یوکرینی طیارہ حادثہ: 10 ایرانی فوجیوں کے خلاف مقدمات کا آغاز

ایران کی ایک فوجی عدالت میں جنوری 2020 میں مار گرائے جانے والے یوکرینی مسافر طیارے کے کیس میں سماعت کا آغاز ہوگیا ہے۔

آٹھ جنوری 2020 کو طیارے  کے حادثے کا منظر (اے ایف پی/فائل)

ایران میں ایک فوجی عدالت نے 2020 میں مار گرائے جانے والے یوکرینی مسافر بردار طیارے کے کیس میں 10 فوجی افسران کے خلاف سماعت کا آغاز کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتوار کو سماعت کا آغاز ہوا جس میں ایرانی فوج کے مختلف عہدیوں پر فائز 10 ملزمان بھی موجود تھے۔

آٹھ جنوری 2020 کو ایرانی فوج نے اپنے فضائی حدود میں یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائنس کی پرواز پی ایس 752 کو ٹیک آف سے کچھ دیر بعد ہی مار گرایا تھا۔ اس حادثے میں 176 افراد مارے گئے، جن میں سے زیادہ تر ایرانی کنیڈین شہری تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے آن لائن اینجسی میزان آن لائن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سماعت صوبہ تہران میں ایک ملیٹری ٹرائبیونل میں ہوئی۔

فوجی عدالت کی سماعت میں متاثرین کے اہل خانہ اور وکلا بھی موجود تھے، جنہوں نے کل ملا کر 103 قانونی شکایات درج کروائی تھیں۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق جج، جن کا نام نہیں دیا گیا، نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ عدالت ’معقول، منصفانہ، شفاف، واضح اور مضبوط‘ طریقہ کار پر مبنی ایک ’فوری اور سنجیدہ‘ فیصلہ سنائے گی۔

عدالت نے  متاثرہ خاندانوں کے وکلا کے بیان سنے اور اعلان کیا کہ اگلی سماعت پراسیکیوٹر کی جانب سے مزید تحقیقات کے بعد رکھی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ارنا کی رپورٹ میں ملزمان کا نام نہیں دیا گیا۔

اتوار کو ہونے والی پہلی عدالتی سماعت طیارے کے مار گرائے جانے کے 22 ماہ (تقریباً دو سال) بعد ہوئی۔

اپریل میں پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ کیس میں 10 ملزمان پر فردجرم عائد کردی گئی ہے۔  

اس سے ایک ماہ قبل ایران نے حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی تھی جس میں حادثے کو انسانی غلطی قرار دیا گیا تھا اور کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، جس کے بعد ایران کو بین الاقوامی برادری سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جنوری 2020 میں طیارے کے کریش کے تین دن بعد تک ایران دعویٰ کرتا رہا کہ اس کا حادثے میں کوئی ہاتھ نہیں تھا، مگر اس سے برعکس ثبوت سامنے آتے رہے۔ آخر کار ایران کو اعتراف کرنا پڑا کہ اس کے پاسداران انقلاب فورس نے غلطی سے یوکرینی طیارے کو دو زمین کی سطح سے ہوا تک مار گرانے والے میزائلئر سے ہٹ کیا تھا۔

عبوری رپورٹس میں ایرانی حکام نے ایک فضائی دفاعی آپریٹر کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ اسے مسافر بردار طیارہ امریکی کروز مزائل لگا۔

یہ حادثہ اسی دن پیش آیا جس دن ایران نے عراق میں امریکی فوجیوں کی ایک بیس پر بلیسٹک مزائل حملہ کیا، جس کا مقصد کچھ دن قبل ہی اعلیٰ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی فضائی حملے میں موت کا بدلہ لینا تھا۔   

پاسداران انقلاب نے عوامی طور پر اس حادثے کے لیے معافی مانگی۔

ایران نے متاثرین کے خاندانوں کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر یا اس کے مترادف یوروز دینے کی پیش کش کی، لیکن کینیڈا، جس کے 55 شہری اور 30 مستقل شہری مارے گئے تھے، نے اصرار کیا کہ وہ جوابات ڈھنڈتا رہے گا اور یقینی بنائے گا کہ ایران اس کی ’مکمل ذمہ داری لے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا