نیب چیئرمین نئی تعیناتی ہونے تک کام جاری رکھیں گے: آرڈیننس

آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کو ہٹانے کا طریقہ کار آرٹیکل 209 میں دیے گئے سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے طریقہ کار جیسا ہوگا۔

اسلام آباد میں واقع قومی احتساب بیورو کا مرکزی دفتر جسے  موجودہ چیئرمین نیب ،ترمیمی آرڈیننس 2021 کےجاری ہونے کے بعد مزید کچھ عرصہ استعمال کریں گے (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

قومی احتساب بیورو (نیب) کا ترمیمی آرڈیننس 2021 وفاقی کابینہ کی منظوری اور صدر مملکت پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے دستخط کے بعد نافذالعمل ہو گیا ہے۔

 اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بطور چیئرمین نیب اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے کے باوجود نئے چیئرمین کے تعینات ہونے تک موجودہ عہدے پر برقرار رہیں گے۔

نیب ترمیمی آرڈیننس کی تفصیلات

آرڈیننس کی مدد سے 1999 کے آرڈیننس کے سیکشن چار میں ترمیم کی گئی ہے۔

  • وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ٹیکسوں، لیویز اور ٹیکس سے متعلق خزانے کو نقصان کے معاملات پر آرڈیننس لاگو نہیں ہوگا۔
  • آرڈیننس کا اطلاق وفاقی و صوبائی کابینہ، کمیٹیوں، ذیلی کمیٹیوں کے فیصلوں پر نہیں ہوگا۔
  • مشترکہ مفادات کونسل، ایکنک، این ایف سی، سی ڈی ڈبلیو پی، سٹیٹ بینک کے فیصلوں پر بھی آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

آرڈیننس کی مدد سے 1999  کے آرڈیننس کے سیکشن پانچ میں بھی ترمیم کی گئی۔

  • صدر مملکت اور چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت سے احتساب عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
  • چیف جسٹس کی مشاورت کے بعد احتساب عدالت کا جج تعینات کیا جائے گا جس کی عمر 68 سال سے زائد نہ ہو گی۔
  • احتساب عدالت جج کی تعیناتی کی مدت تین سال ہوگی۔
  • چیف جسٹس کی مشاورت سے صدر مملکت کو احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کا اختیار حاصل ہوگا۔

آرڈیننس کے تحت 1999 کے آرڈیننس کے سیکشن چھ میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔

  • آرڈیننس کے تحت صدرمملکت، قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے چیئرمین نیب تعینات کریں گے۔
  • قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف میں اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں صدر مملکت تمام نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے۔
  • سپیکر قومی اسمبلی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی کریں گے، 50 فیصد ممبران حکومت، 50 فیصد ممبران اپوزیشن سے ہوں گے۔
  • آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کے عہدے کی مدت چار سال ہوگی۔
  • چیئرمین نیب کو ہٹانے کا طریقہ کار آرٹیکل 209 میں دیے گئے سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے طریقہ کار جیسا ہوگا۔
  • آرڈیننس کے تحت چار سالہ مدت کے خاتمے پر برسر عہدہ چیئرمین نیب کو دوبارہ چار سال کے لیے تعینات کیا جا سکے گا۔
  • سبکدوش ہونے والے چیئرمین اس آرڈیننس کے تحت نئے چیئرمین کی تعیناتی تک اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
  • 1999 کے نیب آرڈیننس میں نئے سیکشن 31 ڈی ڈی کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
  • گورنرسٹیٹ بینک کی منظوری کے بغیر کسی بھی بینک کے بورڈ یا مالیاتی ادارے کے خلاف انکوائری، تفتیش یا کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکے گی۔

موجودہ چیئرمین نیب کو کتنے عرصے کی توسیع دی گئی؟

آرڈینیس میں مدت کا تعین نہیں کیا گیا ہے بلکہ موجودہ چیئرمین نیب کو تحفظ دیا گیا ہے جب تک نئے چیئرمین نیب کا تقرر نہیں ہو جاتا تب تک جاوید اقبال ہی چیئرمین نیب کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

اس عہدے کی مدت چار سال ہے اور نیب آرڈیننس 1999 شق بی کے مطابق عہدے کی مدت معیاد بڑھائی نہیں جا سکتی۔ اس لیے نئے آرڈیننس میں متعلقہ شق میں ترمیم کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ آٹھ اکتوبر 2017 کو چیئرمین نیب جاوید اقبال کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا۔

قانونی ماہرین کے مطابق آرڈیننس میں ’ناقابل توسیع‘ کا لفظ خذف ہونے کا مطلب ہے کہ اب عہدہ مدت کی قید سے آزاد ہے۔

آرڈیننس میں تین ماہ بعد توسیع ہو جائے گی اگر تب تک عہدے کے لیے کسی نام پر اتفاق نہیں ہوا تو موجودہ چیئرمین ہی برقرار رہیں گے۔

کیا آرڈیننس چیلنج ہو سکتا ہے؟

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس چیلنج ہوسکتا ہےاور متعلقہ فورم سپریم کورٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ علم نہیں کہ حزب اختلاف اس کو چیلنج کرے گی یا نہیں، اگر چیلنج کردیا تو معاملہ طوالت پکڑلے گا۔

 ترمیم میں بہت کچھ ہے: فواد چوہدری

چئیرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مشترکہ پریس بریفنگ کی جس میں فواد چوہدری نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری ایک ضمنی چیز ہے ترمیمی آرڈیننس میں بہت کچھ ہے۔

ان کے مطابق: ترمیم میں ٹیکسیشن کے معاملے کو ایف بی آر بھیجا جا رہا ہے۔ ٹیکسیشن کا معاملہ نیب کے دائرہ اختیار سے نکالا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فواد چوہدری نے کہا کہ بیوروکریسی کے حوالے سے آرڈیننس میں حزب اختلاف نے ہم سے بہت بڑی سیاست کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی پر حزب اختلاف سے مشاورت ہوسکتی ہے لیکن شہباز شریف سے مشاورت نہیں ہوسکتی۔

ان کے مطابق: ’پتا نہیں کچھ لوگوں کی کیوں خواہش ہے کہ ہم چور سے پوچھ کر تھانیدار لگائیں۔‘

تاہم شہباز شریف اب تک قائد حزب اختلاف کے عہدے کے اہل ہیں اور ان پر مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں انہیں اب تک قصوروار قرار نہیں دیا جا سکا ہے۔

وزیر قانون فروغ نسیم کا قانونی نقطہ

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ چیرمین نیب کی تعیناتی پر مشاورت وزیراعظم نہیں صدر کریں گے۔ مشاورت پر اتفاق رائے نہیں ہوتا تو ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے گی۔

ان کے مطابق چھ رکنی پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کی نمائندگی بھی ہوگی۔ جبکہ چیئرمین نیب کو ہٹانے کا فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ترمیمی آرڈیننس میں پراسیکیوٹر جنرل کے کردار کو بڑھا رہےہیں۔ چیرمین نیب پراسیکیوٹر جنرل سے آزادانہ رائے لیں گے۔ پراسیکیوٹر جنرل چیئرمین کو بتائے گا کونسا مقدمہ چلانا چاہیے اور کونسا نہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری رہنمائی کی۔ ضمانت کا اختیار اب ماتحت عدالت کے پاس ہوگا۔

والنٹری ریٹرن کرنے والے کو بھی پلی بارگین کرنے والوں کی طرح نااہل کر دیا جائے گا۔

چیئرمین نیب کی عہدے پر توسیع غیر قانونی ہے: مریم نواز

چیئرمین نیب کے عہدے کی توسیع کے حوالے سے مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’چیئرمین نیب کی توسیع غیر قانونی ہے، امید ہے کہ چیئرمین نیب کی توسیع عدالت سے مسترد ہو جائے گی، چیئرمین نیب ریفرنس دائر کرنے سے پہلے مشاورت کرتا ہے، ہمارے کیس میں ایسابالکل بھی نہیں ہوا، کیونکہ آرڈر اوپر سے تھا، روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی گئی، میڈیا پر بہت دباؤ ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان