ازبکستان تجارتی دورہ: حکومت نے 40 لاکھ سے زیادہ رقم کہاں خرچ کی؟

رکن قومی اسمبلی شگفتہ جامانی کے سوال پر وفاقی وزارت تجارت کے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ ازبکستان جانے والے پاکستانی مندوبین نے ہوائی سفر کے لیے ٹکٹ اور بیرون ملک رہائش کے اخراجات خود برداشت کیے۔

15 جولائی کو تاشقند میں منعقد پاکستان ازبکستان بزنس فورم میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا خطاب (ریڈیو پاکستان)

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے وسطی ایشیائی ملک ازبکستان کے ساتھ تجارتی روابط کے فروغ کی غرض سے ازبک دارالحکومت تاشقند میں پاک ازبک بزنس فورم کا انعقاد کیا جس پر مجموعی طور پر 40 لاکھ روپے سے زیادہ کا خرچ اٹھا۔ 

قومی اسمبلی میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزارت تجارت کے جمعے کو جمع کیے گئے جواب میں بتایا گیا کہ اس سال جولائی میں منعقدہ مذکورہ فورم میں 101 پاکستانی تاجروں نے شرکت کی، جن کا تعلق ٹیکسٹائل، دوا سازی، پھل، سبزیوں، انجینیئرنگ، سیاحت، تعمیرات، کیمیکلز اور آئی ٹی کے شعبوں کے نامور اداروں سے تھا۔ 

جواب میں مزید کہا گیا کہ بزنس فورم کے دوران پاکستان ازبکستان بزنس کانفرنس کے علاوہ بزنس ٹو بزنس (B2B) اجلاس بھی ہوئے، جن میں پاکستانی مندوبین کے علاوہ ازبک تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ 

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شگفتہ جامانی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا گیا کہ تاشقند میں بزنس فورم کے انعقاد پر قومی خزانے سے مجموعی طور پر 40 لاکھ 80 ہزار روپے خرچ ہوئے، تاہم ازبکستان جانے والے پاکستانی مندوبین نے ہوائی سفر کے لیے ٹکٹ اور بیرون ملک رہائش کے اخراجات خود برداشت کیے۔ 

جواب میں مزید کہا گیا کہ اخراجات کے غیر ملکی جزو میں 17830.90 امریکی ڈالر (قریباً 29 لاکھ روپے) شامل ہیں، جو پاکستان ازبکستان بزنس فورم کے انعقاد پر تاشقند میں خرچ ہوئے۔ 

جواب کے مطابق: ’اس (غیر ملکی جزو) میں فورم کے مقام، ٹرانسپورٹیشن، اور B2B اجلاسوں کے انعقاد کے اخراجات شامل ہیں۔‘ 

جواب میں مزید بتایا گیا کہ اخراجات میں مقامی جزو کا حجم 11 لاکھ 91 ہزار 432 روپے ہے، جو پاکستان ازبکستان بزنس فورم کی پروموشن اور دوسرے متعلقہ مدات پر خرچ ہوئے۔ 

اخراجات کے مقامی جزو کی مزید وضاحت کرتے ہوئے جواب میں کہا گیا کہ اس جزو میں ایک جامع کتابچہ، جس میں اہم تجارتی اعداد و شمار اور پاکستانی غیر ملکی تجارت اور سرمایہ کاری کی تفصیلات کو اجاگر کیا گیا، اور پاکستانی مندوبین کی ازبک ہم منصبوں کے ساتھ رابطوں کی خاطر ایک ڈائریکٹری کی تین تین سو کاپیاں چھاپی گئیں، جو بعد میں کانفرنس اور B2Bاجلاسوں کے شرکا میں تقسیم کی گئیں۔  

اسی طرح مقامی اخراجات کا جزو لوگو، تھیم، بیک ڈراپس، سٹینڈز وغیرہ کی ڈیزائننگ پر بھی خرچ ہوا۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزارت تجارت کے جواب میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان ازبک بزنس فورم میں وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داود نے وفاقی وزارت تجارت کی نمائندگی کی، جب کہ وفاقی سیکریٹری تجارت کے علاوہ دوسرے سینئیر افسران نے بھی شرکت کی۔ 

قومی اسمبلی میں جمع کیے گئے جواب میں کہا گیا کہ پاکستان ازبکستان بزنس فورم میں شامل ہونے والے پاکستانی مندوبین کا تعلق پاکستان کے معروف تجارتی اداروں سے تھا، جن میں ایف پی سی سی آئی، ایف سی سی آئی، جی سی سی آئی، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، ایپٹما، ری ایپ، اے پی ایف وی ای اے شامل تھے۔ 

جواب میں مزید کہا گیا کہ دورے کے دوران ازبک پاک ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کو حتمی شکل دی گئی اور اس پر دستخط بھی کیے گئے، جب کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داود مشیر نے مشترکہ وزارتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ 

اس کے علاوہ اس دورے کی وجہ سے بزنس کونسل، ترجیحی تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا گیا اور دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا گیا۔ 

وفاقی وزارت تجارت کے جواب میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ مذکورہ تقریبات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کی غرض سے انعقاد کیا گیا، اور ایسے سرگرمیوں سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان آنے والے وقتوں میں تجارتی روابط میں اضافہ ہو گا۔  

جواب میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان ازبکستان بزنس فورم کی وجہ سے دو ہزار سے زیادہ تجارتی ملاقاتیں ہوئیں، جن میں تقریباً پانچ کروڑ امریکی ڈالر کے معاہدات پر دستخط ہوئے، جبکہ 14 ایم او یوز پر بھی دستخط کیے گئے۔ 

اسی طرح دونوں ملکوں کی بیشتر دوا سازی، آئی ٹی، چاول، پھلوں اور سبزیوں، ٹیکسٹائل، لاجسٹکس، کھیلوں کے سامان اور سالٹ سیکٹر کی کمپنیوں نے بھی معاہدات مکمل کیے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان