لاش تو واپس دے دو

افسوس بھارت کی اس لبرل آبادی پر ہے جو سوشل میڈیا پر کشمیریوں سے ہمدردی جتانے کا ڈراما تو کرتی رہتی ہے لیکن جب آواز اٹھانے کی بات ہوتی ہیں تو بغلیں بجانے لگتی ہے۔

حیدرپورہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے کشمیری الطاف احمد کی بیٹی کا ویڈیو پیغام(ویڈیو گریب)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

میں اس وقت ایک کانفرنس میں مشغول تھی جہاں کشمیر کی موجودہ صورت حال پر عالمی سطح کے دانشور، محقق اور سیاست دان اظہار خیال کر رہے تھے۔ مجھے واٹس ایپ پر ایک روتی بلکتی لڑکی کی ویڈیو ملی جو حکومت سے پوچھ رہی تھی کہ میرے والد کو ’جعلی مقابلے‘ میں کیوں مارا؟

وہ کہہ رہی تھی کہ میں نے جب سکیورٹی فورسز سے پوچھا کہ میرے والد کو کیوں مارا تو وہ ہنس رہے تھے۔ ویڈیو دیکھ کر ہر کشمیری کی طرح میں اپنے آنسو نہیں روک پائی اور معذرت کر کے کانفرنس سے باہر نکل آئی۔

سری نگر کے حیدر پورہ میں دو روز پہلے ہونے والے اس خون ریز معرکے کی پوری حقیقت سامنے آئی جس کے بارے میں مقامی پولیس نے پہلے بیان جاری کیا کہ چار ’دہشت گرد‘ ہلاک کیے گئے ہیں۔ بعد میں ہلاک شدہ الطاف احمد کے بارے میں بتایا کہ وہ ہوسکتا ہے کراس فائر میں ہلاک ہوگیا ہو جبکہ ڈاکٹر مدثر گل کو ’دہشت گردوں کا حامی‘ قرار دیا جو اس عمارت میں اپنے عملے سمیت موجود تھے۔

حکومت کے مطابق وہ ایک ’دہشت گرد‘ پاکستانی تھا۔ کسی رپورٹر یا صحافی کو یہ اجازت ہے کہ وہ پتہ لگائے کہ وہ کون تھا، کہاں سے آیا اور ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایئر پورٹ، چند گز کے فاصلے پر پولیس ہیڈ کوارٹرز اور بغل میں سکیورٹی فورسز کے ہمہامہ مرکز کی موجودگی میں ایک پاکستانی عمارت میں کیسے گھس آیا۔

بقول ایک عینی شاہد ’ہندوستان میں آج کل کتنے مسلمانوں کو غائب کیا جا رہا ہے کسی کو بھی پاکستانی کہہ کر آپ ایک کہانی گھڑ سکتے ہیں۔ ایک تیر سے دو مقاصد حاصل ہو رہے ہیں، کشمیریوں کی نسل کشی اور ہندوستانی مسلمانوں سے چھٹکارا۔‘

دوسرے عینی شواہد نے میڈیا کو بتایا کہ اس عمارت میں ہر کوئی اپنے کام میں مصروف تھا کہ سکیورٹی کے چند اہلکار مقامی پوشاک یعنی پھرن پہن کر پہنچ گئے جس کے فورا بعد سکیورٹی کی مختلف اداروں کی گاڑیاں فوجی بھر بھر لے آئیں اور سڑکوں سمیت عمارت کو بند کر دیا۔ ’ہر کوئی اپنی جگہ پر جیسے ساکت ہوگیا اور ہمیں چاروں طرف سے گھیرا گیا۔‘

ہلاک شدہ دکاندار الطاف احمد کی بیٹی کہتی ہیں کہ ’ان کے والد کو دوبار عمارت میں لیجایا گیا اور پھر واپس لایا گیا لیکن تیسری بار ان کو عمارت میں لے جا کر وہیں پر ڈھیر کر دیا گیا۔‘

مقامی میڈیا نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر مدثر نے ان شہریوں کو ہلاک کرنے کے واقعے کو دیکھا تھا جس کی سزا انہیں گولی کے طور پر ملی اور ان کے ملازم کو بھی اس پاداش میں گولی سے اڑایا گیا۔ پھر پولیس نے حسب روایت چاروں ہلاک افراد کو رات کے اندھیرے میں کہیں پر زمین برد کردیا۔

مقامی اخبارات کو سرکاری بیانات کے سوا چھاپنے کی اجازت نہیں اور نہ جائے وقوعہ سے اطلاعات حاصل کرنے کی۔

کشمیر کی بدقسمتی ہے کہ ایک کروڑ آبادی کو علم ہے کہ ان سب کو گولی سے مار دیا جائے گا جس کے لیے روزانہ سکیورٹی فورسز کی مزید کمپنیاں کشمیر پہنچائی جا رہی ہیں مگر اب حالات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ لوگ اب زندہ رہنے کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ صرف لاش واپس دینے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

چودہ پندرہ سال کے بچوں کو بارود میں ہلاک کیا جاتا ہے اور والدین قبریں کھود کر بچوں کی لاشوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھر لواحقین کو انسداد دہشت گردی کے قانون میں جیل بھیج دیا جاتا ہے۔

حیدر پورہ کے معرکے میں ہلاک کیے جانے والوں کے لواحقین بھی پریس کالونی کے سامنے رو رو کر مطالبہ کر رہے ہیں مگر دنیا اور دنیا کی حکومتوں تک یہ آوازیں نہیں پہنچتی ہے۔

افسوس بھارت کی اس لبرل آبادی پر ہے جو سوشل میڈیا پر کشمیریوں سے ہمدردی جتانے کا ڈراما تو کرتی رہتی ہے لیکن جب آواز اٹھانے کی بات ہوتی ہیں تو بغلیں بجانے لگتی ہے۔

یہی حال بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کا ہے جنہوں نے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں حالانکہ ایسے ہی حالات ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں بھی شروع ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وقت قریب ہے کہ بھارت کی دوسری قوموں کو بھی یہی سب کچھ سہنا ہوگا مگر اس وقت شاید کشمیر میں آواز اٹھانے والا کوئی نہیں بچا ہوگا۔

سن 1947 میں برصغیر کے بٹوارے کے دوران جب ہندو مسلم فسادات میں ہزاروں لوگ قتل ہو رہے تھے تو وادی واحد جگہ ہے جہاں ہزاروں ہندوؤں نے مسلمانوں کے گھروں میں پناہ لے لی تھی۔ اس کی خبر ملتے ہی مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ ’صرف کشمیر ہی بچا ہے جہاں سے ایک امید کی کرن نظر آ رہی ہے۔‘ لیکن اسی کشمیر کو اب قبرستان میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

میں نے کشمیر پر ہونے والی عالمی کانفرنس میں حیدر پورہ کے ’جعلی مقابلے‘ کا ذکر تو کیا لیکن کانفرنس میں موجود مندوبین کے لیے یہ محض ایک واقعہ تھا جبکہ میرے لیے یہ میرے جگر میں ایک اور بڑا سوراخ تھا جہاں سے خون ابل رہا تھا۔

میں کہنا چاہتی کہ کشمیری قوم مر رہی ہے، کشمیر کی نئی نسل کو بارود کے ڈھیر میں جلایا جا رہا ہے لیکن برصغیر کے مندوبین چائے کی چسکیوں کے درمیان دوستی کی پینگیں بڑھا رہے تھے۔

میں اس بچی کی ویڈیو بار بار دیکھ رہی تھی جس میں وہ کہہ رہی تھی کہ ’میرے پاپا کو آپ نے مار دیا ان کی لاش تو مجھے واپس دے دو۔‘

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ