غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ: ’محفوظ فیصلے میں مداخلت نہیں کر سکتے‘

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیلز پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا ہے، لہذا ہائی کورٹ کے محفوظ شدہ فیصلے میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

منگل کو سپریم کورٹ میں میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے ججز اور بیورو کریٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلز کی سماعت کی(تصویر: اے ایف پی)

سپریم کورٹ میں بیوروکریٹس اور ججز کو پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران منگل کو جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے محفوظ فیصلے میں مداخلت سے ہم پر انگلیاں اٹھیں گی اس لیے عدالت یہ مقدمہ نمٹا رہی ہے۔ ازخود نوٹس کا اختیار ہائی کورٹ نے استعمال کیا ہے درخواست گزار ان ہی سے رجوع کریں۔‘

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں منگل کو تین رکنی خصوصی بینچ نے ججز اور بیورو کریٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلز کی سماعت کی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیلز پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا ہے، لہذا ہائی کورٹ کے محفوظ شدہ فیصلے میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے انٹرا کورٹ حکم نامے کے خلاف اپیلیز پہلی سماعت پر ہی نمٹا دیں۔

لیکن متاثرین انٹرا کورٹ فیصلے کے بعد اس کے خلاف اپیل کا حق رکھتے ہیں۔

اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’متاثرین چاہیں تو محفوظ فیصلہ سنائے جانے سے قبل ہائی کورٹ میں اپنی تحریری گزارشات جمع کرا سکتے ہیں۔‘

وکیل ہاؤسنگ سوسائٹی نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے رٹ پٹیشن میں بھی پلاٹس کی الاٹمنٹ کو معطل کر دیا ہے۔

’رٹ پٹیشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کیا ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس ازخود نوٹس کا اختیار نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے ججز بیوروکریٹس کو سرکاری پلاٹس کی الاٹمنٹ سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلز پر فیصلہ محفوظ کر دیا تھا۔

الاٹمنٹ کی کیا پالیسی ہے؟

پلاٹس کی الاٹمنٹ کے معاملے پر سیکریٹری ہاؤسنگ کے مطابق پالیسی یہ ہے کہ صرف وفاقی حکومت کےملازمین کو پلاٹ دیے جائیں گے۔

پالیسی سے صحافیوں، وکلا اور دیگر کو نکال دیا گیا ہے۔ سینیارٹی کا تعین عمر کے حساب سے کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کے روز فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ وفاقی سرکاری ملازم جو پلاٹ لے گا کیا وہ اس کو فروخت کرسکتا ہے؟ اگر فروخت کرسکتا ہے تو پھر تو یہ سرکاری خزانے کا پیسہ پرائیویٹ لوگوں کی جیبوں میں جائے گا۔ ہم ایسے لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی اجازت کیسے دے دیں؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا تھا کہ یا تو یہ پلاٹ مارکیٹ ریٹ پر دیں دوسری صورت میں تو یہ باقی شہریوں سے زیادتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’تین ارب روپیہ سرکاری خزانے سے پرائیویٹ لوگوں کی جیبوں میں چلا جائے گا۔ نچلے گریڈ کے سرکاری ملازمین تو زیادہ ضرورت مند ہیں ان کو کیوں نہ پلاٹ دیے جائیں؟‘

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے مزید کہا تھا کہ پانچ کروڑ کا پلاٹ 40 لاکھ روپے کا دیا جا رہا ہے۔ اس شہر میں لینڈ ایکوزیشن میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ 11 ہزار لوگ 1960 سے انتظار میں ہیں کہ ان کو پلاٹ ملے گا۔ ایک بات واضح کر لیں، ججز اور بیوروکریٹس عوام کی خدمت کے لیے موجود ہیں۔ ہم عوام کو جوابدہ ہیں اور ان ہی کے پیسوں پر یہاں بیٹھے ہیں جب پلاٹ الاٹمنٹ وفاقی حکومت کے ملازمین تک مختص کر دی گئی ہے پھر ججز بھی اس میں نہیں ہیں۔ صرف افسران کی بجائے تمام سرکاری ملازمین کوملنا چاہیے۔‘

یہ کہہ کر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

الاٹمنٹ کے حوالے سے سیاق و سباق؟

واضح رہے کہ رواں ماہ اگست میں فیڈرل ایمپلائز ہاوسنگ سوسائٹی نے اسلام آباد کے سیکٹرز ایف 14 اور15 میں پلاٹس کی قرعہ اندازی کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق 4700 پلاٹس میں سپریم کورٹ کے ججز جس میں چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیا ل اور جسٹس اعجاز الحسن کا نام بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی، سابق جج امیر ہانی مسلم، جسٹس (ر) اعجاز افضل خان، جسٹس (ر) مشیر عالم اور جسٹس (ر) منظور احمد ملک کے نام بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سزا یافتہ جج بھی پلاٹ لینے والوں میں شامل تھے۔

اعلی عدلیہ کے ججز کے علاوہ سابق چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد ارشاد، سابق چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ اور کئی وفاقی سیکریٹریز کے بھی پلاٹ نکلے تھے۔

جبکہ ماضی میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اس سکیم کے دونوں سرکاری پلاٹ لینے سے انکار کر دیا تھا جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے بھی اس سکیم میں حصہ نہیں لیا اس کے علاوہ پلاٹ نہ لینے والے ججز میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحی آفریدی کے نام بھی شامل ہیں۔

ستمبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمین، ججز اور بیوروکریٹس کو وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف 14 اور ایف 15 میں سرکاری پلاٹس کی قرعہ اندازی معطل کردی تھی۔

خیال رہے کہ سرکاری زمینیں اعلی افسران کو کسی قانون کے تحت نہیں بلکہ ایگزیکٹیو کی پالیسیز کے تحت دی جاتی رہی ہیں۔

پرویز مشرف دور میں بنائی گئی پالیسی کے تحت سپریم کورٹ کے جج اسلام آباد میں دو رہائشی پلاٹس حاصل کرنے کے حقدار ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے جج کے لیے ایک پلاٹ ہے۔

لیکن آئین میں ججز کے لیے صرف تنخواہ، پینشن اور سہولتوں کی بات کی گئی ہے۔ گذشتہ برس جسٹس قاضی فائز عیسی پلاٹس سے متعلق مقدمے کے فیصلے میں کہہ چکے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان  کوئی بھی رہائشی پلاٹ یا زرعی زمین لینے کے حقدار نہیں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان