اور تحقیق پتہ چلتا ہے کہ ’چینی کی لت، اسے چھوڑنا اور دوبارہ استعمال کرنے لگنا ایسا ہی ہے جیسے منیشات کے معاملے میں ہوتا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں زیادہ تر جانوروں پر تحقیق کی گئی ہے اور اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا انسانوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

ارتقا کے عمل سے انسانی دماغ میں تحریک کا سبب بننے والی کسی شے کے لیے رابطے کے نظام تبدیل نہیں ہوئے اور ایسا ممکن ہے بہت سے دوسرے جانداروں کے دماغ میں بھی اس محرک کے لیے رابطے کے وہی نظام ہوں۔

دماغ کے کیمیاوی توازن میں تبدیلی تقریباً لازمی طور پر ان علامات کا سبب ہوتی ہے جو ان لوگوں میں رپورٹ کی جاتی ہیں جو چینی کا بطور خوراک استعمال بند یا کم کر دیتے ہیں۔

محرک کے ساتھ تعلق ہونے سمیت ڈوپامiن ہارمونز، متلی، الٹی اور بے چینی کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ جب چینی خوراک سے نکل جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ڈوپامین کی مقدار میں تیزی سے ہونے والی کمی کے دماغ میں اثرات سے ممکن ہے کہ دماغ کے مواصلاتی رابطے کے مختلف نظاموں کے معمول کے مطابق کام کرنے کی صلاحیت پر مرتب ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے یہ وضاحت ہوتی ہے کہ لوگ ان علامات کے بارے میں کیوں بتاتے ہیں۔

اگرچہ چینی کا استعمال ترک کرنے کے انسانوں پر اثرات پر کی گئی تحقیق محدود ہے لیکن ایک تحقیق نے موٹے اور بھاری بھر کم بالغ افراد کی خوراک سے چینی نکالے جانے پر مرتب ہونے والے اثرات اور چینی کے استعمال کی شدید خواہش کے بارے میں شواہد فراہم کیے ہیں۔

جیسا کہ خوراک میں تبدیلی پر قائم رہنا ہی مسئلے کا حل ہے اس لیے اگر آپ طویل عرصے کے لیے چینی کو خوارک سے کم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے شروع کے چند مشکل ہفتوں میں ثابت قدم رہنے کی صلاحیت ہونا ضروری ہے۔

تاہم یہ اعتراف کرنا بھی اہمیت کا حامل ہے کہ بذات خود چینی کا استعمال’برا‘ نہیں لیکن اسے صحت مند خوراک کے حصے کے طور پر اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے اور ساتھ ورزش بھی کرنی چاہیے۔


جیمز براؤن، ایسٹن یونیورسٹی میں بیالوجی اور بائیومیڈیکل سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ اس سے پہلے یہ مضمون ’دا کنورسیشن‘ میں شائع ہوا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق