حکومتی سطح پر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی تاریخ

پاکستان حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ایک مرتبہ پھر نہ صرف مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے بلکہ ایک معاہدے کے تحت فریقین نے فائربندی پر آمادگی بھی ظاہر کر دی ہے۔

(یہ مضمون وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ٹی آر ٹی کو دیے گئے انٹرویو کے بعد دو اکتوبر کو شائع کیا گیا تھا، جسے آج دوبارہ شیئر کیا جا رہا ہے۔)


پاکستان حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ایک مرتبہ پھر نہ صرف مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے بلکہ ایک معاہدے کے تحت فریقین نے فائربندی پر آمادگی بھی ظاہر کر دی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حالیہ مذاکرات شروع ہونے کے حوالے سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایک غیرملکی چینل کو دیے انٹرویو میں انکشاف کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے بنض گروہوں کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔

عمران خان نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ مذاکرات کن گروپس کے ساتھ اور کب سے جاری ہیں اور یہ مذاکرات کن شرائط پر کیے جا رہے ہیں۔

لیکن آج پہلے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اور بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ان مذاکرات اور فائربندی کے حوالے سے وضاحت کر دی ہے۔

ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات اور فائربندی کی خبر پر ملک میں کچھ لوگ حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کر رہے ہیں جبکہ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ماضی میں بھی مختلف مواقعوں پر حکومت کی جانب سے شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مذاکرات ہوچکے ہیں جو بعد میں ناکام ثابت ہوئے۔

تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کی جانب سے اس سے پہلے بھی مذاکرات کے حوالے سے ایک موقف اس وقت سامنے آیا تھا جب صدر پاکستان عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کی گئی تھی۔

تحریک طالبان نے اس وقت میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہمارے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے عمران خان کے بیان کے بعد وزیرستان کے بعض مقامی ذرائع سے یہ خبر سامنے آئی کہ تحریک طالبان نے مذاکرات کی وجہ سے 20 دن فائر بندی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ٹی ٹی پی کی جانب سے میڈیا کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی ایک منظم تحریک ہے جو گروپ بندی کا شکار نہیں ہے اور تحریک کی صرف ایک اجتماعی پالیسی ہے۔‘

طالبان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ٹی ٹی پی نے کہیں پر بھی فائر بندی کا اعلان نہیں کیا ہے لہذا ٹی ٹی پی کے مجاہدین جہاں کہیں پر بھی ہوں اپنے عملیات جاری رکھیں۔‘

اب وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مذاکرات کی بات اور فائر بندی کے حوالے سے خبروں سے یہ واضح نہیں ہے کہ عمران خان نے مذاکرات کی بات کس گروپ کے حوالے سے کی ہے ۔

لیکن بعض ذارئع کا دعویٰ ہے کہ وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ نے فائربندی کا اعلان کیا ہے اور شدت پسند تنظیموں کے حوالے سے رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مطابق حافط گل بہادر گروپ کا اب ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ان کا اپنا ایک الگ گروپ ہے۔

 انڈپینڈنٹ اردو نے تجزیہ کاروں کے اس حوالے سے رابطہ کیا ہے اور ان سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ماضی میں حکومت کا شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کتنے سود مند ثابت ہوئے اور ممکنہ طور پر حکومت کون سی شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔

رفعت اللہ اورکزئی تقریباً 15 سال بی بی سی اردو کے ساتھ وابستہ رہے ہیں اور سوات، وزیرستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کے اپریشنز کی کوریج کر چکے ہیں۔

 رفعت اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’حکومتی سطح پر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ یہ 2004 سے چلا آرہا ہے جب حکومت نے اس وقت وزیرستان میں نیک محمد کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن چند مہینوں تک اس معاہدے پر عمل درامد ہوتا رہا لیکن پھر ختم ہو گیا۔‘

رفعت اللہ کے مطابق اس کے بعد 2006 میں ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود کے ساتھ امن معاہدہ ہوا تھا لیکن وہ بھی چند مہینوں بعد ختم ہوگیا اور ٹی ٹی پی نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ اسی طرح ایک معاہدہ 2008 میں اس وقت ہوا تھا جب علی محمد جان اورکزئی خیبر پختونخوا کے گورنر تھے اور ان کے دور میں پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع میں فوج داخل ہوئی تھی۔

رفعت نے بتایا کہ اس معاہدے کے بعد علی محمد جان نے استعفٰی دے دیا تھا اور اس وقت کہا جا رہا تھا کہ گورنر نے استعفٰی مبینہ طور پر اسی وجہ سے دیا ہے کہ حکومت نے معاہدے میں شدت پسند تنظیم کے ساتھ جو وعدے کیے تھے ان کو پورا نہیں کیا گیا اور یوں وہ معاہدہ بھی زیادہ دیر تک نہیں چلا تاہم اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت اس وقت سامنے نہیں آیا تھا۔

رفعت نے بتایا کہ ’اس کے بعد 2009 میں سوات میں ایک معاہدہ اس وقت ہوا تھا جب عوامی نیشنل پارٹی کی صوبے میں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاق میں حکومت تھی۔ وہ معاہدہ کچھ عرصے تک چلتا رہا لیکن سوات ٹی ٹی پی جس کی قیادت اس وقت فضل اللہ کر رہے تھے، معاہدے کی خلاف ورزی کر کے سوات سے ضلع بونیر چلے گئے اور خود کو مزید مضبوط کر لیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’مجھے یاد ہے کہ اس وقت پہلی مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین نے ٹی ٹی پی کے لیے دہشت گرد کا لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اسی طری تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کے ساتھ بھی ایک معاہدہ ہوا تھا لیکن بعد میں صوفی محمد نے پاکستان کے آئین کو ماننے سے انکار کیا تھا اور  کہا کہ وہ پاکستان کے عدالتی نظام کو نہیں مانتے اور یوں وہ معاہدہ بھی ٹوٹ گیا۔‘

تاہم رفعت اللہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ وقت میں ٹی ٹی پی کا مورال بہت بڑھ گیا ہے اور اس کی وجہ افغانسان میں افغان طالبان کی جانب سے حکومت پر قبضہ ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان نے ’جہاد ‘ کی زور پر امریکہ کو افغانستان سے نکال دیا ہے۔

رفعت کے مطابق مضبوطی کی دوسری وجہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے مابین مضبوط رشتہ ہے کیونکہ یہ ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں اور اگر کوئی ٹی ٹی پی کو ختم کرنے کا سوچے گا تو اس کا نقصان افغان طالبان کو بھی ہوگا اور اگر افغان طالبان کو نقصان پہنچے گا تو اس کا اثر ٹی ٹی پی پر بھی ہوگا ۔

رفعت نے بتایا کہ ’ماضی میں مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حکومت اور طالبان دو انتہاوں پر تھے۔ حکومت نے ہمیشہ شدت پسند تنظیموں کو کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالیں اور ریاست پاکستان کے آئین اور قانون کو تسلیم کریں تاہم ٹی ٹی پی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھی۔ ٹی ٹی پی کا یہ موقف رہا ہے کہ اگر وہ ریاست پاکستان کے آئین اور قانون کو تسلیم کرتی تو وہ ہتھیار کیوں اٹھاتے کیونکہ ٹی ٹی پی کے مطابق ان کا مقصد تو اس نظام کو تبدیل کرنا اور شرعی نظام نافذ کرنا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’یہی وجہ ہے کہ زمینی حقائق ہیں کہ ٹی ٹی پی’ شرعی اور اسلامی نظام‘ نافذ کرنے کی بات کرتی ہے اور ریاست پاکستان کے آئین بلکہ جمہوری نظام کو تو وہ مانتے ہی نہیں ہیں۔ تو بڑا سوال یہی ہے کہ ایسے حالات میں مذاکرات کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں اور بظاہر اس کا حل مشکل ہے۔‘

کیا افغان طالبان کی ذریعے یہ مذاکرات ممکن ہیں؟

 اس کے جواب میں رفعت اوکرزئی کا کہنا ہے کہ ’افغان طالبان اس میں ایک بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں تاہم وہ بھی ایک حد تک اس میں جا سکتے ہے کیونکہ افغان طالبان کا فائدہ ٹی ٹی پی کی کامیابی ہے تو وہ ٹی ٹی پی کو ایک حد تک میز پر تو لا سکتے ہے لیکن وہ کس حد تک شرائط ان سے منوا سکتے ہیں یہ مستقبل میں واضح ہوجائے گا۔‘

رفعت کے مطابق حکومت کے لیے اس مذاکراتی عمل میں عوام کی جانب سے رد عمل بھی آنا ہے کیونکہ ٹی ٹی پی کی جانب سے ہزاروں لوگوں کو مارا جا چکا ہے اور عوام میں ان کے خلاف نفرت بھی پائی جاتی ہے۔

رفعت نے بتایا کہ ’کل سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان کے بیان پر بعض حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آرہا ہے تو یہ بھی حکومت کے لیے ایک چیلنج ہوگا کہ وہ سیاسی قیادت کو کیسے اس فیصلے پر آگے لے کر چلیں گے۔ ابھی تک ایسا نہیں لگتا ہے حکمران جماعت نے ملک کی سیاسی قیادت کو اس فیصلے پر اعتماد میں لیا ہے۔‘

مذاکرات کس گروپ کے ساتھ ہو رہے ہیں؟

رسول داوڑ کا تعلق وزیرستان سے ہے اور وہ جیو نیوز کے ساتھ پشاور میں منسلک ہیں۔ رسول داوڑ گزشتہ 12 سال سے وزیرستان سمیت مختلف علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے حوالے سے رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ داواڑ نے بتایا کہ ان کے معلومات کے مطابق حکومت کے مذکرات شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ سے ہو رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ حافظ گل بہادر کا اب ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اپنا ایک الگ گروپ ’شوریٰ مجاہدین شمالی وزیرستان‘ کے نام سے چلاتے ہیں جو اتنا مضبوط نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس گروپ کو ’پرو گورنمنٹ ‘ سمجھا جاتا ہے اور یہ وزیرستان میں اتنا فعال نہیں ہے اور نہ وہاں پر کارروائیاں کرتا ہے۔

رسول داوڑ نے بتایا کہ ’جہاں تک ٹی ٹی پی کی بات ہے تو وہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے۔ اور ٹی ٹی پی ذرائع کے مطابق وہ مذاکرات کے لیے اس لیے تیار نہیں ہے کہ ماضی میں جب بھی مذاکرات کی بات کی گئی ہے تو اس کے بعد ان کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا ہے اور اب بھی ٹی ٹی پی کا یہی خوف ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا ایک اور آپریشن کو دعوت دینا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

داوڑ نے بتایا کہ ’ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات شروع نہ ہونے کی ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ فائربندی کی خبر آنے کے بعد وزیرستان میں تقریبا پانچ دہشت گرد کارروائیاں ہوئی ہیں۔ تو اس کا مطلب یہی ہے کہ حافظ گل بہادر گروپ نے فائنر بندی کا اعلان تو کیا ہے لیکن ٹی ٹی پی اب بھی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

رفعت اورکزئی کا کہنا ہے کہ ’طالبان کی مذاکرات کے لیے سخت شرائط حکومت کو قابل قبول نہیں ہوں گی، یہی مسئلہ 2014 میں بھی آیا تھا اور قبائلی اضلاع میں سرگرم ٹی ٹی پی کی سخت شرائط اور مختلف دھڑے بھی مذاکرات کی ناکامی کی ایک وجہ تھے۔‘

حکومت نے 2014 میں جب ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے تو یہی مسئلہ سامنے آرہا تھا کہ ٹی ٹی پی شرعی نظام نافذ کرنے کی بات کرتی تھی۔

اس کا اظہار فروری 2014 میں اس وقت طالبان کی جانب سے بنی کمیٹی جس میں مولانا سمیع الحق، لال مسجد کے مولانا عبد العزیز اور پروفسیر ابراہیم شامل تھے۔ کمیٹی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ٹی ٹی پی شرعی نظام کے مطالبے کے بغیر ایک فیصد بھی مذاکرات کے حق میں نہیں ہے۔

مولانا سمیع الحق نے اس وقت بتایا تھا کہ ’شرعی نفاظ نافذ کرنے کے بغیر شاید کچھ دھڑے مان بھی جائیں لیکن بعض دھڑے اس کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے اور مذکرات کامیاب نہیں ہوں گے۔‘

سید عرفان اشرف پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں پروفیسر ہیں اور پاکستان میں شدت پسندی کے موضوعات پر مختلف مقاملے لکھ چکے ہیں۔ عرفان اشرف سے جب پوچھا گیا کہ ماضی میں ہمیشہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے، تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا اس میں ریاست کی کچھ پالیسیوں کا عمل دخل بھی ہے جس کی وجہ سے شدت پسند تنظیمیں اتنی مضبوط ہیں کہ ریاست ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے اور اب ان کے ساتھ مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دوسری وجہ شرائط کی بھی ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے بہت سخت شرائط سامنےآتی ہیں جس کی وجہ سے حکومت ان شرائط کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی اور یوں مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں اور ملٹری آپریشن شروع کیا جاتا ہے جیسا کہ ماضی میں بھی ہو چکا ہے۔

عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ابھی نہ طالبان اور نہ حکومت نے مذاکرات کی بات شروع کی تھی لیکن یہ دباو یا تجویز افغان طالبان کی جانب سے دی گئی ہے کہ حکومت پاکستان ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کرے لیکن پاکستان یہی چاہتا ہے کہ ٹی ٹی پی اسلحہ رکھ کر پر امن طریقے سے پاکستان میں رہے لیکن ٹی ٹی پی اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان