12 قدرتی اجزا کے مصالحے والا پشاور کا ’اصلی‘ کابلی پلاؤ

پشاور کی کارخانو مارکیٹ کے ایک مشہور ہوٹل کے افغان باورچی بتاتے ہیں کہ اس ڈش کو گھر میں تیار کرنا آسان نہیں اور وہ خود اسے بنانے کے لیے خصوصی طور پر افغانستان سے مصالحہ منگواتے ہیں۔

قالین، الیکٹرانکس، برتن اور دیگر سامان کے علاوہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کی کارخانو مارکیٹ کی ایک وجہ شہرت وہاں ہر قدم پر ’کابلی پلاؤ‘ کے ریستوران بھی ہیں۔

اس بازار کے ہر کونے میں ’اصلی بابا ولی کابلی پلاؤ‘ کے نام سے ریستوران ہیں جو سیاحوں، خصوصاً نئے آنے والوں کو تذبذب میں ڈال دیتے ہیں۔

یہ ریستوران سیاحوں کو یقین دلاتے ہیں کہ دراصل اصل کابلی پلاؤ کا مرکز ان ہی کی طعام گاہ ہے۔

دو دہائی قبل پشاور میں افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہونے کے سبب مختلف بازاروں میں افغانستان کے کھانے خصوصاً کابلی پلاؤ دستیاب ہوتے تھے لیکن جب افغان پناہ گزینوں کی ایک تعداد واپس اپنے وطن لوٹ گئی تو پشاور میں اصل کابلی پلاؤ نایاب ہوکر رہ گیا۔

پشاور میں افغان پناہ گزینوں کی آمد کے بعد دیگر ہوٹلوں میں ایک نام بابا ولی کا بھی تھا جس کا کابلی پلاؤ کافی مشہور تھا۔

یہی وجہ ہے کہ افغان پناہ گزینوں کے چلے جانے کے بعد کئی ریستوران کا اس نام پر دعویٰ ہے۔

جن افراد نے اصل کابلی پلاؤ کا مزہ چکھا ہے انہیں دھوکہ دینا مشکل ہے کیونکہ انہیں فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ متعلقہ ترکیب معیار کے اصولوں پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔

کابلی پلاؤ بنیادی طور پر ایرانی پکوان ہے اور اس نے ایران کے شاہی باورچی خانوں سے شہرت حاصل کی۔

جب اس کی ترکیب رفتہ رفتہ ہندوستان پہنچی اور مغل دور حکومت میں اس کا ذائقہ ہندوستان کے تمدن کے حساب سے مزید شہرت حاصل کر گیا تو کابلی پلاؤ کی ترکیب لے کر ہندوستان میں دیگر اقسام کے پلاؤ بھی پکائے جانے لگے جیسے کہ بنگالی بریانی، سندھی بریانی، اودھ بریانی وغیرہ۔

ایرانی پلاؤ جب افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچا تو وہاں کے ہوٹلوں میں اس کو بہت پذیرائی ملی اور اس کو ہر دلعزیز کھانوں میں شمار کیا جانے لگا۔

پاکستان میں افغان سرحد کی حدود تک کابلی پلاؤ کا استعمال شادیوں تک بہت تھا لیکن عوام میں اس کا استمعال عام نہیں تھا۔

تاہم جب افغان پناہ گزین پاکستان پہنچے تو انہوں نے اس کو پشاور میں متعارف کروایا جہاں سے یہ اب پنجاب تک پھیل گیا ہے۔ البتہ بہت کم جگہوں میں کابلی پلاؤ کو اصل طریقے سے پکایا جاتا ہے۔

کابلی پلاؤ کی ترکیب

کابلی پلاؤ کو باسمتی اور سیلا چاول دونوں میں پکایا جاتا ہے۔ اس کو تیار کرنے کا طریقہ بتاتے ہوئے افغان باورچی عبداللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس کی ترکیب بہت ہی سادہ ہے، اور اس میں صرف یخنی اور اس کا خصوصی تیار کردہ مصالحہ ہی ڈالا جاتا ہے۔

تاہم ایک سچ یہ بھی ہے کہ یہ ترکیب جس قدر سادہ ہے اس کو اعلیٰ معیار کے مطابق صرف ایک تجربہ کار شخص ہی پکا سکتا ہے۔

باورچی عبداللہ نے کہا کہ کابلی پلاؤ کو گھر میں تیار کرنا آسان نہیں کیونکہ اس پلاؤ میں بچھڑے کا گوشت استمعال ہوتا ہے جو وہ پشاور کے علاقے ہشت نگری سے خصوصی طور پر منگواتے ہیں اور جو ہر جگہ دستیاب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کابلی پلاؤ کی خوشبو اور ذائقہ بڑھانے کے لیے وہ افغانستان سے ایک ایسا مصالحہ منگواتے ہیں جس میں تقریباً 12 قدرتی اجزا شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’کابلی پلاؤ پکانے کا مرحلہ رات دو بجے سے شروع ہوتا ہے۔ سب سے پہلے میں گوشت کو آگ پر چڑھاتا ہوں جو صبح آٹھ بجے تک دھیمی آگ پر پکتا رہتا ہے۔

’گوشت نرم ہونے کے بعد میں اس کی یخنی نکالتا ہوں۔ پھر گوشت کے اوپر چاول ڈالتا ہوں، اس میں مصالحہ، نمک اور حسب ضرورت یخنی ڈالتا ہوں اور اس کو دو گھنٹے کے لیے دم پر رکھتا ہوں۔‘

عبداللہ کا کہنا ہے کہ کابلی پلاؤ بغیر کشمش اور گاجر (میوہ) کے مکمل نہیں ہوتا۔

’پلیٹ میں پلاؤ ڈالنے کے بعد اس کو میوے سے سجایا جاتا ہے، بعض لوگوں کی فرمائش پر اس پر نلی بھی ڈالی جاتی ہے۔

’اس طرح دہی کے ساتھ میوے، نلی اور نرم گوشت کا نوالا اس کا ذائقہ دوبالا کر دیتے ہیں۔ سردیوں میں قہوہ اور گرمیوں میں سوڈا بوتل کابلی پلاؤ کے ساتھ پسند کیا جاتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا