حیدرآباد کی مشہور حاجی ربڑی کیسے بنتی ہے؟

1948 میں قائم ہونے والی حیدر آباد کی مشہور دکان میں ربڑی کی تیاری کے لیے روزانہ تقریباً 40 سے 50 من خالص دودھ آتا ہے۔

سندھ کے دارالحکومت کراچی کے بعد صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کی رنگ برنگی چوڑیوں اور بمبئی بیکری کے ساتھ حاجی ربڑی کے بھی بڑے چرچے ہیں۔

حیدرآباد کے پکا قلعہ شاہی بازار میں قیام پاکستان کے ایک سال بعد قائم ہونے والی حاجی ربڑی کی دکان کے مالک محمد نوید شیخ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا خاندان بھارتی شہر ریواڑی میں رہتا تھا جہاں ان کے پردادا حاجی بشیرالدین نے یہ ربڑی بنانا شروع کی۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان سندھ کے شہر حیدرآباد آگیا، جہاں 1948 میں پردادا نے یہ دکان قائم کی۔

اپنے دادا اور والد کے بعد محمد نوید شیخ یہ دکان چلانے والی چوتھی پیڑھی سے ہیں۔

ربڑی بنانے کی ترکیب بتاتے ہوئے محمد نوید شیخ نے کہا کہ ربڑی خالص دودھ سے بناتے ہیں، اگر دودھ خالص نہیں ہوا تو ربڑی کا ذائقہ اچھا نہیں بن سکتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’سب سے پہلے ہم خالص دودھ لے کر بڑی کڑاہی میں 15 سے 20 منٹ تک 80 سے 100 ڈگری سیلسیس پر ابالتے ہیں جس کے بعد اس میں شکر ڈالی جاتی ہے۔ ابلنے کے بعد جب دودھ انتہائی گاڑھا ہوجاتا ہے تو اسے پہلے نکال کر ٹھنڈا کیا جاتا ہے جس کے بعد ربڑی کو کولڈ سٹوریج میں رکھتے ہیں جس سے ربڑی کا ذائقہ اور بھی اچھا ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد گاہکوں کو دینے کے لیے دکان پر ربڑی لائی جاتی ہے۔‘

محمد نوید شیخ کے مطابق ان کی دکان پر تین اقسام کی ربڑی ملتی ہے، سادہ ربڑی، پستے والی ربڑی اور شوگرفری ربڑی۔

ان کا کہنا تھا: ’شوگر فری ربڑی میں ہم شکر نہیں ملاتے، خالص دودھ خود میٹھا ہوتا ہے۔ پہلے لوگ ربڑی روائتی مٹی کے برتن میں لے جاتے تھے مگر اب جدید دور میں پلاسٹک کے برتن میں دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اپنے پیاروں کے لیے بیرون ملک ربڑی لے جانا چاہتا ہے تو ہم ٹن پیک میں دیتے ہیں، جس میں ربڑی 15 روز تک خراب نہیں ہوتی۔‘

ان کے مطابق حاجی ربڑی کی دکان پر بکنے والی ربڑی بنانے کے لیے روزانہ تقریباً 40 سے 50 من دودھ آتا ہے۔ حاجی ربڑی کی ایک دکان پکا قلعہ شاہی بازار حیدرآباد جب کہ دوسری برانچ کراچی فیڈرل بی ایریا میں واقع ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا