حکومت کی نیب آرڈیننس میں ترامیم متنازع کیوں بن گئی ہیں؟

نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل راجہ عامر عباس کہتے ہیں کہ احتساب کے قانون میں پہلے سے ’مقدس گائیں‘ موجود تھیں، جن کی تعداد میں اس آرڈیننس کے ذریعے اضافہ کر دیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے تحریک انصاف حکومت کی جانب سے نیب قوانین میں مذکورہ ترامیم کو رد کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے (اے ایف پی)

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون میں ترامیم پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

بعض کا خیال ہے کہ نیب (دوسرا ترمیمی) آرڈیننس 2021 کا مقصد حکومت کی جانب سے قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کو عہدے پر برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔

نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل اور ماہر قانون عرفان قادر کے خیال میں مذکورہ آرڈیننس ایک ’بھونڈا قانون‘ ہے، جس سے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے ارادے کھل کر سامنے آ جائیں گے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان قادر نے کہا کہ نئے نیب چیئرمین کی تعیناتی کا عمل ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا اور حکومت نے ترامیم کر دیں، جس سے ان کے عزائم کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

عرفان قادر کا کہنا تھا: ’کسی مخصوص قائد حزب اختلاف سے اس سلسلے میں مشاورت نہ کرنے کی حکومتی منطق بالکل ہی نرالی ہے۔‘

نیب کے سابق سپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق کے مطابق مذکورہ ترامیم واضح طور پر ’شخصی مقاصد‘ کے لیے لائی گئی ہیں، جس کے باعث اس اقدام سے آرڈیننس کی ’نیک نیتی‘ پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔

 

واضح رہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت آٹھ اکتوبر کو ختم ہوئی، جبکہ نئے آرڈیننس کے تحت ان کی ملازمت میں توسیع کو ممکن بنانے کے علاوہ حکومت اور حزب اختلاف میں ان کے پیش رو سے متعلق مشاورت کے بعد اتفاق نہ ہونے تک وہ کام جاری رکھیں گے۔

عمران شفیق نے ایک دلچسپ نقطے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’عین ممکن ہے کہ حکومت نئے آرڈیننس کے تحت موجودہ چیئرمین کو توسیع دلوا دے اور ترامیم کو ختم ہونے دے۔ ایسے میں چیئرمین بھی ان کی مرضی کا رہے گا اور پرانا قانون بھی واپس آ جائے گا۔‘

یاد رہے کہ صدارتی آرڈیننس کی عمر ایک سو 20 دن ہوتی ہے، جبکہ اسے دوبارہ ایک مرتبہ لاگو کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اس کے بعد اسے پارلیمان کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا پڑتا ہے، بصورت دیگر ایسا قانون خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔

عمران شفیق نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان سے اس آرڈیننس کی منظوری نہ ہونے کی صورت میں پہلا والا قانون واپس بحال ہو جائے گا، لیکن اس وقت تک حکومت اپنا من پسند چیئرمین اور احتساب جج لگا چکی ہو گی۔

’اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد حکومت اپنی پرانی ڈگر پر چل پڑے گی اور ایسا 2019 میں بھی ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ترامیمی آرڈیننس کو ایکٹ بنا کر نیب کی ’شتر بے مہار‘ کارروائیوں کو لگام دینے کی ضرورت ‏ہے اور چیئرمین کی دوبارہ تعیناتی والی شق کو چھوڑ کر یہ ترامیم بہتری کی جانب ایک قدم قرار دی جا سکتی ہیں۔

زر ضمانت

نیب (دوسرا ترمیمی) آرڈیننس کے تحت احتساب عدالت کو ضمانت دینے کا حق دیا گیا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے زر ضمانت ملزم پر خرد برد کے الزام میں درج رقم کے برابر رکھی گئی ہے۔

قانونی ماہرین اس شق کی تشریح کچھ یوں کرتے ہیں کہ اگر کسی ملزم پر دو ارب روپے کی کرپشن یا خرد برد کا الزام ہے تو زر ضمانت بھی دو ارب روپے ہی ہو گی۔

عرفان قادر نے اس حصے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ قتل کے مقدمے میں بھی عدالت ایک معقول رقم زر ضمانت کے طور پر مقرر کرتی ہے، تو احتساب عدالت کیسے کسی سے اربوں کا مطالبہ کر سکتی ہے۔  

تجزیہ کار اور صحافی نجم سیٹھی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’اس شق سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ احتساب عدالت سے کسی کو ضمانت ملے گی ہی نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم عمران شفیق نے احتساب عدالتوں کو ضمانت دینے کا اختیار دینے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاری کے بجائے ملزم کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر ڈال کر وہی مقصد حاصل کیا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے لیے گرفتاری کی معقول وجوہات پیش کرنے کی شرط سے کئی بے قصور سلاخوں کے پیچھے جانے سے بچ جائیں گے۔

جبکہ عرفان قادر کہتے ہیں کہ کسی ملزم کی کرپشن یا خرد برد سے متعلق نیب کا اندازہ غلط بھی ہو سکتا ہے، تو ایسے میں زرضمانت کا تعین اس غلط اندازے کی بنیاد پر ہو گا۔

’مقدس گائیں‘

نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل راجہ عامر عباس کہتے ہیں کہ احتساب کے قانون میں پہلے سے ’مقدس گائیں‘ موجود تھیں، جن کی تعداد میں اس آرڈیننس کے ذریعے اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ کابینہ، ای سی سی، اور دوسری کمیٹیوں اور فورمز کو نیب کے دائرہ اختیار سے خارج کر کے حکومتی عہدیداروں کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

راجہ عامر عباس نے مزید کہا کہ اب نیب صرف سرکاری افسران کے خلاف مقدمات قائم کر سکے گی، جبکہ اہم لوگ بشمول وزیر اعظم، وزرا اعلیٰ اور وفاقی و صوبائی وزرا احتساب سے مستثنی ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے معاملات کو اس آرڈیننس میں تحفظ دے کر کاروباری برادری کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ اکثر حکومتیں بڑے کاروباروں کو مراعات ایس آر اوز کے ذریعے ہی دیتی ہیں، اور ایسے کاموں کے پیچھے اکثر سیاسی شخصیات ہوتی ہیں۔

اسی طرح انہوں نے نجی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو احتساب کے قانون سے استثنی دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ادارے عام شہریوں سے پیسے ہڑپ لیتے ہیں تو انہیں ہم کیسے باہر نکال سکتے ہیں۔‘

چیئرمین کی تعیناتی 

عمران شفیق کے خیال میں چیئرمین نیب کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی مثبت قدم ہے، کیونکہ پہلے طریقے میں دیڈ لاک کا امکان موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ نئے آرڈیننس کے تحت 12 رکنی پارلیمانی کمیشن کو چیئرمین نیب کے نام کا فیصلہ کرنے کا اختیار دینے سے اس عمل میں شفافیت آئے گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت کا اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مشاورت سے انکار بے معنی ہے کیونکہ حزب اختلاف کی جانب سے پارلیمانی کمیشن کو نام اپوزیشن لیڈر نے ہی دینے ہیں۔

راجہ عامرعباس سمجھتے ہیں کہ پارلیمانی کمیشن میں بھی ڈیڈ لاک پیدا ہو سکتا ہے اور اسی لیے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی میں اختلاف کی صورت میں معاملہ سپریم کورٹ کو بھیجا جاتا ہے۔

’اس آرڈیننس میں پارلیمانی کمیشن میں ڈیڈ لاک کی صورت میں کوئی حل نہیں دکھایا گیا ہے۔‘

حزب اختلاف کا موقف 

حزب اختلاف کی جماعتوں نے تحریک انصاف حکومت کی جانب سے نیب قوانین میں مذکورہ ترامیم کو رد کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

تاہم راجہ عامرعباس کے خیال میں اس آرڈیننس میں کئی ساری ترامیم ایسی ہیں جن کا مطالبہ ماضی میں حزب اختلاف کی جمارتیں کرتی رہی ہیں۔

کون کون بچ سکتا ہے؟

اس حوالے سے نیب کے سابق سپیشل پراسیکیوٹرعمران شفیق کہتے ہیں کہ اس وقت احتساب عدالتوں میں تین اقسام کے مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں اختیارات کے ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثوں اور نجی کاروبار سے متعلق کیسز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے آرڈیننس کی وجہ سے آمدن سے زائد اثاثہ جات کے مقدمات میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن اور سابق صدر آصف علی زرداری کو کوئی ریلیف نہیں مل سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق مقدمات میں وفاقی و صوبائی کابینہ اور دوسرے حکومتی یا سرکاری فورمز پر کیے گئے فیصلوں کو استثنی حاصل ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کو سپورٹس کمپلیکس کے مقدمے میں فائدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کیس میں فیصلہ سازی کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

اسی طرح سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی ٹرمینلز سے متعلق مقدمات میں فائدہ مل سکتا ہے، تاہم ان پر منی لانڈرنگ کا اضافی الزام بھی ہے جس میں انہیں کوئی ریلیف نہیں مل سکے گا۔

عمران شفیق کے خیال میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کو بعض کیسز میں اس آرڈیننس سے جزوی فائدہ مل سکتا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے خلاف الزامات میں نیب کی جوریسڈیکشن کو چیلنج کیا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نجی کاروبار کو ملنے والے استثنی کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کو ریلیف ملنا ممکن ہو سکتا ہے کیونکہ ان پر پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں گھپلوں کے الزامات ہیں۔

نیب (دوسرا ترمیمی) آرڈیننس 2021

نئے آرڈیننس کے تحت احتساب کے قانون میں کی گئیں چیدہ چیدہ ترامیم:  

1۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ٹیکسوں، لیویز اور ٹیکس سے متعلق خزانے کو نقصان کے معاملات پر آرڈیننس لاگو نہیں ہوگا۔

2۔ آرڈیننس کا اطلاق وفاقی و صوبائی کابینہ، کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کے فیصلوں پر نہیں ہوگا۔

3۔ مشترکہ مفادات کونسل، ایکنک، این ایف سی، سی ڈی ڈبلیو پی، سٹیٹ بینک کے فیصلوں پر بھی آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

4۔ صدر مملکت اور چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت سے احتساب عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

5۔ چیف جسٹس کی مشاورت کے بعد احتساب عدالت کا جج تعینات کیا جائے گا جس کی عمر 68 سال سے زائد نہ ہو گی۔

6۔ احتساب عدالت کے جج کی تعیناتی کی مدت تین سال ہوگی۔

7۔ چیف جسٹس کی مشاورت سے صدر مملکت کو احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کا اختیار حاصل ہوگا۔

8۔ آرڈیننس کے تحت صدر مملکت، قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے چیئرمین نیب تعینات کریں گے۔

9۔ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف میں اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں صدر مملکت تمام نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے۔

10۔ سپیکر قومی اسمبلی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی کریں گے، 50 فیصد حکومتی ممبران، 50 فیصد ممبران اپوزیشن سے ہوں گے۔

11۔ آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کے عہدے کی مدت چار سال ہوگی۔

12۔ چیئرمین نیب کو ہٹانے کا طریقہ کار آرٹیکل 209 میں دیے گئے سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے طریقہ کار جیسا ہوگا۔

13۔ آرڈیننس کے تحت چار سالہ مدت کے خاتمے پر عہدہ پر فائز چیئرمین نیب کو دوبارہ چار سال کے لیے تعینات کیا جا سکے گا۔

14۔ سبکدوش ہونے والے چیئرمین اس آرڈیننس کے تحت نئے چیئرمین کی تعیناتی تک اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

15۔ 1999  کے نیب آرڈیننس میں نئے سیکشن 31 ڈی ڈی کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

16۔ گورنر سٹیٹ بینک کی منظوری کے بغیر کسی بھی بینک کے بورڈ یا مالیاتی ادارے کے خلاف انکوائری، تفتیش یا کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست