جنوبی پنجاب: ’صوبے کی بجائے سیکریٹریٹ کا قیام لالی پاپ‘

وزیراعلیٰ پنجاب نے جنوبی پنجاب میں سیکریٹریٹ کو فعال کیے جانے کا اعلان تو کردیا لیکن ابھی تک یہ طے نہیں ہوسکا کہ سیکریٹریٹ کا مرکز ملتان ہوگا یا بہاولپور کیونکہ دونوں علاقوں کے حکومتی اراکین اس معاملے پر اپنا موقف برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ملتان میں جنوبی پنجاب سیکرٹیریٹ کے دفتر کے باہر لگی ایک تختی (تصویر بشکریہ: محمد نوید)

صوبہ پنجاب میں جنوبی خطے سے تعلق رکھنے والے لوگ عرصہ دراز سے دو الگ صوبوں کا مطالبہ کرتےآرہے ہیں۔ ایک تحریک صوبہ بہاولپور جبکہ دوسری سرائیکستان صوبے کے قیام سے خطے میں بسنے والی اکثریتی سرائیکی آبادی کو پہچان دینے کی بات کرتی ہے۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس سلسلے میں سرگرم متحدہ جنوبی پنجاب محاذ سے اپنی حکومت کے پہلے سو دن میں صوبہ بنانے کا تحریری معاہدہ کیاتھا اور اسی بنیاد پر انہیں سیاسی طور پر اپنے ساتھ ملایا۔

اس کے بعد حکومت نے جنوبی پنجاب یا بہاولپور صوبہ بنانے کی بجائے وہاں سول سیکریٹریٹ کے قیام کا اعلان کیا اور وہاں ایڈیشنل سیکرٹری، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر محکموں کے سیکرٹری تعینات کردیے۔

تاہم رولز آف پروسیجر نہ ہونے پر بیوروکریسی آپس کے اختلافات کا شکار ہوئی تو حکومت نے انہیں واپس لاہور  بلوا لیا، جس سے سیکریٹریٹ مکمل غیر فعال ہوگیا۔

اب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پیر (30 اگست) کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ رولز آف پروسیجرز بنا کر جنوبی پنجاب میں عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے سیکریٹریٹ میں سیکرٹریز کی تعیناتیاں کر کے اسے فعال کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے اس اقدام کو ’وعدے کی تکمیل‘ قرار دیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کو مبارکباد دی۔

لیکن ابھی تک یہ طے نہیں ہوسکا کہ سیکریٹریٹ کا مرکز ملتان ہوگا یا بہاولپور کیونکہ دونوں علاقوں کے حکومتی اراکین اس معاملے پر اپنا موقف برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب سرائیکستان اور بہاولپور صوبہ بحالی تحریک کے رہنماؤں نے سیکریٹریٹ کو ’لالی پاپ' قرار دیا اور علیحدہ صوبوں کا وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ دوہرایا ہے۔

حکومتی اقدامات

پنجاب اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے قانون کی چیئرپرسن زینب عمیر نے اس معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے جنوبی پنجاب کے لوگوں کے بیشتر علاقائی امور اور مسائل حل کرنے کے لیے اس خطے میں ذیلی سیکریٹریٹ قائم کیا، تاہم رولز آف پروسیجر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں تعینات افسران کو واپس بلاناپڑا، لیکن اب ہم نے انتظامی طریقہ کار اور افسران کے اختیارات کو قانونی تفویض کر کے رولز آف پروسیجرز طے کر دیے ہیں۔‘

زینب کے مطابق: ’سیکریٹریٹ کو قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے جتنا بااختیار بنایا جاسکتا تھا وہ بنا دیا گیا ہے، لیکن اسےالگ صوبے کا درجہ نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ابھی صوبہ صرف پنجاب ہے، جس کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہیں اور چیف سیکرٹری انتظامی اور آئی جی پولیس سکیورٹی معاملات کے سربراہ ہیں۔ان کے ماتحت ہی جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ میں تعینات افسران کام کریں گے۔‘

جب چیئرپرسن قائمہ کمیٹی سے پوچھا گیا کہ پہلے تو دو سیکریٹریٹ تھے ایک بہاولپور اور دوسرا ملتان، تو اب کیا طے ہوا ہے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ’ابھی تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا کیونکہ پہلے بھی افسران اور اراکین یہ شکایت کرتے تھے کہ افسران کو دو دو جگہ جانا پڑتا جس سے صورت حال مزید خراب ہو رہی ہے، لیکن ملتان اور بہاولپور کے اراکین اپنے اپنے شہر میں مرکز بنوانے کے لیے بضد ہیں۔‘

زینب کے بقول: ’زیادہ اراکین کی رائے ہے کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کا مرکز بہاولپور میں بنایاجائے تاہم ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک الگ صوبے کے قیام سے متعلق معاہدے کی بات ہے، وہ قیادت کی سطح کا معاملہ ہے اور جو وہ طے کریں گے وہی ہوگا۔‘

کیا سیکریٹریٹ فعال کرنے سے صوبوں کا مطالبہ پورا ہوگیا؟

اس سوال کے جواب میں  بہاولپور صوبہ بحالی تحریک کے بانی اور پنجاب اسمبلی کے سابق ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سید تابش علوری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’وفاقی  وزیر طارق بشیر چیمہ سمیت بہاولپور ڈویژن کی سیاسی قیادت اس مطالبے پر متفق ہے کہ ہماری صوبائی حیثیت کو بحال کیا جائے اور اس کا متبادل سیکریٹریٹ کا قیام ہرگز نہیں۔‘

تابش علوری کے مطابق وہ سرائیکستان صوبے کے مخالف نہیں لیکن انہیں بہاولپور صوبے کی بحالی کے عمل میں ملتان سمیت دیگر سرائیکی اضلاع شامل کرنے میں اعتراض نہیں لیکن اگر سرائیکستان صوبہ بنا کر بہاولپور کو اس میں شامل کیاجاتا ہے تو یہ انہیں قبول نہیں ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور احمد دھریجہ نے کہا کہ ’2018  کے عام انتخابات سے پہلے اس خطے سے علیحدہ صوبہ بنانے کے نام پر نشستیں حاصل کی گئیں اور اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان نے متحدہ جنوبی پنجاب محاذ سے تحریری معاہدہ کیا تھا، جس میں اقتدار سنبھالنے کے پہلے سو دن میں علیحدہ صوبے کے قیام کا وعدہ کیا گیا لیکن تین سال بعد اب سیکریٹریٹ بنا کر لولی پاپ دیا جا رہا ہے جو دراصل علیحدہ صوبہ کی تحریک کو دبانے کی سازش ہے۔‘

ظہور دھریجہ کے خیال میں ’وزیراعلیٰ پنجاب، جن کا تعلق جنوبی پنجاب محاذ سے ہے، وہ غیر موثر سیکریٹریٹ بنا کر علیحدہ صوبے کا وعدہ پورا کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ دراصل وہ ان ہی قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں جو اس خطے کے عوام کو علیحدہ صوبے کے مطالبے سے منحرف کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔‘

سربراہ سرائیکستان کونسل نے کہا: ’ہمارا سوال ہے کہ جب کمشنر، ڈی سی، سی پی اوز اور ڈی پی اوز سمیت دیگر انتظامی افسران موجود ہیں تو آئینی طور پر ایک ذیلی سیکریٹریٹ بنا کر اسے علیحدہ صوبے کا متبادل کیسے کہا جاسکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم اس اعلان کو مسترد کرتے ہیں اور علیحدہ صوبے کے اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔ جب تک اس خطے کے رہائشیوں کو بلوچوں، پختونوں اور سندھیوں کی طرح سرائیکستان بنا کر پہچان نہیں دی جاتی، یہ جدوجہد جاری رہےگی۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے ہر بار انتخابات کے موقع پر سیاسی جماعتیں جنوبی پنجاب صوبے کا وعدہ کرکے ووٹ لینے کے بعد اس عمل میں قانونی مجبوریوں اور اسمبلیوں میں دوتہائی اکثریت نہ ہونے کا کہہ کر خاموش ہوجاتی ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی بھی اپنے اپنے ادوار میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا کارڈ کھیلتی رہی ہیں۔

مگر اس خطے کے صوبہ بننے سے متعلق بڑا مسئلہ بہاولپور اور ملتان کے سیاسی رہنماؤں میں کسی ایک صوبے پر متفق ہونے کی بجائے دو الگ صوبوں کے قیام کا مطالبہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ملکی لیڈر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرکے یہ معاملہ حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ مگر جس طرح وزیراعظم عمران خان نے علیحدہ صوبہ بنانے کا تحریری معاہدہ کیا، اس سے پہلے اس طرح کا حیران کن دعویٰ سیاسی تاریخ میں دکھائی نہیں دیتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست