سانحہ کارساز: ’اندھیرے میں چیخ پکار تھی، قیامت کا منظر تھا‘

کراچی کی تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک سانحہ کارساز کو 14 برس بیت گئے ہیں مگر علی محمد بلوچ کو بےنظیر بھٹو کی وطن واپسی کا دن ایسے یاد ہے جیسے کل کی ہی بات ہو۔

علی محمد بلوچ 20 اکتوبر 2007 کو روزنامہ ایکسپریس میں چھپنے والی تصویر  دکھاتے ہوئے، جس میں وہ دیگر زخمیوں کی مدد کر رہے ہیں (تصاویر: امرگُرڑو)

’ہمارے علاقے سے پارٹی کارکنان کے کئی قافلے روانہ ہونے تھے، مگر ان قافلوں کے نکلنے میں دیر تھی اور مجھ سے صبر نہیں ہورہا تھا تو میں پہلے ہی ایئرپورٹ چلا گیا۔ مجھے پورا یقین تھا کہ اب بے نظیر واپس آگئی ہیں اور اب ہر فرد کو روزگار ملے گا۔ اس لیے میں ان کو دیکھنے کے لیے بے چین ہورہا تھا۔‘ 

کراچی کی تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک سانحہ کارساز کو 14 برس بیت گئے ہیں مگر علی محمد بلوچ کو 18 اکتوبر 2007 کا دن ایسے ہی یاد ہے جیسے کل کی بات ہو۔

پاکستان کی سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو آٹھ سال کی طویل خودساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد جب 18 اکتوبر 2007 کو دوپہر ایک بجکر 45 منٹ پر کراچی پہنچیں تو ان کے استقبال کے لیے ملک بھر سے آنے والے لوگوں کا اتنا بڑا جلوس تھا کہ انہیں کراچی ایئرپورٹ سے کارساز تک پہنچنے میں 10 سے زائد گھنٹے لگے۔ 

جب ان کا جلوس شاہراہ فیصل پر کارساز پل کے قریب پہنچا تو یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے، جن میں 180 سے زائد لوگ مارے گئے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے۔ لاشوں اور زخمیوں کو کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ 

علی محمد بلوچ بھی زخمیوں میں شامل تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس دن بے نظیر بھٹو کے استقبال کے لیے وہ نیا گولی مار کے قریب واقع حاجی مرید گوٹھ سے صبح ہی ایئرپورٹ پہنچ گئے تھے، کیونکہ ان سے صبر نہیں ہو رہا تھا۔

پارٹی کارکنان کے رش کے باعث بےنظیر بھٹو کو ایئرپورٹ سے باہر نکلنے میں کئی گھنٹے لگ گئے۔ جب ان کا قافلہ شاہراہ فیصل پر روانہ ہوا تو دیگر پارٹی کارکنان کی طرح علی محمد بلوچ بھی قافلے میں پیدل چلنے لگے۔

وہ بتاتے ہیں: ’اس قدر رش تھا کہ قافلہ انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا۔ گرمی اور پیدل چلنے کے باعث جیالوں کی حالت خراب تھی مگر اس کے باوجود وہ جذباتی انداز میں نعرے لگارہے تھے۔ ایک عید کا سماں تھا کہ ہماری لیڈر وطن واپس آئی ہے۔ ہر جیالا انتہائی خوش تھا۔ لوگوں نے کہا کہ اب بےنظیر واپس آئی ہیں اب روشنیاں لوٹ آئیں گی۔‘

بےنظیر بھٹو کی ریلی رات 12 بجے کے قریب شاہراہ فیصل پر کارساز کے قریب پہنچی۔ علی محمد بلوچ بتاتے ہیں: ’جب جلوس کارساز پر پہنچا تو بجلی بند تھی، ہرطرف اندھیرا تھا۔ اچانک ایک ہلکے دھماکے کی آواز آئی۔ جلوس میں شامل کچھ لوگوں نے کہا کہ گاڑی کا ٹائر برسٹ ہوا ہے تو کسی نے کہا بجلی کے کھمبے پر لگا پی ایم ٹی پھٹ گیا ہے۔ میں اس وقت بےنظیر بھٹو کی گاڑی سے تقریباً 100 فٹ پیچھے تھا۔ تھوڑی دیر بعد بہت بڑا دھماکا ہوا۔ میری ناف کے پاس والے حصے اور رانوں سے خون بہنے لگا۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اندھیرے میں چیخ پکار تھی۔ ایک قیامت کا منظر تھا۔ اس کے بعد ایمبولینسیں آنا شروع ہوئیں۔ میں نے کئی زخمیوں کو ایمبولینس میں سوار کرایا۔ انسانی اعضا ایسے بکھرے ہوئے۔ میں نے کئی انسانی اعضا اپنی جھولی میں اٹھاکر ایمبولینس میں رکھے۔ ہم سب کارکن بڑے پریشان تھے مگر رات گئے پتہ چلا کہ بےنظیر بھٹو سلامت ہیں۔‘

بعد میں علی محمد بلوچ کو بھی جناح ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کے زخموں کی مرہم پٹی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصے بعد انہیں سندھ حکومت کی جانب سے ایک لاکھ روپے معاوضے کے طور پر دیے گئے تھے۔ ’اس کے بعد بھی معاوضے کی رقم کے کئی اعلانات ہوئے مگر مجھے ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔‘ 

علی محمد بلوچ نے اپنے پاس محفوظ ایک پُرانی فائل سے 20 اکتوبر 2007 کو اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس کے میگزین سیکشن میں چھپنے والی ایک خبر دکھائی جس میں کئی تصاویر میں سے ایک میں وہ پیپلز پارٹی کے جھنڈے والے قمیص پہنے ہوئے ایک زخمی نوجوان کو اٹھائے ہوئے کھڑے ہیں۔ 

50 سالہ علی محمد بلوچ مراز قائد کے نزدیک سیکریٹریٹ چورنگی پر واقع پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی دفتر پیپلز سیکریٹریٹ کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ وہ حاجی مرید گوٹھ میں ایک کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں، جن میں چھوٹی بیٹی تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں اور انہیں ہر دو ہفتے بعد خون لگایا جاتا ہے۔ 

علی محمد بلوچ نے بےنظیر بھٹو کے دستخط سے ان کے نام لکھے ایک خط کی کاپی دکھائی جس میں سابق وزیراعظم نے پارٹی کی لیے ان کی خدمات کو سرہایا۔

وہ بتاتے ہیں: ’کئی بار پارٹی رہنماؤں نے سرکاری نوکری کا آسرہ دیا مگر آج تک کوئی نوکری نہیں ملی۔ کئی رہنماؤں نے وزیراعلیٰ کے نام خطوط لکھ کر دیے مگر پھر بھی نوکری نہ مل سکی۔ انتہائی کسمپرسی والی زندگی گزر رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ 1986 سے پارٹی کے ساتھ ہیں اور ساری زندگی پارٹی کی خدمت کرتے رہے ہیں۔ ’میں کرائے کے گھر میں رہتا ہوں اور کرایہ دینا مشکل ہے۔ میں التجا کرتا ہوں کہ اگر مجھے ایک گھر دیا جائے تو مشکل زندگی میں کچھ آسانی ہوجائے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی