پنجاب: تین سال، پانچ چیف سیکرٹری، سات آئی جی تبدیل

سابق دور حکومت میں مسلم لیگ ن نے پانچ سالوں میں تین چیف سیکرٹری اور چار آئی جی تبدیل کیے تھے، مگر موجودہ حکومت نے تین سالوں میں ہی یہ ریکارڈ توڑ دیا۔

نئے آئی جی پنجاب راو سردار علی (دائیں) اور چیف سیکرٹریکامران علی افضل (پنجاب سول سیکٹریٹ)

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر ایک بار پھر پنجاب میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی تبدیل کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ کامران علی افضل کو نئے چیف سیکرٹری اور راو سردار علی خان کو نئے آئی تعینات کیا گیا ہے۔

سابق دور حکومت میں مسلم لیگ ن نے پانچ سالوں میں تین چیف سیکرٹری اور چار آئی جی تبدیل کی گئے تھے، مگر موجودہ حکومت نے تین سالوں میں ہی یہ ریکارڈ توڑ دیا۔ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کے حکومت میں آنے کے بعد سے اب تک پنجاب میں پانچ چیف سیکرٹری اور سات آئی جی پولیس تبدیل ہو چکے ہیں۔

تبدیلیوں کے حوالے سے گذشتہ روز ایک بیان میں وزیر اعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ جو کام نہیں کرے گا سے ہٹا دیا جائے گا۔

کئی دن ان تعیناتیوں اور تبدیلیوں پر مشاورت جاری رہی اور ان کے حوالے سے قیاس آرئیاں بھی ہوتی رہیں۔ حکومتی نوٹیفیکیشن کے مطابق سابق چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کو بطور سیکرٹری صنعتی پیداور ٹرانسفر کر کے ان کی جگہ کامران علی افضل کو چیف سیکرٹری پنجاب تعینات کردیا گیا۔ جبکہ سابق آئی جی پنجاب انعام غنی کو آئی جی ریلوے کے عہدے پر ٹرانسفر کر دیا گیا اور ان کی جگہ راو سردار علی خان لیں گے۔

نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کون ہیں؟

کامران علی افضل اس سے پہلے بھی مختلف سرکاری عہدوں پر کام کرچکے ہیں۔ انہیں دسمبر 2020میں بطور وفاقی سیکرٹری خزانہ تعینات کیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مینجمنٹ پر کنٹرول رکھنے والے بیوروکریٹ ہیں۔

اسی طرح پنجاب کے آئی جی تعینات ہونے والے راو سردار علی خان بھی پنجاب پولیس کے سینیئر افسر ہیں۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق راو سردار علی خان 21 فروری 1965 کو لودھراں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے لاہور کی کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا اور25 سال کی عمر میں 1990 میں پولیس سروس جوائن ک۔ی وہ18ویں کامن سے ہیں۔

آئی جی پنجاب اپنی 31 سالہ سروس میں مختلف اہم عہدوں پر تعینات رہے۔ وہ چاروں صوبوں سمیت وفاق میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور اقوام متحدہ مشن میں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

راو سردار علی خان آئی جی پنجاب کے عہدے سے پہلے ایم ڈی سیف سٹیز اتھارٹی، آر پی او بہاولپور اور آر پی او سرگودھا رہ چکے ہیں۔ وہ بطور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب، جوائنٹ ڈی جی انٹیلی جنس بیورو پنجاب، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، سی پی او فیصل آباد بھی  خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور پروفیشنل پولیس افسر کی شہرت رکھتے ہیں۔

ان کے دور میں سیف سٹیز اتھارٹی کا دائرہ کار پنجاب کے دیگر شہروں تک پھیلا اور لاہور پراجیکٹ کو توسیع ملی۔

راو سرار نے ایمرجنسی کیسز میں پولیس رسپانس ٹائم کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے۔

مینار پاکستان پر خاتون کے ساتھ اجتماعی بداخلاقی کیس میں وہ اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ تھے جنہوں نے تحقیق کے بعد رپورٹ دی تھی کہ متاثرہ خاتون سے پولیس حکام نے موقع پر یا اس کے بعد تعاون نہیں کیا۔ ان کی رپورٹ کے بعد لاہور پولیس کے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی آپریشن سمیت کئی افسران کو عہدوں سے بھی ہٹایا گیا تھا۔

تین سال، کئی تبدیلیاں

حکمران جماعت نے تین سال قبل اقتدار سنبھالا تو سب سے پہلے اکبر حسین درانی کو چیف سیکرٹری تعینات کیا گیا۔ چند ماہ بعد انہیں تبدیل کر کے نسیم کھوکھر کو تعینات کردیا گیا۔

پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد انہیں بھی ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ اعظم سلیمان کو چیف سیکرٹری تعینات کیا گیا، لیکن وہ بھی کچھ عرصہ ہی گزار سکے۔ انہیں بھی تبدیل کر کے سینیئر بیوروکریٹ جواد رفیق ملک کو چیف سیکرٹری پنجاب بنایا گیا۔ لیکن چند ماہ بعد ہی ان کی کارکردگی سے بھی حکومت مطمعن نہیں ہوئی اور اب ان کی جگہ کامران علی افضل کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

پنجاب میں پولیس سربراہان بھی تبدیلیوں کی نظر ہوتے رہے۔

حکومت بنتے ہی آئی جی کلیم امام تعینات تھے، تین ماہ بعد انہیں تبدیل کر کے محمد طاہر کو تعینات کیا گیا۔ ایک ماہ بعد انہیں بھی ہٹا دیا گیا اور امجد سلیمی کو عہدہ سونپا گیا۔

تاہم چھ ماہ بعد انہیں بھی ہٹا دیا گیا۔ ان کے بعد عارف نواز کو آئی جی پنجاب کا عہدہ سونپا گیا مگر سات ماہ بعد ہی انہیں ہٹا کر شعیب دستگیر کو یہ عہدہ سونپ دیا گیا۔

نو ماہ تک آئی پنجاب رہنے کے بعد شعیب دستگیر بھی ٹرانسفر کر دیے گئے اور چھٹے آئی جی پنجاب انعام غنی کونو ستمبر 2020 کو پولیس کا صوبائی سربراہ مقرر کردیاگیا۔

وہ بھی بزدار حکومت کو زیادہ مطمعن نہ کر سکے لہذا انہیں بھی عہدے سے تبدیل کر کے سردار علی خان کو تین سالوں میں ساتویں آئی جی پنجاب کا چارج سونپ دیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ کے پاس چیف سیکرٹری اور صوبائی آئی جی کو تبدیل کرنے کا آئینی اور قانونی اختیار ہے اور وہ جب چاہیں انہیں بدل سکتے ہیں۔

ترجمان فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ایک سال میں جواد رفیق ملک نے چیف سیکرٹری اور انعام غنی نے آئی جی کے عہدے پر بہت اچھا کام کیا ہے تاہم مزید بہتری کے لیے وزیر اعلیٰ نے ضروری سمجھا تو تبدیل کر کے نئے افسران تعینات کر دیے۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا بھی دیکھ رہا ہے کہ ڈیڑھ ماہ سے ہائی پروفائل کرائم میں اضافہ ہوا ہے اس کی روک تھام کے لیے تبدیلی ناگزیر سمجھی گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں ترقی کا سفر جاری رہے گا اور عوامی مسائل حل کرنے کے لیے جو بہتر ہوگا وہ اقدامات اٹھائے جاتے رہیں گے۔ 

تبدیلیوں کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی نے کہا کہ چیف سیکرٹری یا آئی جی کی تبدیلی کا اختیار قانونی طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب کو حاصل ہے لیکن ’بار بار اس طرح اعلیٰ افسران اور ضلعی افسران کی بلاوجہ تبدیلی سے بیوروکریسی فرائض میں عدم دلچسپی کا شکار دیکھائی دیتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک بار مکمل چھان بین کر کے اعلیٰ عہدوں پر افسران کو تعینات کر کے انہیں نظام کو سمجھنے اور بہتر کرنے کا موقع دیا جائے۔ جب کوئی افسر اپنی گرپ بناتا ہے تو اسے تبدیل کردیا جاتا ہے۔‘

سلمان غنی کے بقول گذشتہ تین سالوں سے ہی حکومت اور بیوروکریسی میں آئیڈیل روابط دکھائی نہیں دیے جس کی وجہ سے عوام بھی مشکلات کا شکار ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان